 |
|
 |
|
| غیر ووٹروں کی سیاسی سرگرمی |

ٹورانٹو میں پی پی پی کے ایک جلسے کے شرکاء
|
تحریر: طاہر اسلم گورہ
کینیڈا کے ایک رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ جس طرح پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی جوشیلی اور بھرپور سیاسی سرگرمیاں کینیڈا میں دیکھنے کو ملتی ہیں اس طرح شائد کسی اور کمیونیٹی کی ’سیاست‘ دیکھنے کو نہیں ملتی۔
انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ پاکستانیوں کے اس قدر ’سیاسی‘ ہونے کے باوجود پاکستان میں سیاست کا عمل رکا رہتا ہے۔
کینیڈا میں چین اور بھارت کے بعد پاکستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔
گزشتہ پانچ چھ برسوں میں جہاں پاکستان سے ہجرت کر کے آنے والے لوگوں کی تعداد میں دو تین گنا اضافہ ہوا ہے وہاں پاکستانی برادری کی ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔
جوں جوں پاکستان میں انتحابات نزدیک آتے جارہے ہیں توں توں ٹورانٹو میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے کنوینشن اور اخباری کانفرنسیں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔
یہاں پر ایم کیو ایم، پاکستان عوامی تحریک اور پیپلز پارٹی کی سرگرمیاں کافی بھرپور ہیں۔ مسلم لیگ کا حال یہاں پر بھی وہی ہے جو پاکستان میں ہے یعنی دو تین افراد نے اپنی اپنی ذات کے گرد ہی تانا بانا بنا ہوا ہے۔ نتیجتاً گزشتہ تین برسوں سے مسلم لیگ کی کوئی تقریب ٹورانٹو میں منعقد نہیں ہوئی۔
صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف سے فون پر بات چیت بھی پیپلز پارٹی ٹورانٹو کے صدر لیاقت ملک نے کی۔ لیاقت ملک نے اس بات چیت کی تفصیلات بی بی سی اردو آن لائن کو بتاتے ہوئے کہا کہ معزول وزیراعظم نے ان سے فون پر کہا ہے کہ وہ پاکستان میں مضبوط جمہوریت کے لئے کسی بھی سیاسی پارٹی کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ اور یہ کہ پرویز مشرف حکومت کا ان سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا -
انہوں نے لیاقت ملک سے یہ بھی کہا کہ سیاستدانوں کو ماضی میں کی گئی کوتاہیوں پر غور کر کے نئی حکمت عملی طے کرنی چاہیے۔ نواز شریف نے مبینہ طور پر اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ’ پاکستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومت نے انتخابات میں جھرلو پھیرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے مگر مجھے امید ہے کہ عوام حکومت کے ایسے منصوبے ناکام بنا دیں گے۔‘
پاکستان کی سیاست میں فون پر خطاب کا رواج بھی دن بدن زور پکڑتا جا رہا ہے۔ الطاف حسین پاکستان کی سیاست میں ٹیلی فونک خطاب کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ حال ہی میں اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سربراہ نے کہا کہ گزشتہ برس گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد مسیحی اور مسلم دنیا کے مابین ایک سرد جنگ شروع ہو چکی ہے۔
انہوں نے اس سرد جنگ کی ذمہ داری مذہبی تنظیموں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ’ان انتہا پسند مذہبی اور جہادی تنظیموں نے اسلام کے نام پر دہشت گردی کا جو طریقہ اختیار کیا ہے اس نے بین الاقوامی سطح پر عام مسلمان کی زندگی کو پریشانیوں سے دو چار کر دیا ہے۔‘
انہوں نے کراچی میں ایک مسیحی ادارے پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا: ’جو انتہا پسند پاکستان میں ایسی کارروائیاں کرتے ہیں، کیا انہیں معلوم نہیں کہ یورپ، کینیڈا اور امریکہ میں بسنے والے لاکھوں پاکستانیوں اور مسلمانوں کا تاثر ان ممالک میں کیا بنتا ہے اور انہیں کیسی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟‘
ٹورانٹو میں اپنے ٹیلیفونک خطاب کے دوران الطاف حسین نے پاکستان کے ایٹم بم پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ملک کے عوام کو ایٹم بموں کی ضرورت نہیں بلکہ پینے کے صاف پانی، اناج، روزگار، تعلیم اور خوشحالی کی ضرورت ہے۔‘
ٹورانٹو میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی جنرل مشرف کے گزشتہ ریفرنڈم کے ایام سے شروع ہوئی جب پاکستان عوامی تحریک کینیڈا اور احمدیہ کمیونیٹی کینیڈا نے جنرل مشرف کے لئے قطاریں لگا کر ووٹ ڈالے۔ لیکن آج یہ دونوں گروہ جنرل مشرف کی حمایت سے دستبردار دکھائی دیتے ہیں۔
جماعت احمدیہ کی جنرل مشرف کی حمایت سے دستبرداری فوجی حکومت کی طرف سے مشترکہ انتخابات کی بجائے جداگانہ انتخابات کا اعلان ہے جس سے دنیا بھر میں احمدی برادری کا یہ احتجاج سامنے آیا کہ جب عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں کو مشترکہ انتخابات میں ساتھ رکھا جا رہا ہے تو احمدیوں کو باہر کیوں کیا گیا ہے۔
دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک کینیڈا نے پاکستان میں اپنی جماعت کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے فوجی حکومت کی مخالفت شروع کر دی ہے۔
حال ہی میں عوامی تحریک نے ایک بھرپور اخباری کانفرنس کے دوران پاکستان میں انتخاب کے طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف اور ملت پارٹی کے دفاتر بھی قائم ہو چکے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی خاصے منظم طریقے کے ساتھ کینیڈا میں سرگرم عمل ہے اور اپنی تقریبات میں ایک بھرپور سیاسی جلسے کا سماں پیدا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ انتخابات کے تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کینیڈا اخباری کانفرنسوں اور بریفنگ کا سلسلہ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔
گریٹر ٹورانٹو میں چونکہ پاکستانیوں کی اکثریت ہے اس لئے پاکستانی سیاست کا مرکز و محور ٹورانٹو ہی ہے۔
مانٹریال سے جب بی بی سی اردو آن لائن نے پاکستانیوں کی سیاسی سرگرمیوں کا حال جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ مانٹریال میں چند لوگ سیاسی تسکین طبع کے لئے کبھی کبھی اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ جبکہ وینکوور، کیلگری اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے سیاست کے دلدادہ لوگ پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کے لئے ٹورانٹو کے سیاسی جلسوں میں شرکت کرتے ہیں۔
(طاہر اسلم گورہ مصنف اور پبلشر ہیں- وہ آج کل ٹورانٹو، کینیڈا میں مقیم ہیں)
|
|
 |