 |
|
 |
|
| عراق: جان ہاورڈ کی معافی |

وزیراعظم ہاورڈ کوآسٹریلیامیں اکثریتی حمایت حاصل ہے
|
آسٹریلیا کے وزیراعظم جان ہاورڈ نے عراق پر جنگ کے دوران غلط خفیہ رپورٹوں کی بنیاد پر امریکی سالاری میں آسٹریلوی دستوں کی شمولیت کو جائز قرار دینے پر معافی مانگی ہے۔
ہاورڈ نے پارلیمان سے خطاب کے دوران عراق کے لیے فوج روانہ کرنے کے لیے ان دعوؤں کا حوالہ دیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ عراق نے ایک افریقی ملک نائجر سے یورینیم خریدنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم عراق پر عائد کردہ یہ تمام الزامات اب غلط ثابت ہو چکے ہیں۔
دراصل ہاورڈ کو خفیہ امور سے براہِ راست مطلع کرنے والا نیشنل اسیسمنٹس کا دفتر پہلے ہی آگاہ تھا کہ عراق سے متعلق موصول شدہ اطلاعات شکوک پر مبنی ہیں لیکن یہ دفتر وزیراعظم ہاورڈ کو اس بات سے باخبر رکھنے میں ناکام رہا تھا۔
نیشنل اسیسمنٹس کے دفتر کے علاوہ دیگر جاسوس ایجنسیاں بھی حکام کو اس بات سے باخبر نہیں رکھ سکیں۔
جان ہاورڈ نے ملکی پارلیمان کو گمراہ کرنے پر معافی طلب کی اور کہا کہ انہوں نے دانستہ طور پر پارلیمان سے غلط بیانی نہیں کی تھی۔
ہاورڈ نے مزید کہا  جان ہاورڈ | کہ اگر خفیہ ایجنسیاں انہیں تمام شکوک سے باخبر کر بھی دیتیں تو بھی آسٹریلوی فوج کو عراق بھیجنے کے فیصلے میں تبدیلی نہ کی جاتی۔
آسٹریلیا کی حزبِ اختلاف لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں قومی سلامتی سے متعلق پیدا ہونے والے مسائل کے مواقع پر وزیراعظم ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ تاہم اصل حقیقت یہ ہے کہ ہاورڈ کے مقابلے میں ان کے برطانوی ہم منصب ٹونی بلیئر کو کہیں زیادہ دباؤ کا سامنا ہے۔
آسٹریلیا کی حکمران مخلوط حکومت میں بظاہر کسی قسم کا اختلافِ رائے نہیں پایا جاتا اور نہ ہی کابینہ کے کسی رکن نے استعفیٰ دیا ہے۔
اس کے برعکس حزب اختلاف لیبر پارٹی کسی حد تک کمزور ہے جبکہ وزیراعظم ہاورڈ کو اکثریتی حمایت حاصل ہے۔
تاہم یہ بات انتہائی شرمناک ہے کہ کئی ماہ سے آسٹریلوی خفیہ ایجنسیوں کے علم میں ہونے کے باوجود وزیراعظم ہاورڈ کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا کہ عراق سے متعلق افریقی یورینیم حاصل کرنے کے دعوے مشکوک تھے۔ |
|
 |