 |
|
 |
|
| تاریخ توفیصلہ کریگی مگر.. |

بش اور بلیئر ایک بار پھر ساتھ ساتھ
|
تحریر: انور سِن رائے، بی بی سی اردو ڈوٹ کوم
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے تاریخی خطاب کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا:
٭ اگر عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار یا ان کے ہونے کے شواہد نہ بھی ملے تو تاریخ برطانیہ اور امریکہ کو عراق پر حملے کے لئے معاف کردے گی۔
٭بحیرہ اوقیانوس کے دونوں جانب عراق پر حملے کے
 ٹونی بلیئر کا خیر مقدم | اصل مقاصد پر شکوک و شبہات اور تنازعہ پیدا ہونے کے باوجود انہیں صدام حکومت کو ہٹانے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔
٭برطانوی فوجیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ عراق میں تعمیر نوکا کام مکمل ہونے تک وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے۔
٭ امریکہ کو اپنی اقدار پر قائم رہنا چاہیے اور اس بارے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
٭ امریکہ کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ صرف قیادت ہی نہ کرے سنا بھی کرے۔
برطانوی وزیراعظم نے جس طرح امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا اور جس طرح کانگریس کے ارکان نے سترہ بار اٹھ اٹھ کر ان کی تقریر کی مصرع بہ مصرع داد دی اس سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ جیسے برطانوی وزیراعظم نہیں امریکی صدر ہیں۔
اس کے علاوہ اگر انہیں اپنے ملک میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کے حوالے سے کوئی پریشانی و پشیمانی ہے یا ہو سکتی ہے تو اس کا خطاب کے دوران دور دور تک پتا نہیں تھا۔
ابھی تک برطانیہ میں "عذرِ جنگ" کے طور پر پیش کیے جانے والے ہتھیاروں کے بارے میں اطلاعات کے غیر درست استعمال، اطلاعات کے بارے میں مبالغہ آرائی اور درست اطلاعات کی فراہمی کی باتیں ہو رہی ہیں اور یہ نہیں کہا جا رہا کہ "معلومات کی چوری یا جھوٹ" سے کام لیا گیا۔
لیکن اس حوالے سے بی بی سی کے ٹم سباسٹین کو انٹرویو دینے والی ایک امریکی اہلکار نے برطانوی وزیراعظم کی تقریر کے نشر کیے جانے کے بعد دکھائے جانے والے ایک انٹرویو میں صاف صاف کہا کہ اس پر صدر بش کی تقریر لکھنے والوں اور خفیہ اطلاعات فراہم کرنے والوں میں بحث ہوئی تھی اور امریکی خفیہ والوں کا کہنا تھا کہ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ عراق پینتالیس منٹ میں وسیع تباہی کے ہتھیار استعمال کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔
اس پر ان سے کہا گیا کہ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار ہیں تو انہوں نے اس پر بھی آمادگی کا اظہار نہیں کیا، جس کے بعد ان سے کہا گیا کہ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ "برطانیہ کو حاصل خفیہ اطلاعات کے مطابق" تو انہوں نے کہا کہ ہاں ایسا کہا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ٹم سباسٹن سوال کرتے ہیں کہ کیا اس طرح انہوں نے سارا بوجھ برطانویوں پر نہیں ڈال دیا تو اس اہلکار نے کہا "بالکل بری حد تک"
اس کے بعد اگر امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران برطانوی وزیراعظم کے یہ الفاظ دہرائے جائیں: "اگر عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار یا ان کے ہونے کے شواہد نہ بھی ملے تو تاریخ برطانیہ اور امریکہ کو عراق پر حملے کے لئے معاف کردے گی۔" برطانیہ کے ان لوگوں کو خود فیصلہ کر لینا چاہیے کے ان معلومات کو عذرِ جنگ بنانا کس حد تک سچ، غیر گمراہ کن اور ایک برطانوی وزیراعظم کے منصب اور برطانوی جمہوریت کے معیار سے ہم آہنگ ہے۔
جہاں تک صدام کو ہٹانے کے مسئلہ پر عدم پچھتاوے کا معاملہ ہے تو یہ کام تو وہ امریکی فوجی کر رہے ہیں جنہیں یہ کہہ کر عراق بھیجا گیا تھا کہ کچھ ہی دنوں کی بات ہے اور وہ ایسے حالات میں عراق جا رہے ہیں کہ انہیں دیکھتے ہی یا تو صدام کے حامی بھاگ جائیں گے یا ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے اور عراقی عوام ان کے قدموں میں انکھیں اور دل بچھائیں گے اور گلوں میں پھول یا باہیں ڈالیں گے۔
لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اب ایک تو انہیں واپس نہیں بھیجا جا رہا یا واپسی میں تاخیر کی جا رہی ہے اس پر عراقیوں نے اپنی روایات کو تازہ کرنا شروع کر دیا ہے اور کوئی دن نہیں جاتا کے ایک آدھ امریکی ان کا نشانہ نہ بنتا ہو۔ اس پر مزید یہ کہ دوسرے ملک عراق میں امریکی برطانوی فوجیوں کی جگہ لینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ یہاں تک کہ جنرل ضیاءالق کے وارث جنرل مشرف بھی اپنے فوجیوں کو بھیجنے سے گریزاں ہیں۔
نہیں کہاجا سکتا کہ ٹونی بلیئر نے اپنے خطاب کے دوران عراقی تعمیر نو مکمل ہونے تک برطانوی فوجیوں کی عراق میں موجودگی کی جو یقین دہانی کرائی ہے اس کے بارے میں برطانوی فوج کی سوچ کیا ہو گی۔ کیونکہ امریکی فوجی تو غصے اور اپنے ساتھیوں کے ایک ایک کر کے مارے جانے پر رو رہے ہیں اور اس زمین پر گولیاں چلا رہے جس پر انہیں وعدوں کے خواب دکھا کر لایا گیا تھا۔
برطانوی وزیراعظم نے جب مشترکہ خطاب کے دوران امریکہ کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ صرف قیادت ہی نہ کرے سنا بھی کرے تو اس پر بھی کانگرس کے ارکان نے تالیاں بجائیں لیکن ذرا کم اور بے دلی سے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس پر کھڑے ہونے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔
صدر بش اب تک اس بات پر قائم ہیں کہ صدام حکومت امریکہ کے لئے ایک گھمبیر اور بڑھتا ہوا خطرہ تھی اور اب بھی جب تک وہ امریکہ کے صدر ہیں وہ خطرناک دشمنوں کی خوشنودی کے لئے امریکی شہریوں کی جانیں کبھی بھی خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔ پتا نہیں کہ وہ امریکی فوجیوں کو امریکی شہریوں کے کس زمرے میں شامل کرتے ہیں یا ان کی زندگیاں ہیں اسی خطرے میں ڈالنے کے لیے تاہم اس سوال کا اب تک کوئی جواب نیں دیا گیا کہ امریکی فوجیوں کے لیے یہ خطرہ عراق پر امریکی حملے کے بعد پیدا ہوا یا حملے کے بعد۔
مسٹر بلیئر نے فلسطین کا مسئلہ بھی اٹھایا اور یورپ کا بھی لیکن جب ٹم سباسٹین سوال پوچھتے ہیں کہ اگر امریکی القاعدہ ارکان کا مقدمہ امریک عدالت میں اور کھلا چل سکتا ہے تو برطانوی شہریوں پر مقدمہ امریکی فوجی ٹریبونل کی بجائے برطانیہ کی کسی عدالت میں کیوں نہیں چل سکتا؟
تو امریکہ اس سوال دینے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا تاہم اب اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ ان برطانویوں پر مقدمہ فوجی ٹریبونل میں نہیں چلے گا تاہم چلے گا گوانتاناموبے میں یا ہو سکتا ہے کہ ٹونی بلیئر کی لاج کا خیال کرتے ہوئے بتدریج اس میں بھی نرمی کا فیصلہ کرتے ہوئے مزمان کو برطانیہ کے حوالے کر دیا جائے کیونکہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک تو ملزمان پر فردِ جرم تک عائد نہیں کی گئی۔
امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے برطانوی وزیر اعظم کے خطاب کے بارے میں عام امریکی اور برطانوی شہریوں کے اب تک کچھ ردِ عمل کا ذکر خالی از دلچسپی نہیں ہو گا۔
برطانوی شہری راجر کا کہنا ہے کہ امریکی بلیئر سے یہ توقع رکھتے ہوں گے کہ وہ آئندہ امریکی صدارتی انتخابات میں امیدوار ہوں گے۔
اگر کل تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ عراق پر جنگ مسلط کرنے کا فیصلہ غلط تھا تو کسے ذمہ دار ٹھرایا جائے گا؟ گرے، برطانیہ۔
بلیئر سمجھتے ہیں کے وہ امریکی پالیسی میں شامل ہو کر اسے تبدیل کرا سکتے ہیں یا اس میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جونز، برطانیہ۔
بلیئر صرف بش سے یہ پوچھیں گے چھلانگ کہاں لگانی ہے یہ نہیں کہ کیوں؟ جیسی جونز، برطانیہ |
|
 |