 |
|
 |
|
| افغانستان: لِنکس انقلاب؟ |

اقوام متحدہ: لِنکس سے پسماندگی جلد دور ہوگی
|
افغانستان میں استعمال کیے جانے والے کمپیوٹروں میں لِنکس آپریٹِنگ سِسٹم کا استعمال کیا جارہا ہے جو مفت دستیاب ہے۔ اس کے برعکس بیشتر دنیا میں وِنڈوز آپریٹِنگ سسٹم زیراستعمال ہے جسے خریدنا پڑتا ہے۔
اقوام متحدہ کے اہلکار افغانستان میں افسروں کو سافٹ ویئر  بیشتر دنیا میں وِنڈوز زیراستعمال ہے | کے استعمال میں پیش آنے والی پیچیدگیوں سے روشناس کرارہے ہیں تاکہ وہ دفتروں میں کمپیوٹر کا نظام چلاسکیں۔ اسی ماہ لِنکس میں تربیت حاصل کرنے والے افسروں کے پہلے دستے نے کام شروع کردیا ہے۔
اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ افغان حکومت کے دفتروں میں کام کرنے والے ملازمین کو لِنکس کی تربیت دینے سے کمپیوٹر کی دنیا میں افغانستان کی پسماندگی کو جلد دور کیا جاسکتا ہے۔
ان مقاصد کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کا ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام یعنی یو این ڈی پی افغانستان کی وزارت مواصلات کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے پر کام کررہا ہے۔
مائکروسافٹ کی وِنڈوز آپریٹِنگ سِسٹم کے مقابلے لِنکس کا استعمال کرنے والوں کو سافٹ ویئر میں تبدیلیاں کرنے کی لچک مہیا ہوتی ہے۔ لیکن دنیا کے بیشتر کمپیوٹروں پر وِنڈوز کا قبضہ ہے۔
ابتدا میں اقوام متحدہ نے افغانستان کے تکنیکی عملے کو لِنکس استعمال کرنے کی تربیت دی۔ اور اب افغان وزارت مواصلات اپنے ماہرین کے ذریعے افسروں کو لِنکس کی تربیت دے رہی ہے۔
اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ اس مفت آپریٹِنگ سِسٹم کے استمعال کے بغیر افغانستان جیسا غریب ملک دوسرے ملکوں کے مقابلے ٹیکنالوجی کی دنیا میں کافی پیچھے رہ جائے گا۔ |
|
 |