BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 16:03 - 11/04/2003
وکیل ایم ڈی طاہر، توہین عدالت کی سزا
ایم ڈی طاہرکی وجہ شہرت مفادعامہ کی درخواستیں دائرکرنا ہے
ایم ڈی طاہرکی وجہ شہرت مفادعامہ کی درخواستیں دائرکرنا ہے

تحریر: عدنان عادل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

آج لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے لاہور کے معروف وکیل ایم ڈی طاہر کو توہین عدالت کی سزا سناتے ہوئے چھ ماہ کے لئے جیل بھیج دیا۔ تاہم بعد میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل سنتے ہوئے اٹھارہ اپریل تک وکیل کی سزا معطل کرکے ان کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

لاہور کے ایم ڈی طاہر آئے دن مفاد عامہ کے مسائل پر عدالت عالیہ میں آئینی درخواستیں دائر کرتے رہتے ہیں اور یہی ان کی شہرت کی بڑی وجہ ہے ـ اس سے پہلے بھی لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے یہ کہہ کر کہ ایم ڈی طاہر اپنی آئے دن کی درخواستوں سے عدالت عالیہ کا وقت ضائع کرتے ہیں ان کو پچاس ہزار جرمانے کی سزا سنائی تھی ـ

آج ایم ڈی طاہر جب عدالت عالیہ کے چیف جسٹس افتخار چودھری کی عدالت میں ایک دیت کے مقدمہ میں دلائل دے رہے تھے تو انہوں نے چیف جسٹس کو یہ کہہ دیا کہ وہ حکومت کے ’منظور نظر‘ ہیں ـ چیف جسٹس نے ایم ڈی طاہر کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کے پاس بیٹھ جانے کا حکم دیا جہاں وہ دو گھنٹے تک بیٹھے رہے ـ

اس معاملے کی خبر بار ایسوسی ایشن تک پہنچی تو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندے وفد کی صورت میں چیف جسٹس کے پاس گۓ اور ان سے ایم ڈی طاہر کی سزا معاف کرنے کی درخواست کی ـ ان وکلاء کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ وکیل ایک دن جیل میں گزار لے تو وہ سزا معاف کردیں گے ـ

بار کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وکلا کے اصرار پر چیف جسٹس نے ان سے آدھ گھنٹے مزید سوچنے کا وقت مانگا ـ آدھ گھنٹے کے بعد بار کو اطلاع ملی کہ چیف جسٹس نے سزا کا حکم نامہ جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایم ڈی طاہر کو عدالت کے بارے میں نامناسب اور تضحیک آمیز الفاظ استعمال کرنے پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی جاتی ہے اور انہیں پولیس کی تحویل میں کیمپ جیل بھیج دیا گیا ـ

اس پر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے چالیس کے قریب ارکان کا بارایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمان انصاری کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں انہوں نے متفقہ طور پر ایم ڈی طاہر کو توہین عدالت کی سزا سنائے جانے پر مذمت کی قرار داد منظور کی اور پنجاب میں وکلا کی تمام تنظیموں سے کہا کہ وہ اپنے اجلاس بلا کر اس سزا کے خلاف اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ افتخار چودھری کی مذمت میں قراردادیں منظور کریں ـ وکلا تنظیم نے اس اجلاس میں پیر کے روز سے اس مسئلہ پر مزید کاروائی کرنے کا اعلان بھی کیا ہے ـ

اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے صدر عبدالرحمان انصاری اور سابق صدر کاظم خان نے سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں درخواست دائر کی۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے ایم ڈی طاہر کی سزا کے خلاف اپیل سننے کی درخواست کی ـ اس پر جسٹس منیر اے شیخ نے کہا کہ وہ انٹر کورٹ اپیل میں ہائی کورٹ کے ڈویژنل بنچ سے رجوع کریں اور یہ کہ کچھ سامنے ہو (یعنی سزا کا حکم نامہ دیکھ کر)تو ہی اپیل سنی جا سکتی ہے ـ

تاہم وکلا کو سزا کا حکم نامہ نہیں مل سکا اور جمعہ ہونے کی وجہ سے عدالت کا کوئی ڈویژنل بنچ بھی موجود نہیں تھا ـ اس پر بار کے صدر نے دوبارہ جسٹس منیر اے شیخ سے رجوع کیا کہ ان رکاوٹوں کی موجودگی میں وہ سزا کے خلاف اپیل سن لیں ـ اس پر سپریم کورٹ کے جسٹس منیر اے شیخ نے شخصی ضمانت پر ایم ڈی طاہر کی سزا اٹھارہ اپریل تک معطل کرکے ان کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ وہ اس مدت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے مناسب فورم پر سزا کے خلاف اپیل دائر کریں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایم ڈی طاہر کو شام چھ بجے کیمپ جیل سے رہا کردیا گیا ـ
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright