 |
|
 |
|
| مائیکروسافٹ بمقابلہ سپیم |

انٹرنیٹ پر نصف سے زیادہ پیغام غیر مطلوبہ ہوتے ہیں۔
|
کمپیوٹر کی مصنوعات سے متعلق دنیا کے سب سے بڑے کمپنی مائیکرو سافٹ نے امریکہ و برطانیہ میں غیر مطلوبہ ای میل بھیجنے کے مبینہ ذمہ داروں (یعنی سپیمرز) کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کردیا ہے۔
مائیکرو سافٹ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے اور اپنے صارفین کے کمپیوٹرز میں دو ارب سے زائد تعداد میں غیر مطلوبہ ای میل پیغامات بھیج کر خلل اندازی کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف مجموعی طور پر پندرہ مقدمات درج کرائے ہیں۔ ان میں سے تیرہ مقدمات امریکی ریاست واشنگٹن میں درج کرائے گئے ہیں جہاں حال ہی میں سپیمرز کے خلاف انتہائی سخت قوانین رو بہ عمل آئے ہیں اور دو مقدمات برطانیہ میں درج کرائے گئے ہیں۔
مائیکرو سافٹ کے قانونی مشیر بریڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ ’غیر مطلوبہ ای میل بھیجنے کی یہ حرکت سرحدی پابندیوں سے بالاتر ہوتی ہے اس لئے اس سلسلے میں عالمی رابطہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ ادارہ اور حکومت مل کر صارفین کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرسکیں۔‘
سپیم، یا غیر مطلوبہ ای میل پیغام رسانی کا یہ سلسلہ جو بعض ماہرین کے خیال میں انٹرنیٹ کی نصف سے زیادہ سرگرمیوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے بھیجے جانے والے آدھے سے زیادہ پیغامات پر مشتمل ہے اب اس قدر بڑھ چکا ہے کہ خود انٹرنیٹ کی کارکردگی اور صلاحیت کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کے وجود ہی کے لئے ایک بڑا خطرہ بن گیا ہے۔
یہ غیر مطلوبہ ضخیم پیغامات نہ صرف انٹرنیٹ پر پیغام رسانی کے ای میل نظام کو جام کرسکتے ہیں بلکہ مختلف اداروں کے کمپیوٹر کے نظام یعنی نیٹ ورکس کو بھی شدید متاثر کرسکتے ہیں۔
ان غیر مطلوبہ ای میل پیغامات کا ایک بڑا تناسب فحش ویب سائیٹس کے اشتہارات پر مشتمل ہے جو نہ صرف جرم ہے بلکہ ای میل استعمال کرنے والے افراد کے لئے شدید پریشانی کا باعث بھی بنا ہوا ہے۔دنیا کا سب سے بڑا ادارہ مائیکرو سافٹ اس مسئلہ سے نجات کے لئے مختلف اداروں کے اشتراک و اتحاد سے کوشاں رہا ہے جن میں یاہو، ارتھ لنک، امیرکہ آن لائن وغیرہ شامل ہیں۔
سرکاری سطح پر مختلف امریکی ریاستیں یا تو پہلے ہی ان غیر مطلوبہ ای میل پیغامات کے ذمہ داروں کے خلاف انتہائی سخت قوانین پر مشتمل قانون سازی کرچکی ہیں یا پھر ایسے قوانین تیار کرنے پر پر غور کررہی ہیں تاکہ اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔ جبکہ یورپی یونین کے رکن ممالک میں ان سپیمرز کے خلاف قوانین کا نفاذ آئندہ ماہ اکتوبر تک متوقع ہے۔ |
|
 |