BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 16:52 - 21/07/2003
پاکستان: ایف ایم ریڈیو کا جال
معاشرے پردور رس اثرات مرتب ہوں گے
معاشرے پردور رس اثرات مرتب ہوں گے

تحریر: عدنان عادل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان میں نجی شعبہ میں اٹھائیس نۓ ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کے لائسنس جاری ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ ریڈیو قومی اور بین الاقوامی خبریں اور حالات حاضرہ کے پروگرام صرف سرکاری ریڈیو سے لے کر ہی نشر کر سکیں گے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پمرا) کے
   
  گو پمرا کا قانون ریڈیو چینلوں پر اس قسم کی پابندی عائد نہیں کرتا لیکن جنرل منیجر فیاض حسین کا کہنا ہے کہ پمرا نے فی الحال ان چینلوں کو صرف علاقائی خبریں نشر کرنے کی اجازت دی ہے تاہم وہ کھل کر یہ نہیں بتاتے کہ ایسا کس قانون کے تحت کیا گیا ہے۔  
مطابق اس سال ملک میں دو نۓ ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں نے اپنی نشریات شروع کی ہیں۔ لائسنس کی شرائط کے مطابق چھبیس دوسرے لائسنس یافتہ اسٹیشنوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سال اکتوبر تک اپنی نشریات شروع کردیں۔ اس ماہ پمرا پچیس مزید چینلوں کے لائسنس جاری کرنے والی ہے۔

پاکستان میں اب تک سرکاری ریڈیو کی اجارہ داری رہی ہے اور بے نظیر بھٹو نے اپنی وزارت عظمی کے زمانے میں خصوصی اختیارات کے تحت نجی شعبہ میں صرف ایف ایم ہنڈرڈ ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کی اجازت دی تھی جس نے لاہور ، کراچی اور اسلام آباد سے نشریات شروع کرکے خاصی مقبولیت حاصل کی۔

پمرا کے قانون کے تحت ملک میں کوئی بھی پارٹی نجی شعبہ میں کسی قسم کا ریڈیو اسٹیشن ، ایف ایم ، میڈیم ویو وغیرہ، قائم کرسکتی ہے۔ تاہم ابھی تک صرف ایف ایم ریڈیو کے لیے محدود فریکیوئنسی کے لائسنس دیئے ہیں۔

اسلام آباد میں پاور نائنٹی نائن (ننانوے) کے نام سے اس سال
   
  ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبا پچاس کے قریب ایف ایم ریڈیو کھلنے سے میڈیا کے میدان میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہونے والی ہے کیونکہ خبروں اور حالات حاظرہ پر پابندیاں قانون سے بالا ہوئیں تو عدالتوں میں چیلنج ہونے لگیں گی۔  
مارچ سے ایک نۓ ایف ایم ریڈیو اسٹیشن نے نشریات شروع کردی ہیں جو نتھیا گلی سے جہلم تک کے علاقہ میں سنی جاسکتی ہیں۔ چند ماہ ہوئے سیالکوٹ میں براق کے نام سے نئے ریڈیو اسٹیشن نے کام شروع کیا ہے۔


ایف ایم ننانوے کے ایک ڈائریکٹر نجیب احمد کا کہنا ہے کہ ان کے چینل کو بہت جلد عوامی قبولیت ملی کیونکہ انہوں نے مختلف انداز سے کام شروع کیا اور لوگ جو پرانے چینلوں پر ایک جیسے پاپ گانے سن سن کر اکتا چکے تھے ان کے چینل کی طرف متوجہ ہوئے۔

ایف ایم ننانوے چلانے والی کمپنی کمیونیکیٹر کے پاس وہاڑی اور ایبٹ آباد میں بھی ایف ایم چینل شروع کرنے کا لائسنس ہے۔ نجیب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تربیت یافتہ براڈ کاسٹروں کی کمی ہے اس لیے اسلام آباد میں نۓ لوگوں کی تربیت کرکے ان شہروں میں بھی جلد نشریات شروع کردی جائیں گی۔

پمرا کے جنرل منیجر (لائسنسنگ) سید فیاض حسین کا کہنا ہے کہ اٹھائیس پارٹیوں کو لائنس جاری ہوئے جن میں سے پچیس نے پمرا کے ذریعے فریکیوئنسی ایلوکیشن بورڈ (ایف اے بی) سے فریکیوئنسی حاصل کرلی ہے اور یہ سب پارٹیاں اس سال اکتوبر تک نشریات شروع کرنے کی پابند ہیں۔

پمرا کے فیاض حسین کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کے لوگوں میں
   
  نجی شعبہ کے ریڈیو چینلوں پر پروگراموں کے انتخاب پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس کی وجہ سے ان کو بہت زیادہ موسیقی کے پروگرام نشر کرنا پڑتے ہیں اور بعض اوقات ایک شہر کے دو ریڈیو چینلوں پر ایک ہی وقت میں ایک ہی گلوکار کا گانا سنائی دیتا ہے۔  
ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے میں بہت دلچسپی ہے۔ پہلے مرحلہ میں بڑے شہروں کے لیے لائسنس فیس چار لاکھ تھی لیکن بڑے شہروں میں اتنی زیادہ پارٹیاں امیدوار تھیں اور سب اہلیت کی شرائط پر پورا اترتی تھیں کہ اسلام آباد کے چینل کی نیلامی میں اس لائسنس کی فیس تیس لاکھ تک جا پہنچی ہے۔

پمرا کے جنرل منیجر کے مطابق اتھارٹی نے ہر شہر کے لیے زیادہ سے زیادہ اسٹیشنوں کی تعداد مقرر کی ہوئی ہے۔ چھوٹے شہر کے لیے ایک ایک لائسنس دیا جاتا ہے اور بڑے شہروں جیسے لاہور ، کراچی اور اسلام آباد کے لیے تین سے پانچ لائسنس دیئے گۓ ہیں۔

اس وقت بھی پمرا کے پاس پچیس مختلف شہروں کے لیے ایف ایم چینلوں کے لائسنس کے لئے پچاس کے قریب نئی درخواستیں زیر غور ہیں جن کے لیے نیلامی جولائی کے آخر میں متوقع ہے۔

نجی شعبہ میں ریڈیو چینل کی فریکیوئنسی بڑے شہروں کے لیے تقریبا ساٹھ کلومیٹر کے دائرے کے لیے ہوتی ہے جبکہ چھوٹے علاقوں جیسے چھانگلہ گلی ، مریدکے اورحبکو وغیرہ میں دس سے پندرہ کلومیٹر کی رینج کی فریکیوئنسی دی گئی ہے جس کا تعین پمرا اور فریکیوئنسی بورڈ کرتا ہے۔

نجی شعبہ میں ریڈیو چینلوں کے لائسنس جاری ہونے کے ساتھ ساتھ براڈکاسٹنگ شعبہ کی استعداد میں اضافہ میں مدد دینے کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم انٹر نیوز کے نام سے سامنے آئی ہے جس کے پاکستان کے ڈائریکٹر عدنان رحمت کا کہنا ہے کہ ریڈیو چینل شروع کرنے کی اجازت تو مل گئی ہے لیکن اس پر بہت سی قواعد و ضوابط کی پابندیاں بھی لگا دی گئی ہیں جس سے براڈکاسٹنگ کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے جیسا کہ قانون کے مطابق ایک ریڈیو چینل جب بھی کوئی سامان جیسے کمپیوٹر ، ٹیپ ریکارڈروغیرہ خریدے یا نصب کرے تو وہ پمرا کو مطلع کرے گا اور اس کی فیس ادا کرے گا۔

نجی شعبہ کے ریڈیو چینلوں پر پروگراموں کے انتخاب پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس کی وجہ سے ان کو بہت زیادہ موسیقی کے پروگرام نشر کرنا پڑتے ہیں اور بعض اوقات ایک شہر کے دو ریڈیو چینلوں پر ایک ہی وقت میں ایک ہی گلوکار کا گانا سنائی دیتا ہے۔

ایف ایم ننانوے کے نجیب احمد کا کہنا ہے کہ پمرا نے ایک ضابطہ اخلاق کے تحت ان کے ادارہ پر پابندی لگائی ہوئی ہے کہ وہ اس چینل پر علاقائی خبروں کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی خبریں یا حالات حاضرہ کا اپنا پروگرام نشر نہیں کرسکتے اور صرف سرکاری ریڈیو کی خبریں نشر کرسکتے ہیں اس لیے ان کا چینل قومی خبریں نشر ہی نہیں کرتا بلکہ شام کو ایک گھنٹہ کے لیے اسلام آباد کے علاقائی مسائل کے حوالہ سے ایک پروگرام نشر کرتا ہے۔

گو پمرا کا قانون ریڈیو چینلوں پر اس قسم کی پابندی عائد نہیں کرتا لیکن جنرل منیجر فیاض حسین کا کہنا ہے کہ پمرا نے فی الحال ان چینلوں کو صرف علاقائی خبریں نشر کرنے کی اجازت دی ہے تاہم وہ کھل کر یہ نہیں بتاتے کہ ایسا کس قانون کے تحت کیا گیا ہے کیونکہ ضابطہ اخلاق بھی صرف یہ پابندی لگاتا ہے کہ چینل کوئی ایسی بات نشر نہیں کرسکتا جس سے ملک کے تعلقات کسی دوسرے ملک سے خراب ہوں۔

فیاض حسین کا کہنا ہے کہ ابھی ان چینلوں کو قومی اور بین القوامی خبریں نشر کرنے کا تجربہ نہیں ہے اس لیے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب یہ بالغ ہوجائیں گے تو انہیں اس کی اجازت دے دی جائے گی۔

جب پمرا کے جنرل منیجر سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ریڈیو چینل باہر کے ملکوں سے خبریں لے کر نشر سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت ان چینلوں کو ’لنکیجز‘ بنانے کے لیے حکومت سے تحریری اجازت لینا ہوگی اس کے بغیر یہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ ان کی فریکیوئنسی کی رینج مقامی نوعیت کی ہے۔

خبروں اور حالات حاظرہ کے پروگراموں کے نشر کرنے پر پمرا کی پابندیاں قانون میں بھی واضح طور پر درج نہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ حکومت نے نجی شعبہ میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلوں کے قیام کی اجازت دے تو دی ہے لیکن وہ اس کے سیاسی مضمرات سے خوف زدہ ہے۔

تاہم ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبا پچاس کے قریب ایف ایم ریڈیو کھلنے سے میڈیا کے میدان میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہونے والی ہے کیونکہ خبروں اور حالات حاظرہ پر بھی پابندیاں قانون سے بالا ہوئیں تو عدالتوں میں چیلنج ہونے لگیں گی۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright