 |
|
 |
|
| ’کیا آپ جہادی ہیں؟‘ |

پاکستانیوں کو تیرہ جنوری سے اکیس فروری تک امیگریشن محکمہ کے سامنے پیشن ہونا ہے
|
رپورٹ: انور اقبال، واشنگٹن
آپ جمعہ کی نماز کس مسجد میں پڑھتے ہیں؟ کیا وہاں جہاد پر وعظ ہوتا ہے؟ کیا آپ جہاد کو صحیح سمجھتے ہیں؟ کیا آپ کاکسی مذہبی جماعت سے تعلق ہے؟ کیا آپ نے مذہبی یا فلاحی اداروں کو چندا دیا؟ کیا آپ نے فلسطین، کشمیر یا افغانستان کی جہادی تنظیموں کی حمایت کی ہے؟
یہ ہیں وہ چند سوالات جو ان مسلمان تارکین وطن سے پوچھےگئے جو حال ہی میں اپنے ناموں کا اندراج کروانے امریکی محکمہ برائے تارکین وطن اور شہری امور یا امیگریشن اینڈ نیچرلائزیشن سروس (آئی این ایس) کےحکام کے سامنے پیش ہوئے۔
اب رجسٹریشن کے تیسرے مرحلے میں تقریباً ایک سے ڈیڑھ لاکھ پاکستانی شہریوں کو اپنے نام کا اندراج کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہیں تیرہ جنوری سے اکیس فروری تک محکمہ کے کسی قریبی دفتر میں اندراج کے لیے پیش ہونا ہے۔ اندراج کے لیے ان کی انگلیوں کے نشان اور ان کی تصویریں بھی لی جائیں گی۔
معینہ مدت میں پیش نہ ہونے والوں کو گرفتار اور ملک بدر کیا جا سکتا ہیں۔
گریٹر واشنگٹن علاقے میں رہنے والے تئیس سالہ زاہد علی کا کہنا ہے: ’میرا خیال ہے کہ ہمارے بارے میں تفصیلات نسلی اور مذہبی بنا پر جمع کی جا رہی ہیں۔امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہنے والوں کی سب سے بڑی تعداد میکسِکو سے آنے والے لوگوں کی ہے، انہیں رجسٹر ہونے کے لئے کیوں نہیں کہا جا رہا ہے؟‘
حال ہی میں پاکستانی سفارتخانے نے پاکستانی شہریوں کو مفت قانونی مشورہ دینے کے لیے نیویارک اور واشنگٹن میں دو خصوصی اجلاس منعقد کیے۔ ان اجلاسوں میں تارکین وطن کے امور کے مشیر اور بہت سارے وکیل بھی شریک ہوئے اور پریشان شہریوں کو قانونی مشورے فراہم کیے۔
ان وکلا میں سے بعض رجسٹریشن کے پہلے دو مرحلوں میں عرب اور ایرانی مسلمانوں کے مدد کرتے رہے ہیں۔
انہون نے بتایا کے امیگریشن افسروں کو اندراج کے لیے پیش ہونے والے افراد سے ہر قسم کے سوالات پوچھنے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم امریکہ کے امیگریشن کی قومی تنظیم کے سابق صدر ڈینیس سبا نے بتایا کے تارکین وطن کو یہ قانونی حق ہےحاصل ہے کہ وہ ان میں سےکسی یا سارے سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیں اور امیگریشن کے حکام سے درخواست کریں کے وہ ان سوالوں کے جواب اپنے وکیل کی موجودگی میں دیں گے۔
ہما خاتوں ورجنیا میں رہنے والی ایک امریکی شہری ہیں، لیکن انکے شوہر اس وقت امریکہ میں ’ورک ویزا‘ پر ہیں اور انہیں اندراج کے لئے جانا ہوگا۔ ہما کا کہنا ہے ’ یہ بات واضح ہے کہ آئی این ایس کی مہم مسلم ممالک کے خلاف ہے، ان میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جو امریکہ کی دہشت گردی مخالف جنگ میں اسکے ساتھ ہیں۔ میں یہ سن کر پریشان ہو جاتی ہوں کہ کچھ لوگ اپنے بیوی بچوں سے جدا ہوگئے ہیں۔ میرے دو چھوٹے بچے ہیں۔‘
ہما کا اشارہ امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ان خبروں کی طرف تھا جن میں کہا گیا تھا کہ پہلے بھی اس طرح کی ایک مہم میں امریکی خواتین سے شادی شدہ کئی پاکستانیوں کو ملک سے نکال دیا گیا تھا۔
موجودہ مہم میں انٹرویو کے لیے پیش ہونے والے افراد سے یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کے انہون نے اپنا پچپن کہاں گزارا، کن اداروں میں اور کہاں تعلیم حاصل کی اور تعلیم کے دوران وہ کس قسم کی طلبا تنظیم سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کے والدین کی مذہبی اور سیاسی وابستگی کیا رہی ہے۔ امریکہ آنے سے قبل وہ کن ممالک میں رہ چکے ہیں۔ امریکہ میں وہ کہاں کہاں رہتے رہے ہیں اور کن تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں۔
امیگریشن حکام ان سے ان کی شادی اور ذاتی دوستیوں اور قریبی تعلق رکھنے والے افراد کے بارے میں بھی سوال کر سکتے ہیں۔
گرچہ یہ سارے کے سارے سوال مشکل ہیں، مگر امیگریشن وکلا کا کہنا ہے کہ مذہب سے متعلق سوالات سب سے دشوار ہو سکتے ہیں۔
ان میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ان لوگوں کو کرناپڑسکتا ہے جن کی افغانستان یا کشمیر میں کسی بھی جہادی تنظیم سے کسی قسم کی وابستگی ثابت ہو جاتی ہے۔
اسی طرح مذہبی جماعتوں، مثلاً جماعت اسلامی اور جمعیت علماۂ اسلام سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی مشکلات کا سامنا کرنے پڑ سکتا ہے۔
شک ہونے پر ایسے افراد کو اس وقت تک زیرحراست رکھا جا سکتا ہے جب تک ان کے بارے میں تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتی۔
سابق فوجیوں کو بھی سوال اور جواب کے سلسلے میں دشوار مرحلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان سے ان کی فوجی تربیت، فوج چھوڑنے کی وجہ اور ’جہاد‘ کے بارے میں ان کے خیالات کے بارے میں پوچھاجا سکتا ہے۔ |
|
 |