 |
|
 |
|
| ہائی ٹیک الفاظ سے پریشان |
|
ایک سروے کے مطابق بیشر افراد کو نئی ٹیکنالوجی سے متعلق اصطلاحات اور نئی اشیاء یا ایجادات کے نام سمجھنے میں کافی دشواری ہوتی ہے اور وہ پریشان اور حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔
ایک تحقیقی گروپ کے سروے میں پایا گیا کہ ’بلیو ٹوتھ‘ یا MP3 جیسے الفاظ بہت کم لوگوں کی سمجھ میں آتے ہیں۔
سرورے کے نتائج ٹیکنالوجی کی صنعت کے  ڈجی فلاؤر؟ وہ کیا ہوتا ہے | لئے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ پریشان کر دینے والی اصتلاحات کی وجہ سے لوگ نئے آلات خریدنے سے گریز کر سکتے ہیں۔
سرواے کرانے والے ادارے اے ایم ڈی کے گلوبل کنزیومر ایڈوائزری بورڑ کے پیٹرِک مؤرہیڈ کا کہنا ہے:
’انڈسٹری کو اپنی زبان اور اصتلاحات کو آسان اور عام فہم بنانا ہوگا تاکہ دنیا بھر کے صارفین یہ بہتر سمجھ سکیں کے ٹیکنالوجی سے انہیں کیا فوائد ہو سکتے ہیں۔‘
اس سروے کے لئے امریکہ، برطانیہ، چین اور جاپان میں پندرہ سو افراد سے رابطہ کیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ صارفین نئے آلات سے وابستہ زبان کس حد تک سمجھتے ہیں۔ نتایج میں دیکھا گیا کہ ٹیکنالوجی فرموں کی طرف سے استعمال اور رائج کی جانے والی اصتلاحات سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔
صرف تین فی صد لوگوں نے ایک کوئز میں سو فی صد سکور کیا، جس کے دوران MP3 ( آواز کو ریکارڑ اور محفوظ کرنے کا نیا ڈیجیٹل فارمیٹ یا فائل) اور Bluetooth ( معلومات کو مختصر فاصلے پر منتقل کرنے کی تکنیک جس میں تاروں کی جگہ ریڈیو کی لہروں کا استعمال کیا جاتا ہے)۔
یہاں تک کہ کئی لوگ ’میگاہرٹز‘ (Mhz) سن کر مبہوت ہو کر رہ گئے۔ یاد رہے اکثر کمپوٹر بیچنے والی کمپنیاں اپنے اشتہارات میں Mhz جیسے الفاظ کا اکثر استعمال کرتی ہیں۔
پچاس فی صد سے بس تھوڑے زیادہ افراد میگاہرٹز کی وضاحت کر پائے۔ میگاہرٹز سے مراد یہ ہے کہ کمپیوٹر میں استعمال کئے جانے والے پروسیسر کا ایک حصہ جسے کلاک کہتے ہیں ایک سیکنڈ کے دس لاکھویں حصے میں کتنی بار بجتا ہے۔
ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد بھی کئی الفاظ  اس کا کیا کریں؟ | سے پریشان ہوئے، صرف ایک تہائی افراد کو DVR کا پتا تھا۔ DVR یعنی ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڑر جس سے آپ براہ راست ٹی وی شو کیسیٹ کی بجائے ہارڑ ڈرائیو پر ریکارڑ کر سکتے ہیں۔
سروے کا ایک نتیجہ یہ بھی تھا کہ کئی لوگ ڈیجیٹل کیمرا جیسی نئی اشیاء خریدنے میں تاخیر اس لئے کر رہے ہیں کینوکہ ان کے لئے یہ چیزیں پیچیدہ ہیں اور انکا استعمال دشوار۔
تقریباً ستر فی صد افراد کا کہنا تھا کہ انہیں ’ایسے آلات چاہئیں جو بس کام کریں اور انہیں ’سیٹ اپ‘ نہیں کرنا پڑے۔‘
یہ سروے کمپیوٹر چپ بنانے والی کمپنی اے ایم ڈی نے کرایا۔ |
|
 |