 |
|
 |
|
| رجسٹریشن میں تاخیرنہ کریں: حکام |

امریکہ میں غیریقینی صورتحال کا شکار مسلمان
|
تحریر: انور اقبال
امریکی ادارے امیگریشن اینڈ نیچرلائزیشن سروسز یعنی آئی این ایس نے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے کہا ہے کہ وہ رجسٹریشن ضرور کروائیں۔
ادارے نے لوگوں کو بتایا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہیں گرفتاری یا ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستانیوں کے ایک گروپ سے خطاب کرتےہوئے آئی این ایس کے اہلکاروں نے زور دیا کہ لوگ آخری تاریخ کا انتظار کئے بغیر جتنی جلدی ہو سکے رجسٹریشن کرائیں۔
قانون کے مطابق اُن تمام مرد پاکستانی مردوں کے لئے رجسٹریشن کرانا ضروری ہے جو تیس ستمبر سن دو ہزار دو یا اس سے پہلے امریکہ میں داخل ہوئے تھے اور وہ تیرہ جنوری انیس سو ستاسی یا اس سے قبل پیدا ہوئے تھے۔
رجسٹریشن تیرہ جنوی سے لے کر اکیس فروری کے درمیان ہوگی۔ رجسٹریشن کا پہلامرحلہ سولہ دسمبر کو مکمل ہو چکا ہے۔ جو لوگ اکیس فروری تک رجسٹریشن نہ کروا سکے ان کو چاہیے کہ وہ بعد میں اس تاخیر کی وجوہات کے ثبوت کے ساتھ جلد از جلد آئی این ایس کے پاس پیش ہو جائیں۔
رجسٹریشن ایسے افراد کے لئے بھی لازمی ہے جن کے والدین، شریک حیات اور بچے امریکی شہری یا لیگل پرمننٹ ریزیڈینٹ یعنی مستقل قانونی رہائشی ہیں۔
اس کے علاوہ ان لوگوں کے لئے بھی رجسٹریشن کرانا ضروری ہے جو دوہری شہریت رکھتے ہیں یاجنہوں نے پرمننٹ
ریزیڈینٹ ہونے کے لئے درخواست دی ہوئی ہے، قطع نظر اس بات کے یہ لوگ ٹیمپریری پروٹیکٹڈ یا عبوری تحفظ کا درجہ حاصل کر چکے ہوں۔
تاہم ایسےافراد رجسٹریشن کی شرط سے مستثنیٰ ہیں جو غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے تھے اور بعد میں انہوں نے عبوری تحفظ کا درجہ حاصل کرلیا تھا۔ امریکہ میں پیرول کے ذریعے داخل ہونے والے افراد کو بھی رجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں۔
گرین کارڈ رکھنے والے، پناہ گزین اور سیاسی پناہ کی منظوری حاصل کر چکنے والے لوگ بھی رجسٹریشن سے مستثنیٰ ہیں۔
سفارتکار اور ان کے اہل خانہ، سفارتی ویزے پر سفر کرنے والے افراد، اور بین الاقوامی تنظیموں کے ملازمین اور نمائندے خصوصی رجسٹریشن سے مستثنیٰ ہیں۔
اکیس فروری سے پہلے امریکہ سے واپس جانے والوں کو رجسٹریشن کی ضرورت نہیں تاہم امریکہ واپسی پر انہیں اس عمل سے گزرنا ہوگا۔
رجسٹریشن کرانے والے افراد کا انٹرویو حلف کے تحت ہوگا۔ درخواست گزار اپنے ساتھ وکیل لے کر جا سکتے ہیں۔
آئی این ایس کے مطابق رجسٹریشن کے دوران سب سے پہلے درخواست گزار کی تصویر اتاری جائے گی اور فنگر پرنٹ لئے جائیں گے۔اس کے بعد انٹرویو ہوگا جو ایک صبر آزما مرحلہ ثابت ہوسکتا ہے۔
پہلے مرحلے میں رجسٹریشن کے عمل سے گزرنے والے افراد کے تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ درخواست گزاروں سے ان کی زندگی کے کسی بھی پہلو کے بارے میں سوال کیا جا سکتا ہے۔ اس میں شادی، سیاسی وابستگی، فرقہ، بچپن کے دوستوں، رشتہ داروں کے بارے میں کچھ بھی پوچھا جا سکتا ہے۔
لوگوں کو یہ بھی بتانا پڑ سکتا ہے آیا وہ جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں، کون سے مذہبی رہنما سے عقیدت رکھتے ہیں اور کون سی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔
کشمیر یا افغانستان میں کام کرنے والے یا اس طرح کے کسی اور مسلح اسلامی گروہ سے ہمدردی رکھنے والے افراد کے ماضی کے بارے میں تفتیش کی جائیگی اور اس دوران انہیں حراست میں رکھا جائےگا۔ کسی سیاسی اسلامی جماعت مثلاًجماعت اسلامی یا جمعیت علما اسلام کے ساتھ وابستگی کی صورت میں بھی ایسا سلوک ہو سکتا ہے۔
سابقہ فوجیوں سے بھی ان کی تربیت، مذہبی رجحانات اور فوج سے فراغت کی وجوہات کے بارے میں سوالات پوچھے جائیں گے۔
لیکن مسئلہ ایک انٹرویو پر ختم نہیں ہوتا۔ جو لوگ ایک سال سے زیادہ عرصہ امریکہ میں رہنا چاہتے ہیں انہیں سال مکمل ہونے پر دوبارہ آئی این ایس حکام کے سامنے پیش ہونا پڑ سکتا ہے۔اور امریکہ میں قیام کے دوران ہر سال ایسا کرنا پڑے گا۔
اس کے علاوہ رجسٹریشن کرانے والے افراد کو ہر بار نوکری، رہائش اور تعلیمی اداروں کی تبدیلی کے دس دن کے اندر اندر تحریری طور پر آئی این ایس کو اس تبدیلی سے آگاہ کرنا ہوگا۔ کچھ ایرانی اور عربوں کے ایسا نہ کرنے کی وجہ سےگرفتاری کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔
امریکہ سے باہر سفر کرتے وقت لوگوں کو ذاتی طور پر آئی این ایس کے طے شدہ دفتر میں پیش ہونا ہوگا اور ان کے لئے لازمی ہوگا کہ وہ اسی دن امریکہ سے روانہ ہو جائیں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان افراد کو گرفتاری، جرمانے یا ملک بدری کا سامنا کرنا پر سکتا ہے اور ان کے آئندہ امریکی ویزے کے لئے درخواست دینے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔
رجسٹریشن کے لئے پیشگی وقت لینے کی ضرورت نہیں تاہم درخواست گزاروں سے کہا گیا کہ وہ صبح کے وقت دفتر آئیں اور ان کا اسی روز انٹرویو ہو جائے گا۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آئی-چورانوے فارم ساتھ لے کر آئیں۔ جن لوگوں کا یہ فارم گم چکا ہے انہیں پچاسی ڈالر کی ادائیگی پر نیا جاری ہو جائے گا۔
اپنے رہائشی پتے کے ثبوت کے طور پر لوگ بجلی، پانی، گیس اور ٹیلی فون کا بل، ڈاک کے لفافے، تنخواہ کی رسید اور روزگار کا تحریری ثبوت اپنے ساتھ لا سکتے ہیں۔
طالب علم اپنے ریزلٹ کارڈ، شناختی کارڈ، غیر نصابی سرگرمیوں میں شرکت کا ثبوت اور تعلیمی ادارے میں کھینچی گئی تصاویر ساتھ لا سکتے ہیں۔
اگر ضروری ہو تو درخواست گزار کو مترجم ساتھ لانا ہوگا۔ اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد اپنے والدین یا سرپرست کے ساتھ انٹرویو کے لئے آسکتے ہیں۔
رجسٹریشن ہو جانے کے بعد درخواست گزار کو آئی-چورانوے فارم دے دیا جائے گا۔
رجسٹریشن کے بعد بھی امریکہ چھوڑتے وقت چاہے وہ میکسیکو یا کینیڈا ہی جا رہے ہوں لوگوں کو آئی این ایس کو مطلع کرنا ہوگا۔ رجسٹرڈ افراد طے شدہ پورٹ کے ذریعے ہی ملک سے جا یا واپس آسکتے ہیں۔ اطلاع کے بغیر ملک چھوڑنے کی صورت میں لوگوں کو امریکہ واپس داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ |
|
 |