 |
|
 |
|
| کھیل، سیاست الگ الگ |

میانداد بہترین پاکستانی بیٹسمین سمجھے جاتے ہیں
|
تحریر: ساجد اقبال، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
جاوید میانداد نے کہا ہے کہ کرکٹ میچ میں ہار کو فوجی یا سیاسی میدان میں شکست کی طرح سے نہیں دیکھا جا سکتا۔
’یہ فرق صرف اسی وقت سمجھ میں آ سکتا ہے جب پہلے یہ بات ذہن نشین کر لی جائے کہ کھیل کو سیاست کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔‘
پاکستان کے مایہ ناز بیٹسمین نے ہندوستان اور پاکستان کے کرکٹ روابط کے پس منظر میں یہ بات اپنی حال ہی میں شائع ہونے والی خودنشت سوانح عمری میں کہی ہے۔ ان کی سوانح عمری کے اقتباسات لندن سے شائع ہونے والے ہندوستانی اخبار ایشین ایج میں شائع ہوئے ہیں۔
میانداد نے کہا کہ جب بھی پاکستان اور ہندوستان کے مابین کرکٹ سیریز ہوئی ہے کھیل میں عوام کی زبردست دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے۔
اپنے پہلے دورہ بھارت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سن انیس سو اناسی کا دورہ شروع کرنے سے پہلے وہ اکیس ٹسٹ کھیل چکے تھے۔
’سیریز میں پاکستان کو دو صفر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ساری پاکستانی ٹیم ایک بوجھل دل کے ساتھ وطن واپس لوٹی۔ اس شکست کے باعث کرکٹ بورڈ میں بڑی تبدیلیاں آئیں، بورڈ کے سربراہ کو تبدل کر دیا گیا اور مجھے ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا۔‘ |
|
 |