BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 17:36 - 16/05/2003
اوکاڑہ: کسانوں کامحاصرہ
اوکاڑہ ملٹری فارمز کا حالیہ محاصرہ دس دن سے جاری ہے
اوکاڑہ ملٹری فارمز کا حالیہ محاصرہ دس دن سے جاری ہے

رپورٹ: عدنان عادل ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اوکاڑہ

دس روز سے اوکاڑہ کے ملٹری فارمز پر رہنے والے لوگ رینجرز اور پولیس کے محاصرہ میں ہیں ـ

فارمز کے چکوک سے لوگ اندر سے باہر اور باہر سے اندر نہیں جا سکتے ، نہری پانی کی فراہمی بند ہے ، ٹیلی فون لائنیں کاٹ دی گئیں ہیں ـ شہر سے کوئی چیز چکوک کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہے ـ

مزدور مزدوری کے لیے ، بچے سکول کے لیے اور بیمار افراد علاج معالجہ کے لیے چکوک سے اوکاڑہ شہر نہیں جا سکتے ـ

  اس دوران کم سے کم چار بیمار افراد کو علاج کے لیے محاصرہ کی وجہ سے شہر نہیں لے جایا جا سکا اور وہ مر گئے  
  کسان  

ان سولہ سترہ چکوں میں بائیس ہزار خاندان آباد ہیں جن کو رینجرز اور پولیس کے درجنوں اہلکاروں نے گھیرے میں لیا ہوا ہے ـ ان کی جیپیں ہر وقت گشت کرتی رہتی ہیں اور سینکڑوں اہلکار سڑک کے ساتھ واقع رینجرز ہیڈ کوارٹر میں ڈیرہ جماۓ ہوۓ نظر آتے ہیں ـ

ان چکوک کے لوگوں نے ملٹری حکام کو ٹھیکہ کی رقم دینے سے انکار کیا ہوا ہے ـ

جب اخبار نویس چکوک میں داخل ہوتے ہیں رینجرز اور پولیس کے اہلکار ان کی تفتیش کرتے ہیں اور ان کا نام پتہ لکھ کر اندر جانے کی اجازت دیتے ہیں ـ

  چکوک میں سبزیاں نہیں مل رہیں ، کھانے پینے کی چیزیں ختم ہورہی ہیں ، لوگ علاج معالجہ نہ ہونے سے مرنا شروع ہوگۓ ہیں ، جو لوگ شہر جا کر مزدوری کرتے تھے قلاش ہورہے ہیں مگر محاصرہ جاری ہے  
   

چک کےلوگوں نے بتایا کہ اگر کوئی کسی چک سے باہر جانا چاہے تو رینجر کے اہلکار اسے گرفتار کرلیتے ہیں اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں کہ اگر وہ خود مزارع ہے تو زمین کے ٹھیکہ کی رقم جمع کراۓ یا اگر کسی مزارع کا رشتے دار ہے تو اسکا رشتے دار اس کو چھڑانے کے لیے پیسے جمع کراۓ ـ

چک پانچ چار ایل کا طالب ولد محمد صادق جس کا قریبی رشتے دار ، امیر حسین ، گیارہ تاریخ کو رینجرز کی کاروائی کے دوران میں گولی لگنے سے مرگیا ، ان لوگوں میں سے ہے جنھوں نے تشدد سے بچنے کے لیے ملٹری حکام کو پیسے دیےـ

طالب اپنی بپتا سناتے ہوۓ کہتا ہے کہ رینجرز نے اس کے بھائی غلام نبی کو پکڑ لیا اور اس کو مرغا بنا کر اس کی پیٹھ پر اینٹیں رکھ دیں ـ اسے اطلاع ملی تو وہ اسے چھڑانے گیا ـ رینجرز نے اس سے کہا کہ وہ اپنی زمین کے ٹھیکہ کی رقم جمع کرائے۔

طالب کا کہنا ہے کہ اس نے قرض ادھار لے کر پندرہ ہزار فوری طور پر جمع کراۓ تو اس کا بھائی گھر آیا ـ ابھی اس نے تقریبا تیس ہزار ٹھیکہ کی مزید رقم جمع کرانی ہے ـ

کسانوں کا کہنا ہے کہ اس دوران میں کم سے کم چار بیمار افراد کو علاج کے لیے محاصرہ کی وجہ سے شہر نہیں لے جایا جا سکا اور وہ مر گئے ـ

بدھ کی رات چک گیارہ چار ایل میں مرنے والی بیگم بی بی زوجہ نواز ان میں سے ایک ہے ـ ا سکی عمر پینسٹھ سال تھی اور وہ سانس کی بیماری میں مبتلا تھی ـ اسے کئی روز بخار رہا لیکن علاج کے لیے نہ ڈاکٹر کے پاس جا سکی اور نہ دوا اس تک پہنچ سکی ـ

انجمن مزارعین کے عبدالجبار کا کہنا ہے کہ ملٹری فارمز پنجاب حکومت کی ملکیت ہیں جنھیں کولونائزیش ایکٹ کے تحت فوج کو دیا گیا تھا اور فوج نے کسانوں کو اپنا مزارع مقرر کیا تھا ـ

مزارعت کے قانون کے تحت کسانوں کو حقوق حاصل تھے وہ فوج کو آدھی فصل دیتے تھے اور زمین سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا تھا ـ

جنرل مشرف کے فوجی اقتدار قائم ہوتے ہی فوجی حکام نے تقریبا سو سال سے اس زمین پر کاشکاری کرنے والے مزارعوں کو مجبور کیا کہ وہ کراۓ دار بن جائیں اور پانچ سال کا معاہدہ کریں ، انہیں ہر سال دو ہزار سے پانچ ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے سالانہ ٹھیکہ جمع کرانا ہوگا ـ

ٹھیکہ داری کے معاہدہ کے تحت کسانوں کو کسی بھی وقت زمین سے بے دخل کیا جاسکتا ہے ـ

اس نۓ بندوبست کے خلاف مزارعین کی تحریک شروع ہوئی جس میں اب تک نو لوگ صرف اوکاڑہ میں ہلاک ہوچکے ہیں ـ پچھلے سال اگست میں بھی رینجرز کی گولی سے چک کا ایک شخص ہلاک ہوا تھا اور اب گیارہ مئی کو بھی امیر حسین گولی لگنے سے مر گیا ـ

پہلے ان چکوں سے ملٹری فارمز کی انتظامیہ معاملات طے کرتی تھی اور انیس سو ستانوے تک یہ پر امن جگہ تھی ـ اب ایک سال سے رینجرز یہاں تعینات ہیں اور پر تشدد کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے ـ نو کسان ہلاک ہوچکے ہیں ـ تاہم اب تک رینجرز کا کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ـ

اس عرصہ میں ایک سو سے زیادہ مقدمات کسانوں کے خلاف تھانوں میں درج ہوۓ ہیں ـ گیارہ مئی کو جب رینجرز نے ادا نہ کیے جانے والے ٹھیکہ کے بدلے میں کسانوں کے مال مویشی لے جانے کی کوشش کی تو چک چار اور پانچ میں کسان جمع ہوگۓ اور وہاں گولی چلی ـ

چک چار اور پانچ کسانو ں کے پاس گولیوں کے خول ہیں جو ہلکی مشین گنوں کےبتاۓ جاتے ہیں ـ جو آدمی ہلاک ہوا تھا اور جس کے بارے میں تنازعہ ہے کہ وہ رینجر نے مارا یا انجمن مزارعین کی گولی سے مرا ، اس کے جسم میں گولی موجود ہے ـ

سیشن جج نے اس کی قبر کھود کر پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا ہے ـ گولی سے پتہ چلے گا کہ وہ کس بندوق کی تھی اور کتنے فاصلہ سے لگی ـ

اگر کسان ٹھیکہ نہیں دے رہے تو فوج کے پاس قانونی راستہ یہ تھا کہ وہ تحصیل دار کے پاس ان کے خلاف مزارعت کے قانون کے تحت مقدمہ کرتی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ـ

فوجی طاقت کے سامنے مزارعین نے پچھلے سال احتجاج ختم کیا اور گھٹنے ٹیک کر ٹھیکہ کے معاہدے پر دستخط کیے ـ اس سال وہ ٹھیکہ نہ دے کر احتجاج کر رہے ہیں لیکن کب تک ؟

چکوک میں سبزیاں نہیں مل رہیں ، کھانے پینے کی چیزیں ختم ہورہی ہیں ، لوگ علاج معالجہ نہ ہونے سے مرنا شروع ہوگۓ ہیں ، جو لوگ شہر جا کر مزدوری کرتے تھے قلاش ہورہے ہیں مگر محاصرہ جاری ہے ـ
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright