اوکاڑہ کے ایک صحافی کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتارکرلیا گیا ہےـ
چالیس سالہ سرور مجاہد اوکاڑہ میں روزنامہ نواۓ وقت کا نامہ نگار تھا اور خاصے عرصے سے علاقہ میں ملٹری فارمز پر مزارعین اور فوج کے درمیان ہونے والے تنازعہ کی رپورٹنگ کررہا تھا ـ
سرور مجاہد کی تیرہ سالہ بیٹی عاشہ سرور نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ پولیس والے ان کے والد کو ایک روز سے کسی سے ملنے نہیں دے رہے ـ عائشہ کا کہنا ہے کہ ان کے گھر پر گندے ٹیلی فون آرہے ہیں جن سے وہ سب بہن بھائی خوف زدہ ہیں ـ صحافی کے چھ کم عمر بچے ہیں۔
پولیس والے ان کے والد کو ایک روز سے کسی سے ملنے نہیں دے رہے ـ ہمارے ھر پر گندے ٹیلی فون آرہے ہیں جن سے ہم سب بہن بھائی خوف زدہ ہیں
صحافی کی بیٹی
سرور مجاہد کو نو مئی کو ایک تین ماہ پہلے درج کیےگئے مقدمہ میں گرفتار کرلیا گیا اور سوموار کو لاہور میں ایک انسداد دہشت گردی کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ـ
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ذوالفقار علی نے صحافی سرور مجاہد کو چار روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا اور وہ اب تھانہ اوکاڑہ کینٹ کی حوالات میں بند ہے ـ
مزارعین کی تحریک میں شریک فاروق طارق نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ سرور مجاہد کی گرفتاری کا تعلق چار اور پانچ فروری کو اوکاڑہ میں انجمن مزارعین کے زیر اہتمام ہزاروں لوگوں کے جی ٹی روڈ پر دھرنے سے ہے ـ دھرنا دینے والوں نے مطالبہ کیا تھا کہ جن نو افراد کو رینجرز نے گرفتار کیا تھا ان کو رہا کیا جاۓ ـ
اس دھرنے کو ختم کرنے کے لیے رینجز نے آنسو گیس کا استعمال کیا، لاٹھی چارج کیا اور گولی چلائی جس سے دس افراد زخمی ہوۓ تھے ـ
اوکاڑہ صدر اورکینٹ کی پولیس نے اس واقعہ سے متعلق دو مقدمات درج کیے جن میں سینکڑوں لوگوں پر رینجرز کے خلاف اشتعال دلانے اور گولی چلانے کا الزام لگایا گیا ـ ان میں ایک نام سرور مجاہد کا بھی تھا ـ
سرور مجاہد پر اوکاڑہ کینٹ میں پانچ فروری کو درج ہونے والے مقدمہ (ایف آئی آر اڑسٹھ) میں الزام لگایا گیا کہ انھوں نے دھرنے کے وقت سات ایم ایم کی رائفل پکڑی ہوئی تھی اور وہ لوگوں کو رینجرز کے خلاف اشتعال دلا رہے تھے ـ ان پر اوکاڑہ کے تھانہ صدر میں بھی ایک مقدمہ درج ہے ـ
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بیان دیتے ہوۓ صحافی سرور مجاہد نے جج سے کہا کہ ان کو صرف سچ لکھنے کی سزا دی جا رہی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے کبھی سات ایم ایم رائفل دیکھی تک نہیں ـ
صحافی کا کہنا تھا کہ اس نے جو دیکھا لکھ دیا ، اس کا انجمن مزارعین سے کوئی تعلق نہیں ہے ـ وہ نہ تو فوج کے خلاف ہے اور نہ اس کا فوج سے کوئی تعلق ہے ـ
سرور مجاہد نے جج کو بتایا کہ رینجرز اس کی رپورٹنگ سے ناراض رہتی تھی اور اس کو کئی بار غیر جانبدار رپورٹنگ سے روکنے کے لیے رینجرز حکام نے پیسوں کی پیش کش کی اور دھمکیاں دیں اور جب وہ باز نہ آیا تو اسے ان جھوٹے مقدموں میں پھنسا دیا گیا ـ
سرور مجاہد کے وکیل ندیم فاضل نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس کی ایک مقدمہ میں اوکاڑہ کی مقامی عدالت نے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا لیکن کینٹ پولیس نے اسے دوسرے مقدمہ میں گرفتار کرلیا ـ