ڈاکو اور رومانوی داستانیں سندھی فلموں کے موضوعات ہیں
تحریر: ریاض سہیل، حیدر آباد
دنیا میں اپنی قدیم تہذیب اور زبان کے حوالے سے پہچان رکھنے والی سندھی زبان کی فلم انڈسٹری آجکل زوال کا شکار ہے۔
انیس سو تریپن سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والی انڈسٹری نے انیس سو ننانوے میں آخری فلم ’ہمت‘ بنائی تھی جس کے بعد تقریباً پانچ سال سے وہاں کوئی فلم نہیں بن سکی۔
سندھ میں فلم سازی کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر فلمیں بزنس کے لئے نہیں بلکہ ذاتی شوق کی خاطر بنائی جاتی تھیں۔ جن کے فنانسر یا فلمساز اکثر زمیندار ہوتے تھے۔ جو اپتا شوق پورا کرنے کے لئے فلموں میں پیسہ لگاتے تھے۔ تکنیکی داؤ پیچ نہ جاننے کی وجہ سے فلموں میں کئی خامیاں رہ جاتیں اور اس طرح فلمیں فلاپ ہو جاتیں۔ لیکن پھر بھی ڈسٹری بیوٹرز فائدہ میں رہتے اور فنانسر گھاٹے میں۔
مہنگائی، فلموں کی لاگت میں اضافہ اور وسیع مارکیٹ نہ ہونے سے یہ شوق فردِ واحد کے بس کا نہ رہا اور ان سرمایہ کاروں نے آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا۔
دوسری طرف اردو، پنجابی اور پشتو فلموں کی مارکیٹ تو پورا ملک ہے اس وجہ سے اگر فلمیں فلاپ بھی ہوتیں تو ان کی لاگت نکل آتی۔ لیکن سندھی فلموں کی مارکیٹ صرف کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، ٹنڈو محمد خان، سکھر، خیرپور، لاڑکانہ اور جیکب آباد تک محدود رہی۔ اسی وجہ سے پنجابی اور اردو فلموں کو مصطفیٰ قریشی، قربان جیلانی، شہزادی، یار محمد شاہ اور چکوری جیسے فنکار فراہم کرنے والی سندھی فلم انڈسٹری آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہونے لگی۔
پرو چانڈیو اور محب شیدی جیسی سپر ہٹ فلمیں بنانے
اب فلمیں کم بنائی جاتی ہیں
والےاسد شاہ موویز کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ سندھی فلموں سے صرف ڈسٹری بیوٹرز نے ہی کمایا جب کہ فنانسروں نے کھویا ہی کھویا ہے- سندھی فلموں کی ناکامی کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھی فلمسازوں کو ڈسٹری بیوشن اور سرکیولیشن کا کوئی تجربہ ہی نہیں تھا۔
’وہ مارکیٹ کی الف، ب سے بھی ناواقف تھے۔ اس لئے جب فلمیں مارکیٹ کی جاتی تھیں تو ڈسٹری بیوٹرز ٹکا بندھا جواب دیتے تھےکہ فلم فلاپ ہو گئی ہے اور نقصان ہوگیا ہے۔‘
اپنی فلموں کی کامیابی کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے فلمیں بنانے کے ساتھ ساتھ ڈسٹری بیوشن کی بھی لائن اختیار کی اور اس طرح انہوں نے مارکیٹنگ کے گر بھی سیکھ لئے۔
’نتیجے میں میری فلمیں سپر ہٹ ہوگئیں- میں نے جتنا سندھی فلموں سے کمایا اتنا کسی نے نہیں کمایا ہوگا - کیونکہ میں نے سینما کی بکنے والی ہر ٹکٹ پر اپنا کمیشن مقرر کردیا تھا۔‘
سندھی فلموں کے فنی پہلوؤں کے بارے میں اسد شاہ نے بتایا کہ سندھی فلموں میں تجربہ کار اور پروفیشنل لوگوں کی کمی ہے۔ ’ایک ہی آدمی شاعری بھی کرتا ہے، کہانی اور موسیقی بھی دیکھتا ہے اور ڈائریکشن کی بھی نگرانی کرنی ہے۔ یوں فلم کا محور ایک ہی آدمی ہوتا ہے۔‘
سندھی فلموں کی ناکامی کے بارے میں مشہور اداکار مصطفی
’سندھی فلموں میں ایک ہی آدمی شاعری کرتا ہے، کہانی اور موسیقی بھی دیکھتا ہے اور ڈائریکشن کی بھی نگرانی کرنی ہے۔ یوں فلم کا محور ایک ہی آدمی ہوتا ہے۔‘
اسد شاہ
قریشی کا کہنا ہے کہ پہلے مٹیریل سستا تھا۔جس کی وجہ سے فلمیں آسانی سے اور کم خرچ میں بن جاتی تھیں- انہوں نے بتایا کہ فاضلانی نے انہیں پہلی فلم پردیسی میں سائیڈ رول کے لئے بیس روپے دیئے تھے۔ ’وہ بہت سستا زمانہ تھا۔ اب مہنگائی ہے۔ جب فنانسر کی رقم ہی نہیں نکلے گی تو وہ سرمایہ کاری کہاں سے کرے گا؟‘
انہوں نے کہا کہ لوگ سندھی فلم دیکھنا چاہتے ہیں بشرطیکہ اچھی فلم دی جائے-
انیس سو چھپن سے لے کر انیس سو ستانوے تک بننے والی اکثر فلمیں سندھ کے مشہور ڈاکوؤں کے نام پر بنیں جن میں پرو چانڈیو، محب شیدی، علی گوہر جیسی فلمیں کافی مقبول ہوئیں۔ اس کے علاوہ رومانوی فلموں نے جن میں عمر ماروی، لیلی مجنوں، سسی پنوں، شہرو فیروز، قابلِ ذکر ہیں باکس آفس پر بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔
ڈاکو اور رومان معاشرے کا حصہ ہیں اس لئے لوگ ایسی فلموں کو شوق سے دیکھتے ہیں اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سندھی فلموں پر لوک رنگ زیادہ چھایا ہوتا ہے۔
آج جب سیٹلائٹ چینل نے لوگوں کو گھروں میں ہی قید کر دیا ہے اور سستی تفریح مہیا کرنا شروع کر دی ہے سینما گھروں میں جانے کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے۔ آئے دن ملک کے کئی شہروں سے سینما گھر کو توڑ کر اس کی جگہ پلازہ اور مارکیٹیں تعمیر کرنے کی خبریں اکثر آتی رہتی ہیں۔ اس صورتحال میں کیا سندھی فلم انڈسٹری زندہ رہ سکےگی؟