|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹر کیلی: کب کیا ہوا
بی بی سی نے کہا ہے کہ عراق کے وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق برطانوی دستاویز میں بعض حقائق کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے متعلق خبر کا بڑا ذریعہ ڈاکٹر کیلی تھے۔ ملاحظہ ہو کہ کب اور کس طرح وہ واقعات ظہور پذیر ہوئے جو ڈاکٹر کیلی کی موت کا سبب بنے۔ مئی انتیس: بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار اینڈریو گیلیگن نے بی بی سی ریڈیو فور کے ٹو ڈے پروگرام میں بتایا کہ ایک سینیئر برطانوی اہلکار نے انہیں بتایا تھا کہ عراق کے متعلق گزشتہ ستمبر کو شائع کی جانے والی دستاویز کو انٹیلیجنس ایجنسیوں کی خواہشات کے برخلاف (سیکسڈ اپ) یا مرچ مسالہ لگا کر پیش کیا گیا تھا۔ جون ایک: گیلیگن نے میل آن سنڈے میں لکھا کہ ٹونی بلیئر کے اطلاعات کے ڈائریکٹر ایلیسٹیئر کیمپبل کے کہنے پر دستاویز میں اس بات کو شامل کیا گیا تھا کہ عراق پینتالیس منٹ کے اندر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بروئے کار لا سکتا ہے۔ جون انیس: گیلیگن نے دارالعوام کی خارجی امور کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے اپنا بیان دہرایا۔ جون پچیس: ایلیسٹیئر کیمپبل نے کمیٹی کے سامنے ان الزامات کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ بی بی سی ان سے معافی مانگے۔ جون ستائیس: بی بی سی نے کہا کہ ہم کبھی معافی نہیں مانگیں گے اور کہا کہ ہم ٹوڈے پروگرام کی رپورٹ پر قائم ہیں۔ کیمپبیل نے کہا کہ بی بی سی کے پاس ’اپنے جھوٹ‘ کا کوئی ثبوت نہیں۔ جون اٹھائیس: کیمپبیل ٹی وی چینل فور پر آئے اور اپنا دفاع کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر بی بی سی سے معافی کا مطالبہ دہرایا۔ جولائی سات: خارجی امور کی کمیٹی کی رپورٹ شائع ہوئی اور اس میں کیمپبیل کو اس الزام سے بری کرتے ہوئے کہا گیا کہ پینتالیس منٹ کی بات کو غیر ضروری اہمیت دی گئی تھی۔ جولائی آٹھ: وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے ایک اہلکار نے (جو بعد میں ڈیوڈ کیلی نکلے) اس بات کو قبول کیا ہے کہ وہ بائیس مئی کو گیلیگن سے ملے تھے اور ان سے عراق سے متعلق دستاویز پر بات کی تھی۔ جولائی پندرہ: ڈاکٹر کیلی نے خارجی امور کی کمیٹی کے سامنے اپنا بیان دیا۔ کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ ان کے خیال میں ڈاکٹر کیلی نے بی بی سی کو خبر نہیں دی تھی۔ کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ وزارتِ دفاع نے ڈاکٹر کیلی کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے۔ جولائی سترہ: گیلیگن کمیٹی کے ایک نجی سیشن میں دوبارہ اس کے سامنے پیش ہوئے۔ بعد میں ان پر تنقید ہوئی کہ انہوں نے اپنے ذرائع کے متعلق نہیں بتایا۔ کمیٹی کے چیئرمین ڈونلڈ اینڈرسن نے ان پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے اپنا بیان بدل لیا ہے۔ جولائی سترہ: ڈاکٹر کیلی تین بجے آکسفورڈشائر میں اپنے گھر سے یہ کہہ کر نکلے کہ وہ واک کے لیئے جا رہے ہیں۔ رات کے گیارہ بج کے پینتالیس منٹ پر ان کے خاندان نے پولیس کو فون کر کے اطلاع دی کہ ڈاکٹر کیلی گھر واپس نہیں آئے۔ جولائی اٹھارہ: پولیس کو دن کے گیارہ بج کر پندرہ منٹ پر ایک نعش ملی جسے پولیس نے ڈاکٹر کیلی سے مشابہ قرار دیا۔ جولائی اٹھارہ: دو بجکر تیس منٹ پر وزیرِ اعظم کے ایک ترجمان نے کہا کہ اگر تصدیق ہو گئی کہ نعش ڈاکٹر کیلی ہی کی ہے تو ایک آزاد عدالتی کمیشن قائم کیا جائے گا جو یہ چھان بین کرے گا کہ ان کی موت کس طرح واقع ہوئی۔ جولائی انیس: پولیس نے یہ تصدیق کر دی کہ نعش ڈاکٹر کیلی ہی کی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا کہ ان کی موت کلائی کی نس کٹنے اور خون بہنے سے ہوئی۔ ان کی خودکشی کے متعلق خبر مشہور ہوئی۔ جولائی بیس: برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران کہا ہے کہ ڈاکٹر کیلی کی موت کے باوجود وہ مستعفی نہیں ہونگے البتہ وہ ہتھیاروں کے معاملے کی تمام تر ذمہ داری قبول کرلیں گے۔ جولائی بیس: بی بی سی کے ڈائریکٹر نیوز رچرڈ سیمبروک نے انکشاف کیا کہ متنازعہ خبر کا بڑا ذریعہ ڈاکٹر کیلی ہی تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||