 |
|
 |
|
| استاد منشی رضی الدین انتقال کر گئے |

منشی صاحب گاتے ہوئے مخصوص انداز میں جھومتے تھے
|
تحریر: مظہر زیدی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے ایک عظیم موسیقار اور قوال استاد منشی رضی الدین بدھ کی شب نوے سال کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے۔
وہ جمعرات کو امریکہ روانہ ہونے والے تھے جہاں ان کا کنسرٹ ہونا تھے۔ عربی اور فارسی زبانوں پر دسترس کے ساتھ ساتھ منشی رضی الدین دُھرپد گائیکی کے، جو اب پاکستان میں تقریباً ناپید ہو چکی ہے، گنے چنے استادوں میں سے ایک تھے۔ ان کے پرستار انہیں منشی صاحب کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ باکمال گائیک ہونے کے ساتھ ساتھ موسیقی کے علم پر مہارت رکھتے تھے۔
منشی صاحب گانے کے دوران اپنے مخصوص انداز جھومنے اور مست ہو جانے کی وجہ سے سننے والوں کی خصوصی داد کے مستحق بنتے تھے۔
منشی صاحب مشہور موسیقار تان رس خان کے وارث تھے اور انہوں نے اپنے دادا رضی الدین سے تربیت حاصل کی اور حیدرآباد دکن میں کئی برس تک گانے کے بعد سن انیس سو پچاس کی دہائی میں پاکستان آ گئے۔ انہیں انیس نوے حکومت پاکستان نے پرائڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ دیا۔
منشی رضی الدین کے آباو اجداد امیر خسرو اور بہادر شاہ ظفر کے دور میں فنِ موسیقی سے وابستہ تھے۔ وہ معروف قوال بہاؤالدین کے بڑے بھائی اور فرید ایاز کے والد تھے۔
منشی صاحب پاکستان میں فنِ موسیقی کے اساتذہ کی بے قدری کی ایک منہ بولتی تصویر تھے۔ سُروں پر اس قدر مہارت اور موسیقی کی ایک بہت پیچیدہ صنف یعنی دُھرپد میں بے پناہ صلاحیت رکھنے کے باوجود انہیں پاکستان میں نہ صرف بہت کم لوگ جانتے تھے بلکہ آخری مرتبہ انہوں نے باقاعدہ ریکارڈنگ انیس سو ستر کی دہائی میں کی تھی۔ |
|
 |