 |
|
 |
|
| پاکستان واپسی ’مؤخر‘ |

ماضی میں ایک کیو ایم کا حکومت سازی میں اہم کردار رہا
|
تحریر: لندن سے طفیل احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما الطاف حسین نےاتوار کے روز اچانک اپنی جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس جانے کا اعلان کیا اور چند ہی گھنٹوں بعد انہیں اپنے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی پڑی۔
لندن میں ان کی جماعت کے بین الاقوامی دفتر کی ایک پریس ریلیز میں پہلے ان کی وطن واپسی کا اعلان کیا گیا۔
پریس ریلیز میں الطاف حسین نے اپنی جماعت کے کارکنوں کو مخطاب کرتے ہوئے کہا: ’کارکنان و ہمدرد ذہنی طور پر ہر طرح سے اپنے آپ کو تیار کرلیں، چند انتہائی ضروری اور اہم فرائض کی تکمیل کے بعد پاکستان آرہا ہوں خواہ اس کے نتائج کچھ بھی کیوں نہ ہوں۔‘
مہاجر رہنما کا کہنا تھا: ’میں اپنے ضمیر پر اور بوجھ ڈالنا نہیں چاہتا، قوم کی فلاح و بہتری کے لئے اب ضروری ہو گیا ہے کہ میں وطن واپس آؤں۔‘
انہوں نے اپنے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا تھا کہ اگر انہیں گرفتار لیا جائے یا ماردیا جائے تو ان کی جماعت کے اراکین ان کے بتائے ہوئے فلسفہ کے مطابق ’تحریک‘ جاری رکھیں۔
لیکن اتوار کے روز ہی رات گئے جب الطاف حسین نے پاکستان میں اپنے کارکنوں سے خطاب کیا تو ان کے اصرار پر انہیں اپنی وطن واپسی مؤخر کرنی پڑی۔ شروع میں ہی انہوں نے اپنی وطن واپسی کی کوئی تاریخ نہیں بتائی تھی۔ اب ان کی جماعت کا یہ کہنا ہے کہ ان کی وطن واپسی ’وقتی طور پر مؤخر‘ کردی گئی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ شاید وہ پاکستان نہ جاسکیں۔ لیکن کارکنوں سے خطاب میں مہاجر رہنما نے کہا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ سات نومبر کو کیا جائے گا۔ سات نومبر کو انہوں نے اپنے کارکنوں کا ایک اجلاس بلایا ہے۔
کراچی میں ہمارے نامہ نگار ادریس بختیار کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کے آج کے خطاب سے ایسا لگا کہ ایم کیو ایم حکومت میں شامل نہیں ہوگی بلکہ حزب اختلاف کا کردار ادا کرے گی۔
الطاف حسین تقریبا ایک عشرے سے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق لندن جانے کے بعد الطاف حسین کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع ہوئیں جو بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے دور میں بھی جاری رہیں۔ ایم کیو ایم کے بہت کارکن گرفتار کیے گئے، متعدد مارے گئے اور کئی کارکنوں پر اب بھی مقدمات چل رہے ہیں۔
اس سے پہلے بھی وطن واپس جانے کے بارے میں مہاجر رہنما نے اپنے کارکنوں اور جماعت کی رابطہ کمیٹی سے رائے لی تھی لیکن انہیں اس وقت بھی پاکستان واپس آنے سے منع کردیا گیا تھا۔
آج جب الطاف حسین نے اچانک پاکستان جانے کے فیصلے کا اعلان کیا تو حکومت سازی کی سیاست میں عوامی دلچسپی نے ایک اہم موڑ لے لی۔
ان کے آج کے اس فیصلے کا اعلان ایسے وقت کیا گیا تھا جب مسلم لیگ (ق) اور متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے پاکستان میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ مذاکرات کیے تھے۔
اطلاعات کے مطابق وزارت اعظمی کے لئے مسلم لیگ (ق) کے امیدوار میرظفراللہ جمالی اور متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنما قاضی حسین احمد نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں جن کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے پاکستان کی نومنتخب قومی اسمبلی کا اجلاس آٹھ نومبر کو طلب کیا گیا ہے۔ آج الطاف حسین کی وطن واپسی کے اعلان سے اس طرح کی قیاس آرائیاں سرگرم ہوگئی تھیں کہ کیا متحدہ قومی موومنٹ حکومت کی حامی جماعت مسلم لیگ (ق) کا ساتھ دے گی؟
مہاجر رہنما نے سن دوہزار میں برطانوی پاسپورٹ حاصل کرلیا تھا اور اس وقت وہ برطانوی شہری ہیں۔ پاکستان میں انہیں کئی مقدمات میں اشتہاری مجرم قرار دے دیا گیا ہے اور کم از کم ایک مقدمے میں انہیں بامشقت قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ |
|
 |