 |
|
 |
|
| ’کوئی پچھتاوا نہیں ہے‘ |

ٹونی بلیئر کی امریکی کانگریس میں بہت پذیرائی ہوئی
|
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں شواہد نہ ملنے کے باوجود بھی تاریخ برطانیہ اور امریکہ کو عراق پر حملے کے لئے معاف کردے گی۔
واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہیں نے کہا کہ بحیرہ اوقیانوس کے دونوں جانب عراق پر حملے کے اصل مقاصد کے بارے میں تنازعہ کھڑا ہونے کے باوجود انہیں صدام حکومت کو ہٹانے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔
دوسری طرف صدربش نے مسٹر بلیئر کے ساتھ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرنے ہوئے ایک بار پھراس بات پر اصرار کیا کہ عراق کے پاس کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار موجود تھے جبکہ صدام حکومت اپنےجوہری پروگرام کو از سرنو تعمیر ترقی دینے کی کوشش کررہی تھی۔
صدر بش نے کہا کہ صدام حکومت امریکہ کے لئے ایک گھمبیر اور بڑھتا ہوا خطرہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وہ امریکہ کے صدر ہیں وہ خطرناک دشمنوں کی خوشنودی کے لئے امریکی شہریوں کی جانیں کبھی بھی خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عراق کے وسیع تباہی کہ ہتھیاروں کے معاملے پر برطانیہ اور امریکہ کو کبھی بھی غلط ثابت نہیں کیا جا سکے گا کیونکہ ان کا موقف قابل اعتبار خفیہ معلومات پر مبنی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ شدت پسند فلسطینیوں کی خواہشات کے دشمن ہیں۔
وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے امریکی کانگریس سے اپنے خطاب میں وعدہ کیا کہ وہ عراق میں تعمیر نوکا کام مکمل ہونے تک وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے۔
مسٹر ٹونی بلیئر نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کا مسئلہ حل کئے بغیر دہشت گردی کو کبھی بھی شکست نہیں دی جا سکے گی۔
انہوں نے پوری عرب دنیا سے اپیل کی کہ اسرائیل کو تسلیم کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک اسرائیل اور فلسطین کے معصوم لوگوں نے تکالیف برداشت کی ہیں۔
برطانیہ وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل کے پہلو بہ پہلو ایک آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا وجود بہت ضروری ہے۔
مسٹر بلیئر نے کہا کہ یورپ اور امریکہ کو باہمی اختلافات میں الجھے بغیر مل کر عالمگیر دہشت گردی کو شکست دینا چاہیے۔
انہوں نے ایران اور شام کو دہشت گردوں کو پناہ دینے اور شمالی کوریا کو اپنے شہریوں کے منہ سے نوالہ نوچ کر جوہری ہتھیار بنانے اور ٹیکنالوجی کو برآمد کرنے کے سلسلے میں مورد الزام ٹھہرایا۔
انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی برادری بالخصوص یورپ کے ساتھ مل کر اپنی اقدار کو پھیلائے۔
بعد میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر بلیئر نے کہا کہ عراق میں جمہوری نظام کے قیام کے سلسلے میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور گزشتہ چند دنوں میں انتظامی کونسل اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ کے مسئلے کے حل کے لئے کی جانے والی کوششوں کے سلسلے میں صدر بش کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔
خلیج گونتانامو میں زیر حراست برطانوی شہریوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر بلیئر نے کہا کہ اس بارے میں بیان جمعہ کے روز جاری کیا جائے گا۔ |
|
 |