 |
|
 |
|
| ایک شام پاکستان کے نام |

رائل البرٹ ہال میں پپو سائیں کا ڈھول
|
رپورٹ: عروج جعفری، بی بی سی اردو سروس
بدھ کی رات لندن کے رائل البرٹ ہال میں پاکستان ہائی کمیشن کے زیر اہتمام ’رِدھم آف دی اِنڈس‘ یعنی دریائے ’سندھ کی تالیں‘ کے نام سے ایک شو ہوا جس میں پاکستانی فنکاروں اور فیشن ڈیزائنروں کا کام سننے اور دیکھنے کو ملا۔
رائل البرٹ ہال میں میزبانی عتیقہ اوڈھو اور آرٹ ملک نے کی جدھر نظر جاتی پاکستانیوں کا ہجوم تو تھا ہی مگر بڑی تعداد میں انگریز بھی موجود تھے۔ چاہے ابرار الحق کا ’نچ پنجابن‘ ہو یا جنون کا ’جذبہ جنون‘ یا عابدہ پروین کی آواز میں ’مُن کن تو مولا‘ حاضرین سب ہی پر جھومتے تالیاں بجاتے نظر آتے۔
شو کی ابتداء پاکستان کے قومی ترانے سے ہوئی۔ جنون گروپ کے سلمان احمد نے گٹار پر قومی ترانہ بجایا اور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف سمیت ہال میں بیٹھے تمام لوگ کھڑے ہو گئے۔ پر دیس میں پاکستانی ترانہ اور اس پر پاکستانیوں کی عقیدت ایک دلچسپ منظر تھا۔
انہوں نے سٹیج پر سب سے پہلے پاکستانی کتھک رقاصہ ناہید صدیقی کو دعوت دی جنہوں نے امیر خسرو کے کلام پر کتھک پیش کیا۔
پھر جیسے جیسے شام ڈھلتی گئی پاکستانی ملبوسات کی نمائش بھی ہوئی پاکستانی گلوکار اپنا رنگ جماتے رہے اور مختلف ماڈلز پاکستانی ڈیزائنروں کا کام سٹیج پر دکھاتی رہیں۔
ان ڈیزائنرز میں لاہور کی نیلوفر شاہد، کراچی کی سونیا باٹلا اور مردوں کے لئے ملبوسا ت تیار کرنے والے کراچی کے دیپک پروانی شامل تھے۔ تمام ماڈلز کے زیورات اور میک اپ امین گل جی نے تیار کیا۔
اس پروگرام کی منتظم کراچی کی صحافی فی فی ہارون تھیں جن کی محنت اور تیاری پورے ہال پر چھائی رہی۔
شائقین بڑی دلچسپی سے تمام پروگرام سنتے اور ماڈلز کی ’کیٹ واک‘ سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
یوں تو پوپ موسیقی کے سبھی پاکستانی گروپ جن میں جنون اور سٹرنگز شامل تھے لوگوں میں خاصے مقبول رہے لیکن کراچی کے نئے اُبھرنے والے گروپ ’فیوژن‘ اور لاہور کے پپو سائیں کے ڈھول نے بھی اپنی موجودگی اور فن کا بھرپور احساس دیا۔
اس دوران ہال میں بیٹھے پاکستانی صدر جنرل مشرف نے کئی بار ہاتھ ہلا کر پاکستانیوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ ان کے درمیان موجود ہیں اور رنگ و موسیقی کا مزہ اٹھا رہے ہیں۔
یوں تو شام کا اختتام عابدہ پروین کی آمد اور ’لال میری‘ پر بھرے ہوئے ہال میں پڑنے والی دھمال پر ہونا تھا لیکن جنون گروپ نے ایک بار پھر یہ ’جذبہ جنون‘ جگایا اور یوں لوگ ’پاکستان، کبھی نہ بھولو‘ گاتے اپنے اپنے گھروں کو لوٹے۔
 پاکستانی فیشن کی ایک جھلک | |
|
 |