BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 11:55 - 01/06/2003
بلیئر: سچے یا جھوٹے؟
عراق کے بارے میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں
عراق کے بارے میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ انہیں کوئی شک نہیں کہ عراق کے پاس مہلک جراثیمی اور کیمیائی ہتھیار موجود تھے جبکہ ان کی کابینہ کی ایک اہم سابق رکن کلیئر شارٹ کا کہنا ہے کہ ٹونی بلیئر نے عراق کے خلاف جنگ کے اصل مقاصد کے بارے میں عوام کو دھوکہ دیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے ٹی وی چینل سکائی نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نےعراق کے پاس مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں ایسے شواہد دیکھیں ہیں جو عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔

برطانیہ کے ان سیاسی رہنماؤں کے عراق پر حملے کے حق اور مخالفت میں بیانات کے ساتھ ساتھ جنگ سے پہلے عراق کے مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں منظر عام پر لائے جانے والی دستاویز کی قانونی حیثیت کے بارے میں متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں۔

ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ عراقی ساننسدانوں اور عراق میں

مہلک ہتھیاروں کی تلاش میں
دیگر افراد کے انٹرویو سے حاصل ہونے والی معلومات نے مہلک ہتھیاروں کے بارے میں ان کا یقین پختہ ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عراق میں سینکڑوں مقامات پر تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد سامنے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں شک کر رہے ہیں انہیں صبر سے کام لینا چاہیے۔

اس کے برعکس اخبار سنڈے ٹیلی گراف کے مطابق ان کی کابینہ میں بین الاقوامی ترقی کی سابق وزیر کلیئر شارٹ کا کہنا ہے کہ ’میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ وزیر اعظم اگست کے مہینے میں عراق کے خلاف جنگ کا فیصلہ کر چکے تھے اور انہوں نے ہم سب کو مستقل دھوکے میں رکھا‘۔

کلیئر شارٹ کا کہنا ہے کہ عراق پر حملے کی اصل وجہ صرف وزیر اعظم کو پتہ ہے اور انہوں نے اس کے حق میں ماحول پیدا کرنے کے لئے معلومات کو توڑ پھوڑ کر پیش کیا۔

حالیہ دنوں میں امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑاہے کہ انہوں نے عراق پر حملے کا جواز پیدا کرنے کے لئے جھوٹ بولا تھا۔

برطانیہ کے ایک اخبار میل آف سنڈے کے سروے مطابق تریسٹھ فیصد لوگ سمجھے ہیں کہ ان کے وزیر اعظم نے عراق پر حملے کے بارے میں اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ غلط بیانی کی۔ اخبار کے مطابق سروے میں پچاس فیصد لوگ اب بھی سمجھ رہے ہیں عراق پر حملے کا جواز موجود تھا۔

کلیئر شارٹ نے اخبار کو بتایا کہ عراق پر حملے سے پہلے جاری ہونے والی دستاویز میں یہ دعویٰ خفیہ اداروں کی طرف سے نہیں آیا تھا کہ عراق پینتالیس منٹ کے نوٹس پر مہلک ہتھیار داغ سکتا ہے۔

وزیر اعظم بلیئر کا کہنا ہے کہ مذکورہ دستاویز کی منظوری خفیہ ادراوں کی مشترکہ کمیٹی نے دی تھی اور کسی سیاستدان کا یا ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright