 |
|
 |
|
| بی بی سی پر غصہ |

یہ خبرمیری ذات پر براہ راست حملہ ہے۔
|
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نےاس الزام کو کہ عراق کے بارے میں رپورٹ کو وزیر اعظم کے کہنے پر سنگین تر بنانے کی کوشش کی گئی تھی اپنی ذات پرحملے سے تعبیر کیا ہے۔
ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بی بی سی کی ایک خبر میں لگائے جانے والے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اب سب جانتے ہیں کہ ان کی حکومت پر صرف ایک توہمت تھی۔
انہوں نے کہاکہ اس سے سنگین الزام کسی وزیر اعظم پر نہیں لگایا جاسکتا۔
اتوار کو پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ آنے سے ایک دن قبل اتوار کو بی بی سی کی انتظامیہ گورنروں اور انتظامیہ کا ایک اجلاس ہو رہا ہے جس میں انتظامیہ گورنروں کو اس بارے میں اپنے موقف سے آگاہ کرے گی۔
برطانوی روزنامے ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل گریگ ڈائک اور مینیجمنٹ کے دیگر اعلی عہدے دار گورنروں کو بتائیں گے کے بی بی سی اپنی بین الاقوامی ساکھ کی وجہ سے اس خبر کو واپس نہیں لے سکتا۔
اس خبر میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو گلیگن نے خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کے حوالے سے کہا تھا کہ عراق پر حملہ کرنے کے بارے میں رپورٹ میں وزیر اعظم کے کہنے پر مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا تھا۔
توقع ہے کہ برطانوی پارلیمان کی خصوصی کمیٹی وزیر اعظم کے اطلاعات کے ڈائریکٹر الیسٹر کیمپبیل پر لگائے جانے والے الزامات کی وضاحت کرے گی۔
بی بی سی کی خبر میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ کیمپبیل کے کہنے پر رپورٹ میں یہ بات شامل کی گئی تھی کہ عراق پینتالیس منٹ میں کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں سے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔
کیمپبیل نے بی بی سی پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا تھا اور معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
لیکن بی بی سی نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا۔ بی بی سی کے شعبہ خبر کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ہم اب بھی اپنی خبر پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بی بی سی کو ایک باوثوق ذریعے سے خبر ملی تھی لہذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ عوام کو اس سے آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا ابھی تک خبر میں موجود کسی بھی بات کی تردید نہیں ہوئی ہے۔
دریں اثنا دفتر خارجہ نے اوبزرور اخبار میں چھپنے والی اس خبر کی تصدیق کر دی ہے کہ عراق پر حملہ سے چند دن قبل جنگ پر پس پردہ معلومات حاصل کرنے کے لیے بی بی سی ریڈیو فور پروگرام کے کچھ سینئر لوگ برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکس کے چیف رچرڈ ڈیئر لؤ سے ملے تھے۔
تاہم وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کے اس ملاقات میں ایسی کوئی بات نہیں کہی گئی جس سے گلیگن کی طر ف سے عائد کئے گئے الزامات کی تصدیق ہو سکے۔ |
|
 |