BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 11:34 - 20/07/2003
مستعفی نہیں ہونگا: بلیئر
وزیراعظم بلییر جنوبی کوریا کے دورے کے دوران
وزیراعظم بلییر جنوبی کوریا کے دورے کے دوران

برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ہتھیاروں کے ماہر ڈاکٹر کیلی کی موت کے باوجود وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے اور اس حوالے سے مستعفی ہونے کی مطلق کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں وزراء اور دیگر اہلکاروں نے جو کچھ کیا ہے اس کی تمام ذمہ داری قبول کر لیں گے تاہم انہوں نے اس سلسلے میں پارلیمان کا اجلاس بلائے جانے کے امکان کو مسترد کر دیا۔

عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں پر برطانوی وزارت دفاع کے مشیر ڈاکٹر ڈیوِڈ کیلی کی پراسرار موت کے نتیجے میں وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور لیبر پارٹی کی ایک سابق وزیر تک نے ڈاکٹر کیلی کی موت کا ذمہ دار ڈاوننگ اسٹریٹ کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم ٹونی بلیئر کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت نے عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار نہ ملنے کے معاملے پر سے توجہ ہٹانے کے لیے بی بی سی سے جنگ کی صورتِ حال کو استعمال کیا۔

انسٹھ سالہ ڈاکٹر کیلی نے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے بی بی سی اور حکومت کے درمیان تنازع اس دستاویز کے متعلق بیان دیا تھا جسے عراق پر حملے کا جواز بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ جعمرات کو گھر سے یہ کہہ کرنکلے تھے کہ وہ سیر کو جارہے ہیں لیکن اس کے بعد وہ پراسرار طور پر غائب ہوگئے اور پھر ان کی نعش ملی۔

پولیس ان کی موت کو بظاہر خود کشی قرار دے رہی تھی اور حکومت نے ان کی موت کے اسباب جاننے کے لئے ایک عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل ٹونی بلیئر نے ڈاکٹر کیلی کی موت پر شدید افسوس کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ مخلص آدمی تھے جنہوں نے ماضی میں برطانیہ کے لئے بہت کچھ کیا تھا اور قوم کو ان کی موت سے نقصان پہنچا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے رہنما آئن ڈنکن سمتھ نے حکومت کی طرف سے عراق کے خلاف جنگ کے معاملے کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن قائم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کافی عرصے سے عراق کے خلاف جنگ کے معاملے کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہی تھی لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومت نے اس وقت اس مطالبے کو قبول کیا جب ڈاکٹر کیلی کی موت کا واقعہ پیش آیا۔

بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت عراق کے خلاف جنگ کے جواز کے بارے میں انکوائری نہیں چاہتی لیکن یہ ایک یقینی امر ہے کہ ڈاکٹر کیلی کی موت کے بارے میں تحقیقات میں حکومت کی طرف سے جنگ کے جواز کے طور پر پیش کی جانے والے دستاویزات بہرحال زیر غور آئیں گی۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright