BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 21:23 - 20/12/2002
جنوبی ایشیا:گدھ کم ہو رہے ہیں
دو برس میں گدھوں کی تعداد میں ساٹھ فیصد کمی ہوئی
دو برس میں گدھوں کی تعداد میں ساٹھ فیصد کمی ہوئی

پرندوں سے محبت کرنے والے اور ان کے تحفظ کی کوششیں کرنے والے لوگوں نے جنوبی ایشیائی ممالک مثلاً بھارت پاکستان اور نیپال میں گدھ کی نسل کو لاحق خطرے پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ ان علاقوں میں گدھ کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر گدھ کی تعداد بدستور کم ہوتی رہی تو اس کا اثر افریقہ پر بھی پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے بقول پاکستان اور نیپال میں صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔

بھارت کی مغربی ریاست راجھستان کے دارالحکومت جے پور میں منعقدہ اجلاس کے دوران ماہرین نے فیصلہ کیا ہے کہ پچیس دسمبر سے خطے میں گدھ شماری کا کام شروع کیا جائے گا۔

گدھ مردار خور ہونے کے باعث دور افتادہ علاقوں میں مردہ جانوروں کو کھا کر ماحول کو آلودگی سے پاک رکھتے ہیں۔ اس حوالے سےگدھ سب سے زیادہ ماحول دوست جانور ہے۔

لیکن اب گدھ کی تعداد میں روز بروز کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں منعقدہ اجلاس میں مختلف ممالک سے آئے ہوئے ماہرین نے اپنے اپنے خدشات کا مظاہرہ کیا۔

کینیا میں رہنے والے

درختوں کی کٹائی سے گھونسلے متاثر ہوئے ہیں
ماہر حیاتیات ڈاکٹر منیر ویرانی نے، جو گزشتہ دو برس سے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کام کر رہے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ میں قائم پیریگرین فنڈ کے زیر نگرانی تین مقامات پر گدھوں کی گنتی سے پتا چلا کہ وہاں ان کی تعداد بارہ سو ہے۔

یہ تینوں مقامات ملتان اور لاہور کے قریب واقع ہیں جہاں گزشتہ دو برس کے دوران گدھ کی تعداد میں ساٹھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پیریگرین فنڈ، پاکستان کی ارینیتھولاجیکل سوسائٹی کے ساتھ مل کر پرندوں کے تحفظ کے کام میں مصروف ہے۔

ڈاکٹر ویرانی کہتے ہیں کہ گر ان جانوروں کی تعداد میں کمی کا باعث کوئی انفیکشن ہے تو یہ بیماری افریقہ میں بھی پھیل سکتی ہے جہاں کے جنگلات میں گدھ کی موجودگی ماحولیاتی تسلسل کے لیے کہیں زیادہ اہم ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر گدھ ناپید ہو گئے تو ہر طرف بیماریوں کے پھیل جانے کا شدید خطرہ پیدا ہو جائےگا۔

پاکستان میں ہی کام کرنے والے پیریگرین فنڈ کے مارٹن گلبرٹ کہتے ہیں کہ انہوں نے گدھوں کے مرنے کے فوراً بعد ان کے جسم کے ریشے یا ٹشو دنیا بھر میں مختلف لیبارٹریوں یا تجربہ گاہوں کو بھیجے تاکہ ان کا سائنسی تجزیہ اور مطالعہ کیا جا سکے۔

گلبرٹ نے اس امید اور توقع کا اظہار کیا ہے کہ اس معائنہ سے گدھ کی ہلاکت کی ممکنہ وجوہات کا پتا چل سکے گا۔

تاہم سائنسدان اب تک یہ جاننے میں ناکام رہے ہیں کہ ان ماحول دوست جانوروں کی ہلاکت کی ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟

ڈاکٹر ویرانی کے مطابق بہت سے گدھوں کی ہلاکت کی وجہ گردوں میں خرابی پیدا ہو جانا تھا۔

جودھپور کی جے این وی یونیورسٹی میں علمِ حیوانیات کے پروفیسر ڈاکٹر انیل چنگانی کہتے ہیں کہ ریگستان کے ماحول میں گدھوں کی خاصی تعداد جودھپور کے گرد و نواح میں دیکھی گئی ہے۔

تاہم ان کے بقول علاقے میں کانوں کی کھدائی اور تعمیریاتی پروگراموں کے باعث یہاں بھی گدھوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے کیونکہ درختوں کی کٹائی کے باعث گدھوں کے گھونسلے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright