 |
|
 |
|
| پشاور میں صوفیانہ محفل رقص |

ترک فنکار عالم محویت میں
|
رپورٹ: ہارون رشید، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ سرحد میں جہاں دینی جماعتوں کی حکومت ہے سوموار کی شام ایک ایسی محفل موسیقی منعقد ہوئی جس میں رقص بھی تھا سرود بھی اور سب سے بڑھ کر وجد بھی– ایسی مست محفل پر شاید ہی کسی کو اعتراض ہو کیونکہ یہ ترکی کے مشہور صوفی رقص کی مجلس تھی–
تقریبا تین ہزار برس پرانی تاریخ رکھنے والے اس رقص میں آج بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ترکی میں ہر سال دسمبر میں مولانا جلال الدین رومی کے عرس پر یہ رقص اپنے تمام وجد اور رعنائیوں کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ کیا جاتا ہے–
اس رسم کا آغاز مولانا رومی کے زمانے سے ہوا تھا اور اس کے دوران انہی کی مشہور زمانہ مثنوی سے کلام پڑھا جاتا ہے– اس رقص کو کرنے والوں کو گھومتے درویش کہا جاتا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالی سے قربت حاصل کی جاتی ہے -
پشاور کے ایک ہوٹل میں اس محفل کا انتظام پاکستان میں ترکی کے سفارت خانے اور اس ملک کی کاروباری تنظیموں نے مل کر کیا تھا–
اس محفل اور عشایہ سے ہونے والی آمدنی فلاحی کاموں کے لئے استعمال کی جائے گی–
گورنر سرحد لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید افتخار حسین شاہ سمیت ایک بڑی تعداد میں زندگی کی مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں نے اس میں شرکت کی اور اپنے ہی شہر میں ترکی کے اس بین القوامی شہرت پانے والے فن سے لطف اندوز ہوئے–
اس موقعہ پر اپنے ابتدائی کلمات میں پاکستان میں ترکی کے سفیر نے اس رقص کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ تفریح نہیں بلکہ ایک رسم ہے جس میں آدمی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتا ہے– انہوں نے ہال میں موجود افراد کو خصوصی طور پر تالیاں بجانے سے منع کیا کیونکہ بقول انکے اس سے رقص کرنے والے اپنی توجہ کھو بیٹھتے ہیں–
اس تقریب کے لئے ایک سیاہ پس منظر والا مخصوص سٹیج بنایا گیا تھا - ابتداء میں تقریبا آدھے گھنٹے تک ترکی کے موسیقاروں اور گانے والوں نے مختلف نعموں اور مولانا رومی کے کلام کی مدد سے شرکاء محفل کو اپنے زیر اثر کیا–
اس کے بعد سیاہ چغے اوڑھے اور سروں پر لمبی بھورے رنگ کی ٹوپیاں پہنے درویشوں نے اس مخصوص رقص کا آغاز کیا جس کا تمام شرکاء کو بےچینی سے انتظار تھا–
سیاہ چغے اترے تو درویشوں کے سفید فراک نے سٹیج اور خود محفل کا رنگ تبدیل کر دیا– سیاہ چغے اتارنے سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کے یہ درویش دنیاوی مسائل و سوچ سے آزاد ہوکر خدا کے قریب ہوگئے ہیں- دونوں بازوں کھولے ایک ہاتھ کا رخ آسمان کی جانب جبکہ دوسرے کا زمین کی طرف رکھتے ہوئے درویشوں نے گول چکر لگانے شروع کئے اور ہر چکر کے ساتھ وجد کی گہرایوں میں ڈوبتے چلے گئے– ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ نہیں بلکہ ان کے پاؤں تلے زمین گھوم رہی ہے–
رقص کا اختتام قرآن کریم کی سورہ بقرہ کی اس آیت کی تلاوت سے ہوتا ہے جس کا مطلب ہے کے اللہ ہی کے لئے ہیں مشرق و مغرب اور وہ ہر جگہ موجود ہے– وہ سب جانتا ہے–
اس رسم کے اختتام پر جسے سماع کہا جاتا ہے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے–
اس رسم کے اختتام پر موجود شرکاء نے دل کھول کر ترکی کے فنکاروں کو داد دی– ان کا کہنا تھا کہ گھر بیٹھے انہیں اس بین الاقوامی شہرت کے حامل رقص کے بارے میں جانے کا موقعہ ملا جوکہ غنیمت ہے-
|
|
 |