BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 16:31 - 11/01/2003
امریکی عتاب: کسے وکیل کریں...


واشنگٹن سے انور اقبال کی رپورٹ

امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کے نام پر جو کارروائی جاری ہے اس کا نشانہ ایسے لوگ بھی بن رہے ہیں جو اس کا وہم و گمان بھی نہیں کر سکتے تھے تاہم اس وقت محکمہ ایمیگریشن کے حکام کسی بھی شہری کے بارے میں جو محسوس کرتے ہیں وہی عملاً قابلِ عمل قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

اس وقت اس صورتِ حال کا نشانہ بننے والے ’ کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں ‘ کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ امریکی محکمہ امیگریشن نے اگرچہ خود تیرہ جنوری سے اکیس فروری تک رجسٹریشن کرنے کی تاریخ دی ہے اور کہا ہے جو لوگ اس تاریخ تک اپنا رجسٹریشن کرانے میں ناکام رہیں گے انہیں امریکہ بدرب کیا جا سکتا ہے۔

امیگریشن محکمے کی اس مہم کے باعث لوگوں کی پریشانی اور مسائل میں خاصا اضافہ ہوگیا ہے اور لوگوں کو جو توہین اورحزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے اس کی بیشتر تفصیلات منظر عام پر نہیں آ سکیں کیونکہ ان حالات کا نشانہ بننے والوں کو فوری طور کسی جیل منتقل کر دیا جاتا ہے اور ان سے ملاقات ممکن نہیں رہتی۔

امریکی مسلم کونسل کے فیض رحمان کے مطابق بہت سے خاندانوں کے افراد ایک دوسرے سے بچھڑچکے ہیں، باپ بیٹوں سے دور ہو رہے ہیں اور شوہر اپنی بیویوں سے جُدا۔

نیویارک میں قائم پاکستانی پیشہ ور افراد کی ایسوسی ایشن کے سید آصف عالم نے اس طرح کے چند واقعات کا حوالہ دیا ہے۔ اگرچہ یہ تفصیلات امریکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن نے فراہم کی ہیں تاہم لوگوں کے اصل نام اور پتے اس میں نہیں دیئے گئے تاکہ انہیں مزید پریشانیوں سے بچایا جا سکے۔

1 - ایرانی نژاد ایک کینیڈین شہری الف جب اپنے گھر سے چلا تو اسے یہ گمان تھا کہ کینیڈین شہریت کے باعث وہ رجسٹریشن سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ اسے یہ بات بھی بتائی گئی تھی کہ محکمۂ امیگریشن کینیڈا کے شہریوں کا اندراج کرنے کی بجائے انہیں واپس بھیج رہا ہے۔

اس کے پاس ایچ وَن بی ویزا ہے جو کہ پیشہ ور افراد کو دیا جاتا ہے۔ بہرحال رجسٹریشن کی آخری تاریخ گزرنے ایک روز بعد وہ خود ہی سان ہوزے میں واقع محکمۂ امیگریشن کے مقامی دفتر چلے گئے تاکہ حتمی معلومات حاصل کر سکیں۔

دیر سے رجسٹریشن کرانے کے جرم میں انہیں ایک بس کے ذریعے سان ڈی ایگو بھیج دیا گیا اور حراست میں لے لیا گیا۔

2 - سوڈان کے ایک جیم نامی شہری کو امریکہ میں عارضی تحفظ دیا گیا تھا۔ یہ تحفظ ان ممالک کے افراد کو دیا جاتا ہے جہاں اندرونی خلفشار جاری ہو تاکہ ان ملکوں کے افراد امریکہ میں قانونی طور پر رہ سکیں۔

وہ سولہ دسمبر گزرنے کے بعد انیس دسمبر کو امیگریشن کے دفتر پہنچے۔ وہ رجسٹریشن کے عمل سے پہلے ہی خوفزدہ تھے لیکن ان کے امریکی شہریت رکھنے والے بھائی نے انہیں اندراج کرانے پر قائل کر لیا تھا۔ جب وہ دفتر پہنچے تو انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

3 - ایک ایسے شخص کو بھی حراست میں لیا گیا جس نے امریکی شہری سے شادی کرنے کے بعد امریکہ میں مستقل سکونت کی درخواست جمع کروا رکھی تھی اور محکمہ امیگریشن کی جانب سے جواب کے منتظر تھا، اسے بھی حراست میں لے لیا گیا۔

ان کی امریکی شہری بیگم پر وکیل کی عدم موجودگی میں دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا گیا جب کہ فائل میں یہ درج کیا گیا کہ وکیل موقع پر موجود تھا۔

4 - ناروے کے ایک شہری کو جو ایران میں پیدا ہوا اور اب امریکہ میں مستقل سکونت کی درخواست کے جواب کا منتظر تھا حراست میں لینے کے بعد کہا گیا کہ وہ دو روز میں ملک سے نکال دیا جائے گا حالانکہ مستقل سکونت کی درخواست سے متعلق انٹرویو جنوری میں کیے جانے کی تاریخ دی گئی تھی۔

امریکی محکمۂ امیگریشن کا موقف یہ ہے کہ چونکہ ناروے کے اس شہری کو ویزا ختم کرنے کے پروگرام کے تحت امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی اس لیے اسے کسی بھی سماعت کے بغیر فوری طور پر ملک سے نکالا جا سکتا ہے۔

اسے سان پیڈرو میں علیحدگی میں نظر بند کیا گیا ہے کیونکہ کمر میں تکلیف کے باعث وہ ویل چیئر استعمال کرتا ہے۔

5 - ایران ہی میں پیدا ہونے والا ڈنمارک کا ایک شہری جو رجسٹریشن بھی کروا چکا ہےاور اس کی امریکہ میں مستقل سکونت کی درخواست بھی منظور ہو چکی ہے، اسے بھی حراست میں لیا گیا اور اس کے رجسٹریشن فارم کو مسترد کر دیا گیا۔

ان صاحب کی والدہ امریکی شہری ہیں۔ وہ جنوری میں امریکہ میں مستقل سکونت کے لیے آخری درخواست دینے کا حق رکھتے ہیں لیکن ان پر واضح کیا گیا ہے کہ انہیں سماعت کے بغیر فوری طور پر ملک سے نکال دیا جائے گا کیونکہ وہ ویزا ختم کرنے کے پروگرام کے تحت امریکہ میں داخل ہوئے تھے۔

6 - ایک شخص کو تمام تر کوائف مکمل ہونے کے باوجود پکڑ لیا گیا۔ محکمہ امیگریشن کے کمپیوٹر میں درج تفصیل کے مطابق ان صاحب کو ملازمت دینے والے ادارے نے ایچ وَن بی ویزے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ یہ اطلاع پکڑے گئے شخص کے لیے بالکل نئی تھی۔

7 - تیونس سے آئے ہوئے ایک شخص نے کاغذات مکمل کرنے کے لیے مقررہ معیاد میں توسیع کی درخواست جمع کروائی تھی جسے محکمۂ امیگریشن نے یہ یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ وہ مقررہ وقت پر کاغذات جمع کرانے میں ناکام رہے ہیں۔

جبکہ محکمہ امیگریشن کاغذی کارروائی میں پہلے ہی کئی ماہ صرف کر چکا تھا۔ آخرِ کار ان صاحب کو مئی دو ہزار دو میں مستقل سکونت کی آخری درحواست جمع کرانی تھی لیکن اس دوران جب وہ اندراج کرانے کے لیے پہنچے تو انہیں گرفتار کر کر کے ان کا نام ان فراد کی فہرست میں شامل کر لیا گیا جنہیں ملک سے نکالنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

8 - ایک شخص جسے امریکہ میں مستقل سکونت رکھنے والی خاتون سے شادی کرنے کی بنا پر ویزا ملنا چاہیے تھا اور اسے محکمہ امیگریشن کی جانب سے اپنی درخواست کا جواب کا انتظار بھی تھا، اسے حراست میں لینے کے بعد ان لوگوں میں شامل کر لیا گیا جنہیں ملک سے نکالنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

9 - امریکہ میں ملازمت کی بنا پر مستقل سکونت کی درخواست کے جواب کے منتظر ایک شخص کو مِنی سوٹا میں اس وقت پکڑ لیا گیا جب وہ اندراج کرانے کی غرض سے محکمہ امیگریشن کے دفتر پہنچے۔ انہیں ہتھکڑی پہنا کر وکیل سے علیحدہ کر دیا گیا۔

10 - لبنانی نژاد فرانسیسی شہری امریکہ میں ویزا ختم کیے جانے کے پروگرام کے تحت داخل ہوئے۔ انہیں بھی شادی کی بنا پر مستقل سکونت کی درخواست کے جواب کا انتظار تھا لیکن اسے بھی حراست میں لے لیا گیا۔

11 - مراکش کا ایک شہری اندراج کے لیے انٹرویو دے رہا تھا کہ اسے حراست میں لے لیا گیا۔ اس سے پہلے وہ امریکہ میں ملازمت کی بنا پر مستقل سکونت کی درخواست بھی جمع کروا چکا ہے جو امریکی محکمہ امیگریشن میں تاخیر کی نذر ہو چکی تھی۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے درخواست کی رسید اور ملازمت کے سرٹیفیکیٹ کے علاوہ دیگر تمام کوائف پیش کیے۔ انہیں آخرِ کار چھوڑ دیا گیا لیکن یہ کہا گیا کہ انہیں بھی ان لوگوں میں شامل کیا گیا ہے جنہیں ملک سے نکالے جانے کی تیاریاں جاری ہیں۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright