 |
|
 |
|
| مرزا طاہر کی تدفین کا تنازعہ |

مرزا طاہر سن انیس سو بیاسی سے جماعت کے خلیفہ تھے
|
رپورٹ: عدنان عادل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
دنیا بھر سے احمدی فرقہ کے رہنما اپنے خلیفہ مرزا طاہر احمد کی وفات کے بعد نئے خلیفہ کے انتخاب کے لیے لندن میں جمع ہورہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان میں مذہبی جماعتوں نے ان کی میت کو پاکستان میں دفن کرنے پر احتجاج کرنے کی دھمکی دی ہے ـ
اتوار کے روز لاہور، کراچی اور پاکستان کے کئی شہروں میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اجلاس ہوئے جن میں احمدی فرقے کے چوتھے خلیفہ مرزا طاہر احمد کی پاکستان میں تدفین کی شدید مخالفت کی گئی ـ
مجلس کے مرکزی امیر مولانا خان محمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مرزا طاہر احمد کی میت پاکستان لا کر ربوہ میں دفن کرنے کی سازش کی گئی تو امن و امان کی صورت حال خطرناک ہوسکتی ہے ـ
ان اجلاس میں جمعیت علمائے پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنماوں نے بھی شرکت کی جو متحدہ مجلس عمل کا حصہ ہیں ـ
مجلس کے مرکزی امیر نے اپنے بیان میں مرزا طاہر احمد پر اسلام دشمنی اور پاکستان دشمنی کے متعدد سخت الزامات عائد کرتے ہوۓ کہا ہے کہ مسلمانان پاکستان ان کو ربوہ میں دفن کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے ـ
مرزا طاہر احمد لندن میں جمعہ کے روز انتقال کرگئے تھے ـ وہ بشیرالدین محمود کے بیٹے اور مرزا غلام احمد کے پوتے تھے جنہوں نے اٹھارہ سو نواسی میں احمدی تحریک کی بنیاد رکھی ـ
مرزا طاہر احمد انیس سو چوراسی میں پاکستان چھوڑ کر اس وقت لندن چلے گۓ تھے۔
اتوار کے روز لاہور میں جماعت احمدیہ کے لاہور میں سیکرٹری جنرل راجہ غالب احمد نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ دنیا بھر سے احمدی مشنوں کے سربراہوں کو لندن میں جلد سے جلد پہنچنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ وہ نۓ خلیفہ کا انتخاب کرسکیں ـ
ان کے مطابق سوموار کی رات یا منگل کو یہ انتخاب اکثریتی راۓ سے عمل میں آجاۓ گا ـ انہوں نے بتایا کہ احمدیوں کے مرکز ربوہ اور پاکستان بھر سے تمام احمدی رہنما لندن کے لیے روانہ ہوچکے ہیں ـ
غالب احمد نے بتایا کہ نۓ خلیفہ ہی اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ مرزا طاہر کی تدفین کہاں ہوگی اور وہی روایت کے مطابق مرزا طاہر کی نمازہ جنازہ پڑھائیں گے ـ
غالب احمد نے کہا کہ ان کے فرقہ کے لیے مرزا طاہر کی وفات ایک صدمہ کا موقع ہے جس پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کےرہنماؤں کے بیان پر کسی ردعمل کا اظہار کرنا مناسب نہیں سمجھتے تاہم مولوی حضرات کا مرزا طاہر کی ربوہ میں تدفین کی مخالفت کرنا بہت دکھ کا باعث ہے کیونکہ اگر احمدی فرقہ کو اقلیت بھی قرار دے دیا گیا ہے تب بھی انہیں اپنے رہنما کو پاکستان میں دفن کرنے کا حق حاصل ہے ـ
احمدیوں کو پاکستان میں انیس سو چوہتر میں غیرمسلم قرار دے دیا گیا تھا اور ان کو خود کو مسلمان کہنے پر قانونی پابندی لگا دی گئی تھی ـ |
|
 |