BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 00:29 - 30/05/2003
ہتھیار ملیں گے: رمزفیلڈ
کوششوں کے باوجود امریکی فوج ہتھیار برآمد نہ کرسکی
کوششوں کے باوجود امریکی فوج ہتھیار برآمد نہ کرسکی

امریکی وزیردفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو برآمد کرلیا جائے گا۔ انہوں نے چند روز قبل یہ کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ صدام حسین نے جنگ کے آغاز سے قبل یہ ہتھیار تباہ کردیے ہوں۔

لیکن اب امریکی وزیردفاع کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے برآمد نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سابق عراقی رہنما صدام حسین نے انہیں چھپانے کی بھرپور کوشش کی۔

پہلی بار جب رمزفیلڈ نے کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ صدام

رمزفیلڈ نے اپنا موقف بدلا
حسین نے یہ ہتھیار تباہ کردیے ہوں تو امریکہ پر شدید تنقید کی گئی تھی کہ عراق پر قبضہ کرنے کے لئے ایسے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بنایا گیا۔

امریکی وزیردفاع نے امریکہ اور برطانیہ پر لگائے جانے والے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ عراق پر جنگ ’اچھی انٹلیجنس‘ کے بعد بھی شروع کی گئی تھی۔

رمزفیلڈ کے برعکس برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے ایک بیان میں یہ کہا ہے کہ انہیں مکمل یقین ہے کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار برآمد کرلیے جائیں گے کیونکہ ان کے بقول ابھی عراقی سائنسدانوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

ابھی یہ تنازعہ جاری ہے اور دریں اثناء امریکی نائب وزیر دفاع نے کہا ہے کہ عراق پر حملہ اس لئے کیا گیا تاکہ سعودی عرب سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے لئے راستہ ہموار کیا جاسکے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے معاملے پر ہی سب حملے کی حمایت کرنے کو تیار ہو سکتے تھے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright