 |
|
 |
|
| عراقی ہتھیاروں کا قضیہ |

رابن کک عراق پرحملےکی وجہ سے احتجاجاً مستعفٰی ہوگئے تھے
|
عراق پر حملے کے تین ماہ بعد برطانیہ میں ہر طرف اس سوال کی گونج سنائی دے رہی ہے کہ آخر یہ حملہ کیوں کیا گیا تھا؟ پیر کے روز برطانوی پارلیمان کی متعلقہ کمیٹی نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ حکومت برطانیہ نے عراق میں جن تباہ کن ہتھیاروں کی مبینہ موجودگی کو حملے کا جواز بنایا تھا، وہ ہتھیار واقعی وجود رکھتے تھے۔
اب تک برطانوی وزیر اعظم کا یہ پُر زور موقف رہا ہے کہ عراق میں خطرناک ہتھیار یقیناً موجود ہیں اور آج نہیں تو کل وہ ضرور منظر عام پر آجائیں گے۔
لیکن اب برطانوی حکومت کے اعلٰی عہدے داروں نے دبی زبان میں یہ اعتراض کرنا شروع کر دیا ہے کہ شاید ہتھیاروں والا مفروضہ غلط تھا اور عراق میں ایسے ہتھار موجود نہیں ہیں۔
بی بی سی کے سیاسی امور کے ایڈیٹر انڈریو مار صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’برطانیہ کے عمائدین حکومت اب خود یہ کہہ رہے ہیں کہ عراق میں تباہ کن ہتھیاروں کی تلاش بے سود ہے۔ وہ صرف اس بات کو مانتے ہیں کہ عراقی سائنس دان ہتھیار بنانے کے کسی پرگرام پر غور کر رہے تھے کیونکہ ایسی دستاویزی شہادتیں ملی ہے کہ عراقی ماہرین اس طرح کے منصوبوں پر غور کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ انہوں نے واقعی خطرناک ہتھیار تیار کر لئے ہوں۔‘
برطانیہ کے ایک سابق وزیر خارجہ رابن کک برطانوی دارالعلوم کی سربراہی سے اس وقت احتجاجاً استعفٰی دے دیا تھا جب عراق پر حملے کی تیاری آخری مراحل میں تھی۔ وہ ہمیشہ سے حملے کے خلاف تھے اور اپنے تازہ بیان میں انہوں نے توجہ دلائی ہے کہ حملے کے وقت برطانوی عوام کو یہ کہہ کر قائل کیا تھا کہ عراق سے ہمیں شدید خطرہ ہے۔
سابق وزیر خارجہ نے کہا: ’یہ بات ذہن میں رکھیئے کہ برطانوی پارلیمان نے اس یقین دہانی پر حملے کے حق میں ووٹ دیا تھا کہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں بلکہ حملے سے ایک روز پہلے ہمارے وزیراعظم نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ ہتھیار ہمارے لئے شدید خطرہ بن چکے ہیں کیونکہ صدام حسین ان ہتھیاروں کو یا تو خود استعمال کریں گے یا دہشت گردوں کے حوالے کر دیں گے۔ اسی انتباہ کی وجہ سے پارلیمان نے جنگ کے حق میں ووٹ دیا۔ اس وقت وزیراعظم نے اتنی جلدی مچا رکھی تھی کہ وہ قوام متحدہ کے اسلحہ انسپکٹروں کو بھی پوری جانچ پڑتال کا موقعہ دینے کو تیار نہ تھے۔‘
برطانیہ کی تیسری سیاسی جماعت لبرل ڈیموکریٹ، جو بالعموم پس منظر میں رہتی ہے، اس طرح کی بحرانی صورت حال میں ضرور اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے۔ موجودہ بحث میں ان کا موقف ہے کہ اس بارے میں وسیع پیمانے پر تحقیق کی ضرورت ہے کہ برطانوی قوم کو اس جنگ میں کیوں ملوث کیا گیا۔
حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت کنزوریٹیو پارٹی اور خود حکمران لیبر پارٹی کے کچھ ارکان بھی یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس معاملے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائے۔
برطانوی وزیراعظم ہر جانب سے ہونے والے تابڑ توڑ تنقیدی حملوں سے پریشان تھے لیکن امریکی وزیردفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے اس موضوع پر جو تازہ بیان دیا ہے اس سے برطانوی وزیراعظم کی مشکلات اور بھی بڑھ گئی ہیں۔
’ہم نے عراق پر اس لئے حملہ نہیں کیا تھا کہ ہمیں عراقی ہتھیاروں کے بارے میں اچانک کوئی نئی خبر ملی تھی۔ بلکہ اس لئے حملہ کیا تھا ہم نے پرانی خبروں کو گیارہ ستمبر کے بعد پیدا ہونے والے نئے حالات کی روشنی میں دیکھنا شروع کر دیا تھا۔‘
مسٹر رمز فیلڈ کے بیانات پہلے بھی امریکی اور برطانوی حکومت کے لئے مسائل پیدا کرتے رہے ہیں لیکن اس تازہ ترین بیان کو اگر امریکی حکومت کا نقطۂ نظر تسلیم کر لیا جائے تو برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے لئے اپنے موقف کی صفائی میں کچھ کہنا اب مزید مشکل ہو جائے گا۔ |
|
 |