 |
|
 |
|
| ہارون رِند انتقال کرگئے |

سلسلے وار کھیل ’دیواریں‘ میں رانی اور ہاشم جو ہارون رِند نے پروڈیوس کیا تھا
|
تحریر: عارف وقار، بی بی سی اردو سروس
ڈرامہ روزِ اول ہی سے پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات کا بنیادی ستون رہا ہے۔ کیونکہ اس ادارے کی بنیاد میں پہلی اینٹ رکھنے والوں کا تعلق ادب کی اسی صنف سے تھا۔
آغا ناصر،  ہارون رِند | کنور آفتاب، محسن علی، شیریں پاشا، یاورحیات اور بختیار احمد نے جس مضبوط روایت کا آغاز سن ساٹھ کی دہائی کے آخر میں کیا تھا۔ سن ستر کے عشرے میں اس روایت کو آگے بڑھانے والوں میں ہارون رِند کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وہ سندھی زبان و ادب کے ساتھ ساتھ سندھی لوگ سنگیت کی روایت سے بھی آگاہ تھے اور اردو ڈرامے شروع کرنے سے پیشتر سندھی ڈرامے میں نام پیدا کر چکے تھے۔ بلکہ ان کے ایک سندھی ڈرامے کو جرمنی کے بین الاقوامی مقابلے میں ایوارڈ بھی مل چکا تھا۔
ڈرامے میں ان کی تربیت عبدالکریم بلوچ جیسے کہنہ مشق پروڈیوسر اور ساقی جیسے منجھے ہوئے اداکار نے کی جو کہ رشتے میں ہارون کے چچا بھی تھے۔
پچیس اور پچاس منٹ دورانیئے کے کئی کھیل پروڈیوس کرنے کے بعد ہارون نے سلسلے وار کھیل ’دیواریں‘ پروڈیوس کیا جو کہ اس سے پہلے وہ سندھی میں بھی کر چکے تھے۔
لیکن اس بار یہ پچاس منٹ کے رنگین اردو سیریل کا ایک بڑا منصوبہ تھا جس میں سندھ کے جاگیردارانہ نظام میں قائم ان دیواروں کا ذکر تھا جو انسان کو انسان سے جدا کر دیتی ہیں۔
اس سیریل کی شاندار کامیابی کے بعد ہارون نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور آگے ہی آگے بڑھتے گئے۔ سندھی دیہات کے کھیت کھلیان سے ہوتا ہوا ان کا ڈرامہ کراچی کے پُرشور بازاروں تک بھی آن پہنچا اور دیہی معیشت کے سادہ رشتوں کی جگہ شہری معاشرے کے گنجلک مسائل نے لے لی۔
ہارون رند کئی سال سے ذیابیطس کے موذی مرض میں متبلا تھے اور انسولین کے ٹیکوں پر انحصار کرنے لگے تھے۔ اس بیماری نے ڈرامہ سازی کے کئی بڑے منصوبوں کو مؤخر کر رکھا تھا لیکن ایک موہوم سی امید کے سہارے وہ ہمیشہ ایک اچھے وقت کا انتظار کرتے رہے۔ حتٰی کہ خود ان کی مدتِ حیات بھی دو جولائی کو ختم ہو گئی۔ |
|
 |