 |
|
 |
|
| اوکاڑہ : خون کے دھبے |

متاثرہ دیہات کوجانےوالےراستوں کی رینجرز نےناکہ بندی کررکھی تھی
|
(ڈاکٹر پرویز ہود بھائی پاکستان کی قائداعظم یونیورسٹی میں جوہری طبیعات کے پروفیسر ہیں اور ایٹمی اسلحے کے مخالف بھی۔ گزشتہ روز اوکاڑہ میں ملٹری فارمز پر رینجرز کی مبینہ فائرنگ سے ایک آدمی کی ہلاکت کی حقیقت جاننے کے لیے وہ خود اوکاڑہ کے ملٹری فارموں پر گئے۔ذیل میں ان کے مشاہدات درج کیے جا رہے ہیں۔)
گزشتہ روز جب ہم اوکاڑہ پہنچے تو جدید اور بھاری اسلحے سے لیس نیم فوجی رینجرزکے اہلکاروں نے ان تمام راستوں کی ناکہ بندی کی ہوئی تھی جو ان دیہات کو جاتے ہیں جن کے مزارعین احتجاج کررہے ہیں۔
ہم پھر بھی بچتے بچاتے ایک راستے سے بالآخر چک نمبر پانچ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں رینجرز نے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے ایک عمر رسیدہ شخص کو مار ڈالا تھا۔
پہلے تو لوگ ہمیں بھی فوجی اہلکار سمجھ کر فرار ہونے لگے لیکن جب ان کو ہمارے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے ہمارا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔
ہمیں ہرطرف خوف و ہراس کی فضا ملی۔ جس جگہ پر رینجرز کی مبینہ فائرنگ سے ایک ساٹھ برس کا آدمی ہلاک ہوا تھا وہاں اب بھی خون کے دھبے ہیں۔ یہ آدمی ایک دوسرے چک سے یہاں بطور مہمان آیا تھا لیکن گولیوں کا نشانہ بن گیا۔
فائرنگ اتنی شدید تھی کہ اب بھی مکانوں پر گولیوں کے نشانات ہیں۔ حتٰی کہ گاؤں کی مسجد پر بھی گولیوں کے نشانات جگہ جگہ موجود ہیں۔
چک نمبر پانچ سے ہم چک نمبر چار گئے۔ ہر جگہ لوگ ہم کو اپنی بپتا سنارہے تھے اور جسموں پر اپنے اوپر ہونے والے تشدد کے نشانات دکھا رہے تھے۔
اس کے بعد ہماری ملاقات فوج کے ایک میجر اور ایک کرنل سے بھی ہوئی تو ہمارے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ چک پانچ میں ماچھی اور سندھی گروپوں کا تصادم ہوا تھا جس میں گولیاں بھی چلیں تھیں۔دونوں فوجی افسروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشین گنوں سے گولیاں بھی اس تصادم میں چلی تھیں کیونکہ دونوں گروپوں کے پاس ایسا بھاری اسلحہ بھی تھا۔
مزارعین پر تشدد کے نشانات کے حوالے سے ان افسروں کا الزام تھا کہ مزارعین فوج پر الزام دھرنے کے لیے اپنے اوپر خود تشدد کرتے ہیں اور پھر لوگوں کو زخم دکھاتے پھرتے ہیں۔
میری رائے میں ساری طاقت ان ملٹری فارموں پر رینجرز اور سرکاری دستوں کے پاس ہی ہے۔ مزارعین بیچارے تو غربت ، افلاس اور گندگی اور کچے مکانوں میں رہتے ہیں۔ان کے پاس اس طرح کے کوئی ہتھیار دکھائی نہیں دیے اور اگر کچھ ہے تو کم از کم مجھے دکھائی نہیں دیا۔ |
|
 |