 |
|
 |
|
| بلیئر: سچے یا جھوٹے؟ |

عراق کے بارے میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں
|
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ انہیں کوئی شک نہیں کہ عراق کے پاس مہلک جراثیمی اور کیمیائی ہتھیار موجود تھے جبکہ ان کی کابینہ کی ایک اہم سابق رکن کلیئر شارٹ کا کہنا ہے کہ ٹونی بلیئر نے عراق کے خلاف جنگ کے اصل مقاصد کے بارے میں عوام کو دھوکہ دیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے ٹی وی چینل سکائی نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نےعراق کے پاس مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں ایسے شواہد دیکھیں ہیں جو عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔
برطانیہ کے ان سیاسی رہنماؤں کے عراق پر حملے کے حق اور مخالفت میں بیانات کے ساتھ ساتھ جنگ سے پہلے عراق کے مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں منظر عام پر لائے جانے والی دستاویز کی قانونی حیثیت کے بارے میں متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں۔
ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ عراقی ساننسدانوں اور عراق میں  مہلک ہتھیاروں کی تلاش میں | دیگر افراد کے انٹرویو سے حاصل ہونے والی معلومات نے مہلک ہتھیاروں کے بارے میں ان کا یقین پختہ ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عراق میں سینکڑوں مقامات پر تفتیش جاری ہے اور مزید شواہد سامنے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں شک کر رہے ہیں انہیں صبر سے کام لینا چاہیے۔
اس کے برعکس اخبار سنڈے ٹیلی گراف کے مطابق ان کی کابینہ میں بین الاقوامی ترقی کی سابق وزیر کلیئر شارٹ کا کہنا ہے کہ ’میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ وزیر اعظم اگست کے مہینے میں عراق کے خلاف جنگ کا فیصلہ کر چکے تھے اور انہوں نے ہم سب کو مستقل دھوکے میں رکھا‘۔
کلیئر شارٹ کا کہنا ہے کہ عراق پر حملے کی اصل وجہ صرف وزیر اعظم کو پتہ ہے اور انہوں نے اس کے حق میں ماحول پیدا کرنے کے لئے معلومات کو توڑ پھوڑ کر پیش کیا۔
حالیہ دنوں میں امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑاہے کہ انہوں نے عراق پر حملے کا جواز پیدا کرنے کے لئے جھوٹ بولا تھا۔
برطانیہ کے ایک اخبار میل آف سنڈے کے سروے مطابق تریسٹھ فیصد لوگ سمجھے ہیں کہ ان کے وزیر اعظم نے عراق پر حملے کے بارے میں اپنے ملک کے لوگوں کے ساتھ غلط بیانی کی۔ اخبار کے مطابق سروے میں پچاس فیصد لوگ اب بھی سمجھ رہے ہیں عراق پر حملے کا جواز موجود تھا۔
کلیئر شارٹ نے اخبار کو بتایا کہ عراق پر حملے سے پہلے جاری ہونے والی دستاویز میں یہ دعویٰ خفیہ اداروں کی طرف سے نہیں آیا تھا کہ عراق پینتالیس منٹ کے نوٹس پر مہلک ہتھیار داغ سکتا ہے۔
وزیر اعظم بلیئر کا کہنا ہے کہ مذکورہ دستاویز کی منظوری خفیہ ادراوں کی مشترکہ کمیٹی نے دی تھی اور کسی سیاستدان کا یا ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ |
|
 |