BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 16:00 - 22/06/2003
اوکاڑہ: دیہات یا فوجی چھاؤنی
دیہاتیوں کے لیے گاؤں سے نکلنا دوبھر ہو گیا ہے
دیہاتیوں کے لیے گاؤں سے نکلنا دوبھر ہو گیا ہے

پیشکش: محمد حنیف، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

’کسان رہے یا مزدور رہے
یا سرمایہ دار رہے
کوئی اوچا نیواں ریہنا نئیں،
رہے تے ہموار رہے
جیڑا کرے کمائی کھاوے نہ
جیڑا کھاوے او کھواوے نہ‘

نظم کا یہ ٹکڑا
سنئیے
  محمد حنیف سے  
اوکاڑہ کے قریب دس چک میں رہنے والے ایک بزرگ دیہاتی شاعر نے پڑھا کیونکہ آجکل ان کے پاس شعر پڑھنے کے لیے بہت وقت ہے۔

ڈیڑھ ماہ سے ملٹری فامز کے تمام دیہات رینجرز اور پولیس کے گھیرے میں ہیں۔

میں خود کچھ
سنئیے
  جنرل شوکت سلطان سے بات چیت  
کسانوں کی مدد سے فصلوں میں سے چھپتا ہوا ان دیہات تک پہنچا اور وہاں دیکھا کہ مرد کھیتوں میں نہیں جا سکتے، بچے اسکولوں تک نہیں پہنچ سکتے اور نہ صرف یہ بلکہ مریض دوا لینے کی غرض سے ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں جا سکتے۔

ایک دیہاتی خاتون

نے بتایا کہ ’ہمارے بہت سے جاننے والے طبی امداد نہ ملنے کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو گھروں میں بیمار پڑے ہیں۔

’علاقے کی ناکہ بندی کے باعث گھروں سے باہر نکلنا ممکن نہیں رہا اور اسکولوں میں پڑھنے والے بہت سے بچے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلباء پرچے نہیں دے سکے۔

’پانی میسر نہ ہونے کے باعث زمینداروں کی فصلیں سوکھ رہی ہیں اور مویشی بھوکے مر رہے ہیں‘۔

اس صورت حال کےثبوت کے طور پر ایک خاتون اپنی بیمار چھوٹی بچی اٹھائے آگے بڑھی اور کہنے لگی کہ وہ بچی کو علاج کے لیے نہیں لے جا سکتی کیونکہ اسے ناکہ پر تعینات عملہ آگے نہیں جانے دیتا۔

وہ پوچھتی ہیں کہ ’کیا یہ ظلم نہیں؟ کیا ان لوگوں کے گھروں میں بچے نہیں؟ اگر ان کے بچوں کو یہ صورت حال درپیش ہو تو انہیں احساس ہو۔۔۔ شاید ان کے بچے نہیں ہیں۔۔۔‘

لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ گاؤں سے باہر اس لیے نہیں جاتے کہ گرفتار کر لیے جاتے ہیں اور رینجرز کے صدر دفتر لے جائے جاتے ہیں جہاں ٹائر سے بنے ’چھتر‘ ان کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

ایک دیہاتی نے بتایا کہ ’رینجرز لکڑی کے دستے والا ٹائر کا چھتر اس قدر زور سے مارتے ہیں کہ آدمی دو فٹ دور جا گرتا ہے۔ اگر آپ رینجرز کا ہیڈکوارٹر دیکھیں گے تو آپ کی زبان سے یک لخت نکلے گا کہ ہم کشمیر آ گئے ہیں۔ کیونکہ وہاں لوگوں پر اس قدر ظلم اور ٹارچر کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں‘۔

اس کے برعکس مقامی حکام کا اصرار ہے کہ ’یہ سب لوگ جھوٹ بولتے ہیں‘ لیکن کسی کو ان دیہات میں جانے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔

انجمنِ مزارعین کے لیڈر ڈیوڈ زاہد، جن کا تعلق دس چک سے ہے، کہتے ہیں کہ ’کیا حکومت اس قدر اندھی ہے کہ کسی کو نظر نہیں آ رہا کہ اس علاقے میں کیا ہو رہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور دیگر لوگ اس علاقے میں آنا چاہتے ہیں ’لیکن سب کو روکا جا رہا ہے‘۔ وہ پوچھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو وفد یہاں آنے سے کیوں روکا گیا۔

’کیا یہاں دہشت

گرد رہتے ہیں کہ سب کو یہاں آنے سے روکا جا رہا ہے۔ طبی امداد کے فقدان سے لوگ مر رہے ہیں، ہم کھانے کی اشیا اور پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، بچے اسکول نہیں جا سکتے۔

’ایسی ہی صورت حال ایک مرتبہ پہلے پیدا ہوئی تھی جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا اور اب اسی طرح اِدھر بھی نعرہ لگ جائے گا۔ ابھی تو صرف مالکانہ حقوق کا نعرہ بلند ہوا ہے، آئندہ الگ صوبے کا نعرہ لگے لگا‘۔

ان دیہات میں آباد مزارعین کے اجداد نے سو برس پہلے برطانوی دورِ حکومت میں جنگل کو آباد کر کے اس زمین کو زراعت کے قابل بنایا تھا۔

اب ملٹری فارمز کی انتظامیہ دیہاتیوں سے مزارعوں کے حقوق واپس لے کر انہیں ٹھیکے دار بنانا چاہتی ہے۔

مزارعین کے رہنما مہر ستار کا کہنا ہے کہ ’ٹھیکیداری نظام مزارعین کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ انہیں کھاد، بیچ، پانی اور دیگر سہولیات کے لیے انتظامیہ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

’اس لیے ایسے لوگوں سے یہ تقاضا کرنا کہ اب وہ یہ سب انتظامات خود کریں، اپنے اہلِ خانہ کی پرورش کریں اور اس کے بعد انتظامیہ کو کرنسی نوٹوں میں کرایہ بھی ادا کریں، صریحاً مزارعین کی بےدخلی کے مترادف ہے‘۔

عام تاثر یہی ہے کہ اس علاقے کے لوگ حکومت سے خائف ہیں اور پولیس کو دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے ہیں لیکن اگر یہ بات سچ ہے تو پھر یہ لوگ رینجرز اور پولیس کے خلاف تین برس سے مزاحمت کیسے جاری رکھے ہوئے ہیں؟

مزارعین کے حمایتی اور لیبر پارٹی کے رہنما فاروق طارق نے مجھے بتایا کہ ’وہ لوگ جو پولیس کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے ڈرتے تھے انہوں نے فوج سے کیونکر ٹھان لی، میرے خیال میں اس کی ذمہ داری ان غیر معقول جرنیلوں اور لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے کسانوں کی سوچ کو سمجھے بغیر انہیں دہاڑی ذار مزدور تصور کرنا شروع کر دیا تھا۔

’انہوں نے سوچا کہ نجکاری کے بعد جس طرح ٹریڈ یونین بِک گئی اسی طرح جب کسانوں کو ٹھیکے دار بنایا جائے گا تو وہ بھی مزاحمت نہیں کریں گے۔

’لیکن جو بات یاد رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ کسان زمین کو ماں کا درجہ دیتے ہیں اور وہ اپنی ماں کا سودا قطعی برداشت نہیں کرتے۔ میرے خیال میں فوج نے جابرانہ رویہ اختیار کیا ہے اور کسی قسم کی مشاورت کرنے کی کوشش نہیں کی‘۔

مزارعین کا اصرار ہے کہ زمین حکومتِ پنجاب کی ہے، ان کی تین نسلیں اس زمین پر کاشت کرتی آئی ہے اس لیے فوج کو کوئی حق نہیں کہ وہ انہیں بےدخل کر دے اور بقول چودھری امیر علی کے’ان کی تین نسلیں انہی دیہاتوں میں دفن ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ انگریزوں کے دور میں جب کوئی کسان بیس برس تک کسی انگریز کی زمین پر کاشتکاری کرتا تھا تو اسے زمین کے مالکانہ حقوق دے دیے جاتے تھے اور اس زمین پر تو ہماری تین نسلیں گزر چکی ہیں جس رو سے ’ہم اس زمین کے مالک ہیں‘۔

میری ملاقات نوے

برس کے ایک بزرگ سے بھی ہوئی۔ بزرگ نے کہا کہ ان کی تین نسلوں کی نوکری کے بعد انہیں دو ایکڑ زمین کیوں نہیں مل سکتی جبکہ فوجی افسروں کو ریٹائرمنٹ کے وقت مربعے الاٹ کیے جاتے ہیں۔

مزارعین میں سے کوئی دھمکیاں دے رہا ہے کوئی منتیں کر رہا ہے اور کوئی جد و جہد کی بات کر رہا ہے لیکن یہ بزرگ دیہاتی شاعر منظوم صلواتیں سناتے جا رہے ہیں۔۔۔۔

’چا، انڈے، دُد، پتری کِتے شغل شراب دا
سوڈا، برف، عرق شربت کھیوڑا، کِتے رو گلاب دا
ساڈے تتے پانی وِچ پورا وی نہ راب دا
توں تے ساڈا گڑ کھادا، تیری ہُن کھنڈ نہ رئے
رکھ یاد دلے وج، کمنڈ نہ رئے‘

سلیس اردو میں یہ کہ ’تم نے ہمارا گُڑ کھایا ہے اب اللہ تمہاری چینی چھین لے‘۔

اس تحریک کے اتنی دیر تک جاری رہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ رینجرز اور پولیس نے ان دیہات کے سات ہزار لوگوں کے خلاف مقدمات درج کر رکھے ہیں۔

پولیس کے ریکارڈ کے مطابق ساٹھ برس کی مائی بصرہ دہشت گرد ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’کافی عورتوں کے خلاف دہشت گردی کے الزام میں پرچے درج کیے گئے ہیں۔ چک پندرہ کی تین عورتوں کے خلاف یہ پرچہ کاٹا گیا ہے جن میں، میں بھی شامل ہوں۔ جبکہ دیگر چکوک سے پچاس، پچاس، ساٹھ، ساٹھ عورتوں کے خلاف دہشت گردی کے پرچے کاٹے گئے ہیں۔

’جب کسی عورت کو پکڑ لیا جاتا ہے تو پھر وہ دوبارہ نظر نہیں آتی۔ ایک بابے کو پکڑ کر حکام نے جانے اسے مار مار کر اس کا کیا حال کیا ہے کہ وہ اب صرف یہی کہتا ہے کہ وہ مجھے جو کہیں گے میں وہی کروں گا‘۔

چونکہ مرد گاؤں سے نہیں نکل سکتے اس لیے عورتوں نے بہت سے کام اپنے ذمہ لے لیے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں مقامی حکام کے طعنے بھی سننے پڑتے ہیں۔

ایک خاتون نے بتایا کہ انہیں ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ ’تم عورتوں کو کیا حق حاصل ہے کہ تم گھر سے باہر نکلو۔ عورت کو بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، یہ کام صرف مردوں کا ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ اب کھیتی باڑی کا کام بھی عورتیں سنبھال رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اگر ہمارے مسئلے حل نہ ہوئے تو جو رائفلیں آج ان کے گلوں میں ہیں وہ کل ہمارے ہاتھ میں ہوں گی اور گاؤں کی بیٹیاں اور بہوئیں ان بندوقوں کو چلانا بھی سیکھ لیں گی‘۔

حکومت اور فوج کے ترجمان غیر سرکاری تنظیموں اور سیاسی جماعتوں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنے مضموم مقاصد کے حصول کے لیے مزارعین کو استعمال کر رہی ہیں۔

لیبر پارٹی کے فاروق طارق کہتے ہیں کہ ’ یہ کہنا کہ ہمارے کہتے پر اس تحریک کا آغاز کیا گیا ہے تو یہ ایک قطعی لغو اور فضول بات ہے کیونکہ اگر کسانوں میں جذبہ اور تحریک نہ ہو یہ یہ مہم چل ہی نہیں سکتی۔ تاہم اس تحریک کو رینجرز اور پولیس نے مزید اجاگر کیا ہے اور اکسایا ہے‘۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright