BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 17:14 - 14/09/2002
مشترکہ یا جداگانہ؟
امیدوار کے لیئے حلف نامہ کی ایک کاپی
امیدوار کے لیئے حلف نامہ کی ایک کاپی

تحریر: عارف شمیم، بی بی سی اردو آن لائن

جوں جوں پاکستان میں انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام اور انتخابی امیدواروں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
سنئیے
  وسعت اللہ خان کی رپورٹ  

پہلے تو پاکستان کی سیاست کے ’بڑے‘ الیکشن سے باہر ہوئے اور اس کے بعد اکتوبر انتخابات کے لیئے لگایا جانے والا سب سے بڑے نعرے یعنی مشترکہ انتخابات میں بھی ترمیم کرنی پڑی۔ حکومت نے جداگانہ انتخابات کو ختم کر کے مشترکہ انتخابات کا اعلان تو بڑے زور و شور سے کیا تھا لیکن اس اعلان کی واپسی انتہائی خاموشی سے کی گئی۔ اور وہ بھی اس طرح کے اسے سمجھنے کے لیئے بھی کافی دماغ لڑانے کی ضرورت چاہئیے۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے اعلان کیا کہ یوں تو یہ انتخابات مشترکہ بنیادوں پر لڑے جائیں گے لیکن احمدیہ کمیونٹی کو مشترکہ انتخابات کی فہرست سے نکال کر ایک دوسری فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ان کے لیئے اکتوبر کو ہونے والے انتخابات اب بھی جداگانہ بنیادوں پر لڑے جائیں گے۔

سرکاری ذرائع نے اس کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے تو مشترکہ فہرست کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن بعد میں ایک خصوصی حکم کے تحت احمدی برادری پر اعتراضات کی وجہ سے ان کو اس فہرست سے باہر نکال دیا گیا۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان کی باقی سب اقلیتیں تو مشترکہ فہرست میں ہیں لیکن احمدی کمیونٹی کے لیئے فہرست جدا ہے۔

احمدی برادری نے اس اچانک فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اکتوبر کے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور نہ ہی عدالت میں اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

احمدیہ کمیونٹی کے ایک ترجمان راجہ غالب احمد کہتے ہیں کہ یہ ایک مضحکہ خیز بات لگتی ہے کہ ہندو، سکھ، عیسائی، اور بدھ مت تو ایک لسٹ میں مسلمانوں کے ساتھ اور احمدی دوسری لسٹ میں کر دیے گئے ہیں۔

احمدیہ برادری نے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف اور

انتخابات میں پہلے ہی دھاندلی کا الزام لگایا جا رہا ہے
پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کو بھیجے گئے خطوط میں لکھا ہے کہ اس طرح کے عجیب اقدامات سے ایک مضحکہ خیز صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے جس میں ایک طرف تو ووٹروں کی ایک مشترکہ لسٹ ہے جس میں مسلمان، ہندو، سکھ، پارسی، عیسائی اور بدھ مت ہیں اور دوسری طرف ایک لسٹ ہے جس کو غیر مسلم کہا جا رہا ہے اس میں صرف احمدی ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ جو صرف احمدیوں کے خلاف انصاف اور جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔

احمدیہ کمیونٹی نے کہا کہ کیونکہ کہ انتخابات کے طریقۂ کار میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اس لیئے احمدی برادری اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے جاداگانہ انتخابات کا بائیکاٹ کرتی ہے۔

تاہم راجہ غالب احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے اگر حکومت چاہے تو وہ اپنا فیصلہ واپس لے سکتی ہے۔

احمدیہ برادری کے مطابق حکومت نے احمدیوں کے لیئے جداگانہ فہرست کا فیصلہ صرف مذہبی قدامت پسندوں کے کہنے پر کیا ہے حالانکہ وہ بھی ایک اقلیت ہیں۔

یاد رہے کہ صدر مشرف کے مشترکہ انتخابات کے اعلان کے بعد پاکستانی اقلیتوں میں ان کی مقبولیت کافی بڑھ گئی تھی اور اسی بنیاد پر صدارت کے لیئے ہونے والے ریفرنڈم میں اقلیتیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright