BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 12:26 - 24/01/2003
پشاور:موسیقی کی راہ میں بند
یہ فنکار تقریبات میں گا کر گزر اوقات کرتے ہیں۔
یہ فنکار تقریبات میں گا کر گزر اوقات کرتے ہیں۔

پشاور سے ہارون رشید کی رپورٹ

پاکستان کے صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کی حکومت کی ایماء پر پولیس نے سینما گھروں اور ویڈیو سینٹروں پر پابندی لگانے کے بعد اب صوبائی دارالحکومت پشاور کے وسط میں واقع مشہور بازار ذبگری کے گوئیوں کو بھی اپنے بالاخانوں کی کھڑکیاں بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ قدم صوبے میں عریانی اور فحاشی کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔

تاریخی شہر پشاور کے مرکز میں واقع ذبگری بازار میں انگریزوں کے وقت سے موسیقی اور گانے بجانے کا کاروبار جاری ہے۔ آج بھی ستر اور اسی سال عمر کے افراد کم آمدنی والے لوگوں کی شادیوں اور خوشی کی دیگر تقریبات میں گا بجا کر گزر اوقات کرتے ہیں –

بازار میں رباب اور دوسرے موسیقی کے آلات فروخت کرنے کی تو ایک دو ہی دوکانیں ہیں البتہ صدیوں پرانی عمارتوں کے بالا خانوں میں گاہکوں کے منتظر گائک چند روز پہلے تک ایک معمول کا منظر تھا۔

اب یہ کھڑکیاں بستے بند کر دیے گئے ہیں – پولیس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ بازار سے گزرنے والوں اور دوکانداروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے۔

لیکن بظاہر اس فیصلے کا مقصد تقریبا ایک صدی سے جاری اس کاروبار کو عوام کی آنکھوں سے دور رکھنا ہے۔اس حکومتی فیصلے سے یہ فنکار خود بھی حیران ہیں –

ذبگری کے ایک گروپ کے سربراہ فدا محمد کا کہنا ہے کہ انہیں بھی اس فیصلے کی وجہ معلوم نہیں اور نہ بتائی گئی ہے۔

’ہمیں نہیں معلوم کے یہ سب کچھ پولیس کر رہی ہے ۔ ملا کر رہے ہیں یا کوئی اور‘

اس کا کہنا تھا کہ کھڑکی دروازہ بند کرنے سے ان کے کاروبار پر یقینا برا اثر پڑے گا – جب کھڑکی دروازہ بند ہوگا تو گاہک یہی سمجھے گا کہ ہم موجود نہیں۔

نسوار سے بھرے منہ سے بولتے ہوے ایک موسیقار سرمست استاد کا ماننا تھا کہ ان کی بھی سمجھ میں اس فیصلے کی وجہ نہیں آئی۔

’ہم نے نہ کبھی کسی کا برا بھلا سوچا نہ کیا۔ ہم لوگ کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے‘۔

البتہ ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومتی فیصلے کو ضرور مانیں گے کیونکہ یہ ان کی حکومت کا فیصلہ ہے۔ پچاس سالہ سرمست نے شکایت ضرور کی کہ ان کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔

’حکومت نے ہم غریبوں پر ہی وار کیا ہے جبکہ اونچے مکانوں میں بیٹھے کر یہی کام کرنے والوں کو کچھ نہیں کہا جا رہا‘

پولیس کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت خاموشی کے ساتھ صوبے میں اپنے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے -

پشتو کے معروف شاعر غنی خان نے اپنی کتاب پٹھان میں لکھا تھا کہ پٹھان کو موسیقی تو بہت پسند ہے لیکن موسیقار نہیں۔ اس کاروائی کے پیچھے یہی سوچ بھی نظر آتی ہے-
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright