 |
|
 |
|
| چلے جانے پہ اس کے |

|
تحریر: وسعت اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے سینکڑوں قصبات میں امروہہ بھی ایک قصبہ ہے۔
آپ کسی بھی امروہوی سے پوچھ لیں کے امروہہ کا مطلب کیا ہے وہ فوراً یہ بتائے گا کہ سینکڑوں سال پہلے کوئی بزرگ یہاں سے گزر رہے تھے کہ سفر کی تھکن کے سبب کچھ دیر کے لیے اس جگہ رکے۔ ایک مقامی آدمی نے ان کی آؤ بھگت کی۔ پہلے آم پیش کیے پھر روہو مچھلی آگے کر دی۔ بزرگ نے د ونوں چیزیں چکھیں اور بے ساختہ پکار اٹھے: ام....رو ...ہا، یعنی آم جمع رس برابر ہے، امروہہ۔
اس کے بعد امروہہ کی دوسری کرامت یہ بتائی جائے گی کہ یہاں شاہ ولایت نے رشد و ہدایت کی روشنی پھیلائی اور ان کے پیغام میں اتنی تاثیر تھی کہ انسان تو انسان بچھوؤں کی بھی فطرت بدل گئی۔ ثبوت اس کا یہ ہے کہ شاہ ولایت کے مزار پر سینکڑوں کی تعداد میں بچھو پائے جاتے ہیں۔ آپ ان میں سے کسی بھی بچھو کو اٹھا کر ہتھیلی پر دھر لیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ آپ پر اپنا ڈنک استعمال کرے۔
امروہے کی تیسری خوبی یہاں کے باسیوں کی خود پسندی بتائی جاتی ہے۔ آپ کسی سے بھی بات کر لیں وہ آپ کو بتائے گا: ’ٹھیک ہے لندن ایک عظیم الشان شہر ہے، لیکن امروہہ .....۔
پیرس کے شانزےلیزے پر پہنچتے ہی مجھے فوراً محلہ دانشمندان یاد آ گیا۔
برطانوی پارلیمنٹ کا ٹاور انگریزوں نے بڑی محنت سے اٹھایا ہے لیکن کبھی آپ امروہہ آئیں تو گھڑیال منزل ضرور دیکھیے گا۔
امروہوی دنیا کے کسی بھی حصے میں امروہہ سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اسی ماحول میں بیسویں صدی کی پہلی چوتھائی میں محلہ دانشمندان کی ایک حویلی میں علامہ شفیق حسن ایلیا کے چار بیٹے پروان چڑھے، رئیس، محمد تقی، جون اور عباس۔
علامہ شفیق حسن نے ان چاروں کو فلسفے کا راتب دیا، شاعری کا پانی پلایا، اور لسانیات کے گہوارے میں سلایا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ اگر اردو شاعری کے پانچ زود گو شعراء کا انتخاب کیا جائے تو بھائی رئیس یقیناً ان پانچوں میں سے ایک ہونگے۔
سید محمد تقی نے صحافت کو روزی روٹی کا ذریعہ اور فلسفے کو اوڑھنا بچھونا بنایا۔
جون ایلیا اگر اپنے برگد نما سنجھلے اور منجھلے بھائیوں کی چھاؤں سے بچ کر شاعری کی بیل کے ذریعے عشق کے منڈھے چڑھ کر باہر نہ کود جاتا تو آج یہ مضمون لکھنے کی نوبت نہ آتی۔
اس کا ثبوت جون ایلیا کا پہلا شعر ہےجو بقولِ خود انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں کہا:
چاہ میں ان کی طماچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی میرے رخسار کی
مگر مشکل یہ ہے کہ جون کا شعری اور شخصی احاطہ کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ چھلنی میں پانی روکنے کی کوشش کرنا۔ پہلے تو یہی طے کرنا ہو گا کہ آپ کس جون ایلیا کو پکڑ میں لانا چاہتے ہیں۔
ایک جون ایلیا وہ تھا جو بظاہر سن چالیس کے عشرے میں یو پی میں پائے جانے والے دراز گیسو مارکسسٹوں کی طرح کھدر کی بنڈی اپنے مختصر کاندھوں پر سجائے کلفیلے لٹھے کا آڑا پائجامہ پہن کر کالا چشمہ لگائے مجالسِ عزا میں روتا تھا اور ساداتِ امروہہ پر ہنستا تھا۔
حاسدوں کا کہنا تھا کہ جون کا یہ حلیہ اس کا مارکیٹنگ گمِّک (gimmick) ہے لیکن اسی انارکسٹ حلیے اور غیر سنجیدہ روّیے کے پیچھے ایک اور جون چھپا ہوا تھا جو عبرانی روایات سے مرعوب، عرب شعری روایات کا ایک ایسا نمونہ تھا کہ جس کے سینے میں قلبِ عجم دھڑکتا تھا۔
امروہے کی بان ندی اس کے دل سے پھوٹتی تھی اور اس کے کنارے جون ہی کے ذہنِ رسا سے تخلیق پانے والی گوپیاں ایک دوسرے سے اٹھکیلیاں کرتی تھیں اور پھر جون انہیں دیکھ دیکھ کر خود ساختہ احساسِ محرومی کی لذت لیتا تھا۔
حق تو یہ تھا کہ میرے چاروں طرف
* * * * ہوتا انبوہِ نارِ پستاناں* * * * *
اسی جون ایلیا کا ایک روپ یہ بھی تھا کہ وہ غزل کو تہہ کر کے نظم لکھنا شروع کرتا تو ترقی پسندی، نیا زمانہ، ولولہ، ڈرامہ، نعرہ اور پھریرا سب کو ایک لڑی میں پرو کے بین الاقوامیت کا مظہر ایک شاہکار تخلیق کر دیتا لیکن یہی جون جب تنگ نظری پر اترا تو پھر انیس سو بہتر کی لسانی تحریک میں وہ ’ اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘ کا نعرہ لگانے والوں کی صفِ اول میں نمایاں نظر آیا۔
مورخ جون کا شعری اور لسانی مقام کیا طے کرے گا یہ دیکھنا اور سوچنا ان کا کام ہے جن کا کوئی کام نہیں۔
جون کی شخصیت کے نمائندہ اشعار کون کون سے ہیں، اس کی تحقیق وہ لوگ کریں جن کے اپنے شعر میں کوئی قوت ہو۔ میں اور مجھ سے بہت سے جون گزیدہ تو ابھی بہت عرصے تک یہی سوچتے رہیں گے کہ جون ایلیا ہے یا جون ایلیا تھا؟
یہی سب کچھ تھا جس دم وہ یہاں تھا
* چلے جانے پہ اس کے جانے کیا نئیں* * |
|
 |