BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 09:03 - 15/03/2003
شاہدہ پروین چلی گئیں
شاہدہ پروین کافیوں کی گائیکی کے لیے بہت مشہور تھیں
شاہدہ پروین کافیوں کی گائیکی کے لیے بہت مشہور تھیں

تحریر: مصدق سانول

پاکستان کی معروف گلوکارہ شاہدہ پروین ہفتے بھر کی علالت کے بعدجمعرات کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔ مقامی اخبارات کی مطابق وفات کے وقت ان کی عمر پچاس برس تھی۔

شاہدہ پروین کو تقریباً دس دن قبل گردے کی تکلیف کے سبب شیخ زید ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں بدھ کی شام ان کی حالت مزید بگڑ گئی۔ اگلے دن علی الصبح انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سانس لیئے اور انہیں سہ پہر قبرستان میانی صاحب میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اگرچہ شاہدہ کی شہرت کا بنیادی سبب انکی گائی ہوئی پنجابی اور سرایئکی کافیاں ہیں لیکن انہیں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی تمام اصناف پر مکمل عبور حاصل تھا۔ وہ لوک گیت ، غزل، ٹھمری ، دادرا اور خیال ایک سی سہولت اور آسانی سی گاتی تھیں۔ انہوں نے ماسٹر عبداللہ اور طافو کی ترتیب دی ہوئی دھنوں میں کچھ فلمی گیت بھی گائے لیکن اپنی والدہ اورسرایئکی کافیوں کی بے تاج ملکہ زاہدہ پروین کی طرح انہوں نے جلد ہی اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

گزشتہ چند سالوں سے اپنی علالت کے سبب انہوں نے گانا بہت کم کر دیا تھا لیکن بقول پاکستانی فلموں کے مورّخ اور سینئر صحافی،یاسین گوریجہ کے، کلاسیکی موسیقی کی محفلوں میں ان کی بعد کوئی بھی فنکارہ میدان میں اترنا پسند نہیں کرتی تھی۔

دیکھا جائے تو شاہدہ پروین

یہ خلاء کیسے پورا ہوگا؟
کی تمام تر فنکارانہ زندگی کی کہانی اپنی والدہ کے بلند پایہ مقام کے سائے سے جدوجہد کی کہانی ہے۔ان کی والدہ ، زاہدہ پروین سے، جو ملتانی کافی گانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں، ورثے میں انھیں ابتدائی تربیّت کے ساتھ ساتھ گایئکی کا انگ اور شناخت بھی ملی تاہم انہوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر خواجہ غلام فرید کے علاوہ دوسرے صوفی شاعروں جیسے کہ شاہ حسین، بلھے شاہ اور سچل سرمست کا کلام گانے میں اپنے لئے ایک نئی شناخت دریافت کی۔

شاہ رانجھا البیلا، جوگی جادوگر ہے اور دلڑی لُٹی، تیں یار سجن کدی موڑ مہار تے آ وطن، ان کی چندمشہور کافیوں میں سے ہیں۔ وہ محفلوں میں گھنٹوں بغیر تھکے گاتی تھیں اور یاسین گوریجہ کے کہنے کے مطابق شاہدہ پروین نے کم وبیش پچھلے اٹھایئس سال میں ریڈیو اور ٹیلیوژن کے علاوہ بے شمار کیسٹس بھی ریکارڈ کروائے۔

اپنی والدہ کی وفات کے بعد انہوں نے موسیقی کی تعلیم استاد چھوٹے غلام علی سے حاصل کی جس کی وجہ سے انکا انگ کسی حد تک مختلف ہوا تاہم زیادہ نمایاں انگ انکی والدہ ہی کا رہا۔ ان کی زیادہ تر زندگی حیرت انگیز طور پر اپنی والدہ کی زندگی سے مماثلت رکھتی ہے حتٰی کہ ان کا انتقال بھی اپنی والدہ کی طرح عمر کے اس حصے میں ہوا جب وہ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں، اپنی موسیقیّت اور صوفی کلام میں اپنی والہانہ آمد کے عروج پر تھیں۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright