BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 19:23 - 03/07/2003
استاد منشی رضی الدین انتقال کر گئے
منشی صاحب گاتے ہوئے مخصوص انداز میں جھومتے تھے
منشی صاحب گاتے ہوئے مخصوص انداز میں جھومتے تھے

تحریر: مظہر زیدی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے ایک عظیم موسیقار اور قوال استاد منشی رضی الدین بدھ کی شب نوے سال کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے۔

وہ جمعرات کو امریکہ روانہ ہونے والے تھے جہاں ان کا کنسرٹ ہونا تھے۔ عربی اور فارسی زبانوں پر دسترس کے ساتھ ساتھ منشی رضی الدین دُھرپد گائیکی کے، جو اب پاکستان میں تقریباً ناپید ہو چکی ہے، گنے چنے استادوں میں سے ایک تھے۔ ان کے پرستار انہیں منشی صاحب کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ باکمال گائیک ہونے کے ساتھ ساتھ موسیقی کے علم پر مہارت رکھتے تھے۔

منشی صاحب گانے کے دوران اپنے مخصوص انداز جھومنے اور مست ہو جانے کی وجہ سے سننے والوں کی خصوصی داد کے مستحق بنتے تھے۔

منشی صاحب مشہور موسیقار تان رس خان کے وارث تھے اور انہوں نے اپنے دادا رضی الدین سے تربیت حاصل کی اور حیدرآباد دکن میں کئی برس تک گانے کے بعد سن انیس سو پچاس کی دہائی میں پاکستان آ گئے۔ انہیں انیس نوے حکومت پاکستان نے پرائڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ دیا۔

منشی

رضی الدین کے آباو اجداد امیر خسرو اور بہادر شاہ ظفر کے دور میں فنِ موسیقی سے وابستہ تھے۔ وہ معروف قوال بہاؤالدین کے بڑے بھائی اور فرید ایاز کے والد تھے۔

منشی صاحب پاکستان میں فنِ موسیقی کے اساتذہ کی بے قدری کی ایک منہ بولتی تصویر تھے۔ سُروں پر اس قدر مہارت اور موسیقی کی ایک بہت پیچیدہ صنف یعنی دُھرپد میں بے پناہ صلاحیت رکھنے کے باوجود انہیں پاکستان میں نہ صرف بہت کم لوگ جانتے تھے بلکہ آخری مرتبہ انہوں نے باقاعدہ ریکارڈنگ انیس سو ستر کی دہائی میں کی تھی۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright