اپنے حالیہ غیر ملکی دورے کے آغاز پر لندن میں ’ردھم آف دی انڈس‘ یا ’سندھ کے سُر‘ سننے والے باوردی صدر پرویز مشرف کو بہرحال سندھی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا جب وہ واشنگٹن اور لاس اینجلس میں عالمی معاملات پر سوجھ بوجھ رکھنے والے سامعین کو اپنی حکومت کے بارے میں ’راوی سب چین لکھتا ہے‘ کا لیکچر دے رہے تھے۔
یہ بھی
اگر جھوٹ کے پاؤں ہوتے تو وہ لانگ بوٹ پہنے چلتا نظر آتا۔
پہلی بار ہوا کہ امریکہ میں بسنے والے پاکستانی سندھیوں نے جنرل مشرف کی موجودگی میں نہ صرف ’گریٹر تھل کینال‘ کی مجوزہ تعمیر پر احتجاج کیا بلکہ لاس اینجلس میں ان کی احتجاجی تحریری تختیوں میں سے ایک پر یہ بھی بہت نمایاں تھا: ’اوکاڑہ کے کسانوں کا فوجی قتل عام بند کرو‘۔
مجھے جنرل مشرف کی تقریریں سن کر اقبال کا وہ مصرع یاد آیا: ’اقبال بڑا اپدیشک ہے دل باتوں میں موہ لیتا ہے۔‘ سامعین کے دیگر سوالات کے جوابات میں ’گفتار‘ کے اس ’غازی‘ نے پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک، مزدوروں کی حالت زار، عورتوں کے حقوق اور قانونِ توہین رسالت کے متعلق ایسا نقشہ کھینچا کہ اگر جھوٹ کے پاؤں ہوتے تو وہ لانگ بوٹ پہنے چلتا نظر آتا۔
اپنے سامعین کو، بقول کراچی والوں کے ’سچ کی ٹوپی‘ وہ اس وقت بھی پہنا رہے تھے جب سرگودھا میں عورتوں کو ننگا مارچ کرایا گیا اور گزشتہ تین ماہ سے ان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہاتھوں اب تک لا پتہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سندھی ہندو رکن کرشن شرما کی ماں اور بھائی پریس والوں کے سامنے کرشن شرما کی زندگی کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کر رہے تھے۔
واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں کم از کم تین امریکی سندھی تنظیموں، سندھ ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ (سانا) ورلڈ سندھی کانگرس اور ورلڈ سندھی انسٹیٹیوٹ کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر اپنی پریس کانفرنس اور ایک مظاہرے میں گریٹر تھل کینال کی تعمیر اور سندھ کے پانی کے مسئلے پر احتجاج کیا۔
اگرچہ
ہوٹل کے باہر سندھی مرد، عورتیں اور بچے دریائے سندھ میں پانی کے مسئلے پر احتجاج کر رہے تھے۔
مقامی ٹیلیویژن سی ایس پی اے این پر جنرل مشرف کے خلاف سندھی احتجاج کو دکھائے جانے کے باوجود امریکہ میں سندھیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اور کیلیفورنیا میں سندھی ایسوسی ایشن (سانا) کے ریجنل سیکرٹیری سید جعفر شاہ کو یہ گلہ رہا کہ جنرل مشرف کے امریکی دورے کے دوران سندھیوں کے احتجاج کو پاکستانی باوردی صدر کے دورے کو رپورٹ کرنے والے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے یکسر نظر انداز کیا۔
ستائیس جون کو بیورلی ہلز جیسے علاقے میں (جہاں ہالی ووڈ کے بہت سے اداکار اور اداکارائیں رہتی ہیں) وہ ایک سندھی شام غریباں تھی کہ جب وہاں ایک مقامی ہوٹل میں جنرل پرویز مشرف خطاب کر رہے تھے اور ہوٹل کے باہر سڑک کے کنارے سندھی مرد، عورتیں اور بچے سندھی ایسویشن آف نارتھ امریکہ (سانا) اور دیگر دو سندھی تنظیموں کے زیرِ اہتمام سندھ کے لیے دریائے سندھ میں پانی کے مسئلے پر احتجاج کر رہے تھے۔
ان کے ہاتھوں میں جو احتجاجی تختیاں تھیں ان پر لکھا تھا ’تھل کینال کی تعمیر روکو‘ ’صدر بش ہمیں اپنا دریا واپس دلواؤ‘ ’اوکاڑہ کے کسانوں کا فوجی قتل عام بندو کرو‘ ’صدر بش! مشرف کی نیوکلیئر بلیک میلنگ کے آگے گھٹنے مت ٹیکو‘۔