 |
|
 |
|
| انٹرنیٹ: ریکارڈ تیز رفتاری |

سائنسدانوں نے انٹرنیٹ کی ریکارڈ تیز رفتاری کا تجربہ کیا ہے
|
سائنسدانوں نے امریکہ سے ہالینڈ تک چھ اعشاریہ سات گیگا بائٹس ڈیٹا (یا معلومات) کو دس ہزار نو سو ستاسی کلو میٹر کے فاصلے پر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں منتقل کرکے انٹرنیٹ کی تیزرفتاری کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
یہ ڈیٹا، جو تقریباً دو ڈی وی ڈی کوالٹی فلموں کے برابر ہے، امریکہ کے مقام سنی ویل سے ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈم تک اوسطاً نو سو تیئس میگا بائٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے منتقل کیا گیا ہے، جو گھروں میں عام طور پر استعمال ہونے والے براڈ بینڈ کمپیوٹرز کے مقابلے میں ساڑھے تین ہزار گنا زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ انٹرنیٹ کی دریافت ہوتے ہی اس پر کئے جانے والے تمام تجربوں میں سائنسدانوں کی تمام تر کوشش اس کی رفتار میں اضافہ کے لئے ہی کی جاتی رہیں ہیں اور انٹرنیٹ کی رفتار یا اسپڈ سے مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ اپنے استعمال کرنے والے تک معلومات خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہوں یعنی آواز و تصویر سمیت کم سے کم وقت میں کس طرح پہنچا سکتا ہے۔
اسٹینفرڈ لینیئر ایکسیلیٹر سینٹر کمپیوٹر سروسز کے ایک ماہر، لیس کاٹرل کا کہنا ہے کہ ’ہم انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز پرفارمینس اینویلپ پر مزید تحقیق کرتے ہوئے اب انٹرنیٹ کی اس تیز رفتاری کو روزمرہ استعمال میں بھی لا سکتے ہیں۔‘
انہوں نے انکشاف کیا کہ اگر یہ تیز رفتاری روزمرّہ استعمال کے کمپیوٹرز میں آ گئی تو، ’ڈاکٹروں کے لئے یہ ممکن ہو جائے گا کے وہ دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک دل کے کسی مریض کی اینجیو گرافی کی رپورٹ پر اصل وقت کے اندر اندر ہی دنیا کے تمام ڈاکٹروں کی رائے لے لیں اور اس مریض کا مناسب ترین علاج کر سکیں یا پھر، ناگہانی آفات کی صورت میں امدادی کارکن و ماہرین جو دنیا کے دو مختلف سروں پر موجود ہوں، محض اصل وقت ہی میں ہر قسم کی معلومات کا تبادلہ کر سکیں۔‘
انٹرنیٹ کی تیزرفتاری کے تجربہ کے دوران معلومات یا ڈیٹا بھیجنے کا یہ نیا ریکارڈ دو سو یونیورسٹییز کے ایک ایسے اشتراک نے قائم کیا ہے جو عالمی طور پر ’مستقبل کا انٹرنیٹ‘ تیار کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
امریکہ میں توانائی کے شعبہ کے آفس آف سائنس کے ڈائکٹر ریمنڈ آرباچ کا کہنا ہے کہ ’معلومات یا ڈیٹا کی اس تیز رفتار ترین ترسیل کا یہ تجربہ طبیعات کے میدان میں جاری کوششوں کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔‘
کالٹیک میں طبیعات کے پروفیسر ہاروے نیو مین نے کہا ہے کہ معلومات کی ترسیل کی یہ کوششیں پہلے بھی جاری تھیں اور اب ہم توقع کر رہے ہیں کہ اگلی دھائی تک ہم اس سلسلہ میں پیٹابائٹ کی سطح تک پہنچ جایئں گے۔‘ |
|
 |