 |
|
 |
|
| کھانےکا بھی اورچلانےکا بھی |

تیل اور وہ بھی بغیر ہیک کے
|
تحریر: عمر آفریدی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام
ایک وقت تھا جب لوگ ہوٹل والوں اور مٹھائی بنانے والوں پر الزام لگایا کرتے تھے کہ یہ لوگ تیل یا گھی میں گریس کی ملاوٹ کرتے ہیں کیونکہ یہ سستا پڑتا ہے۔ مگر اب زمانہ بدل گیا ہے۔
ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ لوگوں نے اس کا توڑ یہ نکالا کہ ڈیزل کی جگہ پکانے کا تیل استعمال کرنے لگے کیونکہ تیل پر ٹیکس نہ ہونے کی وجہ سے یہ سستا پڑتا ہے۔
اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ برطانیہ میں پکانے کا تیل تقریباً تیس روپے فی لیٹر دستیاب ہے جبکہ ڈیزل پر ٹیکس ادا کرنے کی وجہ سے ایک لیٹر کی قیمت ستر روپے کے لگ بھگ ادا کرنا پڑتی ہے۔
برطانیہ میں ایک سپر مارکیٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے ملک بھر کی دوسری شاخوں کےمقابلے میں ویلز میں قائم مارکیٹ میں پکانے کا تیل زیادہ فروخت ہوا ہے۔
یوں مذکورہ سپر مارکیٹ کی چاروں گھی میں اور سر کڑاھی میں ہے۔
پولیس نے پہلے تو ان ڈرائیوروں کو شرافت سے سمجھانے کی کوشش کی مگر جب انہوں نے دیکھا کہ گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکل رہا تو اس کے لئے باقاعدہ قانون سازی کی گئی اور اس کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔
خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کو پکڑنے کے لئے پولیس والوں نے بڑا دلچسپ طریقہ اپنایا ہے اور وہ یہ کہ جبکہ انہیں کسی گاڑی پر شک گزرتا ہے تو وہ گاڑی کے سائیلنسر سے نکلنے والے بخارات کو سونگھتے ہیں۔ اور اگر اس میں سے تلے ہوئے چپس کی سی بو آئے تو وہ جان لیتے ہیں کہ اس گاڑی میں ڈیزل نہیں بلکہ کھانے کا تیل استعمال کیا جا رہا ہے۔
ایک ڈرائیور کا کہنا ہے کہ وہ ایسا اس لئے کرتا ہے کہ اس میں زبردست بچت ہے حالانکہ ایک بار وہ اس بچت کا خمیازہ بھی بھاری جرمانے کی صورت میں بھگت چکا ہے۔
چند سال قبل جاپان سے یہ خبر آئی تھی کہ وہاں کے بعض
 آم کے آم گھٹلیوں کے دام | ریستوران پکانے کے تیل کو ایک بار استعمال کے بعد بیکار سمجھتے ہیں کیونکہ اس تیل میں کوئی چیز پکانے سے ذائقہ خراب ہوجاتا ہے۔ لیکن وہ اس تیل کو ضائع بھی نہیں کرتے۔ بلکہ اسے ایسے لوگوں کے ہاتھ فروخت کر دیا جاتا ہے جو اسے پھر سے قابل استعمال بناکر ڈیزل کی جگہ گاڑیاں چلانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ ایندھن زیادہ ماحول دوست ہے کیونکہ ایک تو اسے دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے اور دوئم اس میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار ڈیزل کے مقابلے میں کہیں کم ہوتی ہے۔ |
|
 |