BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 13:30 - 10/01/2003
کوئی رعایت نہیں ہوگی: امریکی حکام
امریکہ میں مسلمان غیریقینی صورتحال کا شکار ہیں
امریکہ میں مسلمان غیریقینی صورتحال کا شکار ہیں

واشنگٹن سے انوراقبال کی رپورٹ

امریکی حکام نے مسلم تنظیموں پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستانی تارکین وطن کو امیگریشن قوانین کی معمولی نوعیت کی خلاف ورزی پر بھی حراست میں لیا جا سکتا ہے۔

امریکی حکام نے یہ بات چھ مسلم تنظیمیں کے ساتھ امیگریشن اینڈ نیچرلائزیشن کے ہیڈکوارٹرز پر ہونے والی ایک ملاقات میں کہی۔

نیشنل کونسل آف پاکستانی امریکن کے صدر فیض رحمان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا حکومت رجسٹریشن پالیسی سے ایک سے ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔

ان کے مطابق جب وہ یہ بات ملاقات کے دوران امریکی حکام کے نوٹس میں لائے تو وہ بہت حیران ہوئے کیونکہ ان کا اندازہ تھا کہ صرف بیس ہزار پاکستانی اس پالیسی کی زد میں آتے ہیں۔

یاد رہے کہ اگرچہ غیر ملکی تارکین وطن کے اندراج کا کام تو گزشتہ ماہ شروع ہوا تھا لیکن پاکستانی تارکین وطن کی رجسٹریشن کا کام تیرہ جنوری سے شروع ہوگا اور اکیس فروری تک جاری رہے گا۔

ملاقات کے بعد پاکستانی مندوبین نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ حکومت کی رجسٹریشن پالیسی سے ان ہزاروں پاکستانی تارکین وطن کے بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے جو کلنٹن انتظامیہ کی طرف سے اعلان کردہ عام معافی کی پیش کش سے فائدہ اٹھانے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

ان پاکستانی گروپوں نے امریکی حکام سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں کو بتایا کہ محکمہ امیگریشن کے اہلکار پاکستانیوں کو کوئی رعایت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

قانون کے مطابق جو تارکین وطن بھی اندراج کے لئے آئیں گے ان کے فنگر پرنٹس اور تصاویر بھی لی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی انہیں انٹرویو بھی دینا ہوگا۔

امیگریشن اینڈ نیچرلائزیشن سروسز کے کمیونٹی پروگرام کی قائم مقام ڈائریکٹر جینا ایونز نے پاکستانی کمیونٹی نے نمائندوں کو بتایا کہ ان کا محکمہ ان لوگوں کے ساتھ نرمی نہیں برت سکتا جو غیرقانونی تارکین وطن کے زمرے ہیں آتے ہیں یا جن سے امیگریشن قوانین کی معمولی نوعیت کی خلاف ورزیاں سرزد ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو حراست میں لے لیا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہوگی جن کا نتیجہ ان کی ان کے اپنے ملکوں کو واپسی یا ڈیپورٹیشن کی صورت میں ہو سکتا ہے۔

جب ان سے غیرقانونی تارکین وطن یا آؤٹ آف سٹیٹس (out of status) افراد کی تعریف سے متعلق قوال کیا گیا تو انہیں نے کہا انٹرویو لینے والا افسر ہر کیس کا فیصلہ میرٹ پر کرے گا۔

انہوں نے خبر دار کیا کہ جن افراد کے درخواستیں آئی این ایس کے پاس زیر غور ہیں ان کو بھی تکنیکی بنیادوں پر آؤٹ آف سٹیٹس قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے محکمے نے لاس اینجلس میں حاصل ہونے والے تجربے سے بہت کچھ سیکھا ہے جہاں اندراج کے لئے آئے ہوئے کئی سو ایرانیوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright