سال دو ہزار دو گزرا چاہتا ہے۔ اس دوران پاکستان نے تین سالہ فوجی حکومت سے نجات حاصل کر کے جمہوریت کی سیڑھی پر ایک بار پھر قدم رکھا ہے۔
ملک میں سیاسی تبدیلی تو آئی لیکن اگر فلم ٹریڈ اور صنعت کا جائزہ لیا جائے تو ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں جہاں بیس تیس برس پہلے کھڑے تھے۔
ایک دور تھا جب ہماری فلم انڈسٹری سال میں ایک سو سے زائد فلمیں بناتی تھی لیکن اب یہ دور آ گیا ہے کہ نہ تو فلموں کا وہ معیار رہ گیا ہے اور نہ ہی وہ تعداد رہی ہے۔
ریشم کے لئے یہ سال کامیابی کا کوئی نیا سندیسہ نہ لایا
سال دو ہزار دو میں کُل اٹھاون فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔
علاقائی زبانوں کی فلموں کو اگر الگ کر دیں تو اس سال قومی زبان اردو کی صرف سترہ فلمیں ریلیز ہوئیں، جن میں شکاری حسینہ، خدا قسم، بارڈر، چلو عشق لڑائیں، شعلے، بہرام ڈاکو، اشتہاری، یہ دل آپ کا ہوا، طوفان، بغاوت، کون بنے گا کروڑ پتی، جہاد، رقاصہ، فائر، ڈاکو، منیلا کے جاسوس اور ستائیس دسمبر کو ریلیز ہونے والی فلم پہلا سجدہ کے نام شامل ہیں۔
سترہ فلموں کی اس فہرست پر نظر ڈالیں تو ان تمام فلموں میں صرف ایک فلم ’یہ دل آپ کا ہوا ‘ ایسی فلم ہے جو سپر ہٹ رہی ہے اور جس نے بہت بڑے بجٹ کی فلم ہونے کے باوجود منافع کمایا ہے۔
باقی سولہ فلمیں فلاپ ہو گئیں۔ ان سترہ فلموں پر پچیس کروڑ کے قریب لاگت آئی۔ سولہ فلموں کے بزنس کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ فلمسازوں کو ان فلموں پر کم از کم چھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
سیدنور کی بڈھا گجر نے پنجابی فلموں کی لاج رکھی۔
ان فلموں میں کوئی بھی ایسی فلم نہ تھی جو کسی آزمودہ کار نے نہ بنائی ہو۔ تمام کی تمام بڑی کاسٹ کی فلمیں تھیں لیکن موضوعات کی یکسانیت، گھٹیا ترین موسیقی اور چند گھسے پٹے فنکاروں کی وجہ سے یہ فلمیں ناکام ہو گئیں۔
اسی طرح پنجابی زبان کی کل چوبیس فلمیں ریلیز کی گئیں جن میں جی او جٹا، جگا ٹیکس، دادا بدمعاش، ببو خاں، دوسا، بدمعاش تے قانون، چراغ بالی، ماجھو دا ویر، علم دین شہید، اک گجر سو بدمعاش، کالو بڈھا شیر، بِلا، راجو راکٹ، شیر پاکستان، عاطف چودھری، اللہ رکھا، چن مہر، تحفہ پیار دا، وریام، ارائیں دا کھڑاک، اچھو تے شیدی، شیر اعظم اور بڈھا گجر کے نام لیے جا سکتے ہیں۔
سال دو ہزار دو میں کُل اٹھاون فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔
ان چوبیس فلموں میں پانچ ایسی ہیں جو سپر ہٹ رہیں، دو کچھ برابر کا بزنس کر سکیں اور بقیہ سترہ فلمیں فلاپ ہو گئیں۔
پنجابی فلموں پر پندرہ کروڑ کے قریب لاگت آئی، گیارہ کروڑ کےقریب سرمایہ واپس آیا اور تقریباً چار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
ان سترہ فلموں کی ناکامی کی وجہ بھی کچھ ایسی ہی تھی کہ وہ گھسے پٹے انتقامی موضوعات جو ہمارے عوام گزشتہ تیس برس سے دیکھتے آ رہے ہیں، پہلے جن کرداروں کے روپ میں سلطان راہی دکھائی دیتے تھے اب وہ جگہ ’شان‘ نے سنبھال لی ہے۔
اندازہ لگائیں کہ اردو اور پنجابی کی کل اکتالیس فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئی ہیں جن میں ستائیس فلموں میں شان بطور ہیرو پیش کیے گئے اور اکیس فلموں میں صائمہ کو بطور ہیروئین پیش کیا گیا۔
میرا کی فلم فائر فلم بینوں کو متاثر نہ کر سکی۔
بار بار ایک ہی جیسے چہرے جب گزشتہ دس سال کے دوران سکرین پر نظر آتے رہیں گے تو وہی ہو گا جو ہو رہا ہے۔
پشتوں زبان میں بھی سترہ فلمیں ریلیز ہوئیں جن پر تین کروڑ چالیس لاکھ روپے کے قریب لاگت آئی۔ چونکہ پشتو فلموں کا بجت اور سرکٹ محدود ہوتا ہے اس لیے فلمساز فلم کی نمائش سے پہلے ہی کوشش کرتے ہیں کہ اس کا رِسک نہ رہے۔ کہانی کے معاملے میں بھی پشتو فلموں کے پروڈیوسر نئے موضوعات کا انتخاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسی طرح وہ صرف بدر منیر اور نعمت سرحدی پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ کاسٹ بدلتے رہتے ہیں۔
ان پشتو فلموں میں چھ فلمیں ہٹ رہیں لیکن اس کے باوجود فلمسازوں کو وہ نقصان نہیں اٹھانا پڑا جو اردو یا پنجابی فلمیں بنانے والوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
ہدایت کاروں کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو اقبال کاشمیری نے چار، سنگیتا نے چھ، پرویم رانا نے سات، سید نور نے چار اور حسنین نے دو فلمیں ڈائریکٹ کیں۔ لیکن ان سب میں سنگیتا بے حد کامیاب رہیں اس لیے کہ ان کی فلموں میں سے صرف ایک فلم ناکام رہی جو اردو زبان میں تھی جس میں اس کا نصف کریڈٹ تھا۔
فائر کی ناکامی کے بعد لیلیٰ کو سٹیج ڈراموں پر اکتفا کرنا پڑا۔
چار پنجابی فلمیں سپرہٹ رہیں جبکہ اقبال کشمیری، پرویز رانا کی کوئی فلم کامیاب نہ ہو سکی اور یوں ان فلمسازوں کو تین کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔
اردو فلموں میں شمیم آرا نے صرف ایک فلم ’ کون بنے گا کروڑ پتی‘ بنائی جو بری طرح ناکام ہو گئی اور فلمساز کو ہمدردی میں چالیس لاکھ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ یہی کچھ فلم ڈاکو کے ساتھ ہوا اور شان پر ضرورت سےزیادہ بھروسہ کرنے کی بنا پر اس فلم میں بھی فلمساز چالیس لاکھ کا نقصان ہوا۔
ایک کروڑ تیس لاکھ روپے کے سرمائے سے بنی فلم منیلا کے جاسوس بھی ناکام رہی اور فلمساز کو چالیس لاکھ کا نقصان اٹھانا پڑا۔
اسی طرح پرویز رانا نے اپنی ذاتی پروڈکشن رقاصہ میں اپنے فنانسر پروڈیوسر کو چالیس لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔
سید نور کی فلم بڈھا گجر بھی اگر ناکام ہو جاتی تو انڈسٹری کا بہت بڑا نقصان ہوتا۔
اس سال صحافتی اور ٹی وی حلقوں سے آصف علی پوتا بطور فلمساز ہدایتکار اور مصنف فلم ٹریڈ میں آئے لیکن فائر جیسی ناکام فلم بنا کر ثابت کر دیا کہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا کسی بھی فلم کی کامیابی کی دلیل نہیں اس کے لیے ہنرمندی اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ موصوف ان دونوں باتوں سے عاری ہیں۔