 |
|
 |
|
| ’اےدل مجھےایسی جگہ ...‘ |

انیل کی موت سے بھارتی فلموں میں ایک باب ختم ہو گیا
|
ہندوستان کے نامور موسیقار انیل بسواس کا اکتیس مئی بروز ہفتہ کو دلّی میں انتقال ہوگیا۔ ان کے پسماندگان میں دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ ان کی آخری رسومات یکم جون بروز اتوار کو دلّی میں ادا کی جائیں گی۔
بیشتر نقادوں کا کہنا ہے کہ اگر انیل بسواس نہ ہوتے تو ہمیں اُس مشہور نغمے کو ادا کرنے والے طلعت محمود کی آواز سننے کو نہ ملتی جس کے بول تھے ’اے دل مجھے ایسی جگہ لے چل‘۔ انیل بسواس کو فلمی دنیا میں پیار سے ’انیل دا‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔
انھوں نے ہی سن انیس سو انچاس میں طلعت محمود کو فلمی شائقین سے متعارف کرایا تھا۔ انیل دا نے ہی سن انیس سو پینتالیس میں فلمی پہلی نظر میں مکیش کو گانے کا موقع دیا۔ جس کے بعد مکیش کئی دہائیوں تک ہندوستانی فلمی صنعت میں اپنی آواز کا جادو بکھیرتے رہے۔
اس کے علاوہ انیل دا ہی وہ پہلے موسیقار تھے جنھوں نے ہندی فلموں میں آکسٹرا کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا تھا۔ انیل دا نے ثریا اور لتا کی آوازوں کو بھی اپنی بیشتر فلموں میں بڑی مہارت سے استعمال کیا۔
انیل دا کی پیدائش سن انیس سو چودہ میں مشرقی بنگال کے باریسال گاؤں میں ہوئی تھی۔ اپنی کم عمری کے دور میں ہی مشہور بنگالی شاعر قاضی نصرالاسلام کی نظموں سے متاثر ہوکر انیل دا نے آزادی کی تحریک میں حصہ لینا شروع کردیا۔
اسی دور میں انیل دا نے حب الوطنی سے تعلق رکھنے والے کئی گیتوں کو اپنی موسیقی سے سجایا اور کئی گیت بھی لکھے جوکہ آج بھی گائے جاتے ہیں۔
انیل دا نے اپنا فلمی سفر سن انیس سو چونتیس میں شروع کیا تھا۔ فلموں میں مصروفیت کے باوجود تھیٹر اور مختلف ترقی پسند تحریکوں سے ان کا تعلق ہمیشہ برقرار رہا۔
انیل دا آج ہمارے بیچ نہیں ہیں لیکن ان کی موسیقی ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہے گی۔ |
|
 |