 |
|
 |
|
| اوکاڑہ میں سخت کشیدگی |

سرکاری زمین پر تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے
|
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواح میں، جہاں کل نیم فوجی دستوں نےسرکاری اراضی کے مزارعین پر گولی چلا دی تھی اور اس نتیجے میں ایک عورت سمیت تین افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے، ابھی تک سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔
سرکاری اراضی کے مزارعین حکومت پنجاب کے اس حالیہ ضابطے کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں جس کے رو سے ان کی حیثیت مزارعے کی بجائے پٹے دار کی ہو گی۔
اس کے برعکس ان کا مطالبہ ہے کہ پنجاب میں ہزاروں ایکڑ سرکاری اراضی پر کام کرنے والے کاشتکاروں کو مالکانہ حقوق دیے جائیں۔
لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حکومت اس معاہدے پر عمل درآمد کرانے کو یقینی بنانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے اور اوکاڑہ کے سرکاری فارمز کے گردو نواح میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری متعیں ہے۔
البتہ اوکاڑہ پولیس کے سربراہ نے آج بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے نواحی علاقوں میں اب صورت حال قابو میں ہے اور حالات تیزی سے معمول کر طرف لوٹ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ہفتہ کے روز یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب اطلاعات کے مطابق پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ایک سرکاری فارم پر کام کرنے والے مزارعین کے احتجاج کو دبانے کے لئے پہلے آنسو گیس استعمال کی اور پھر گولی چلا دی۔
شام گئے تک سرکاری حکام نے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی تھی۔ لیکن اوکاڑہ کے ایک نواحی گاؤں سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انجمن مزارعین پنجاب کے صدر عبد الجبار نے کہا کہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے وہاں ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک اور کم سے کم بارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ڈسٹرکٹ ھیڈکوارٹرز ہسپتال اوکاڑہ میں داخل ہونے والے زخمیوں نے صحافیوں کو بتایا کہ سنیچر کی دوپہر فائرنگ اس وقت شروع ہوئی جب سرکاری فارم پر کام کرنے والے نواحی دیہات کے سینکڑوں مزارعین چک چار ایل میں جمع ہو چکے تھے۔
مزارعین کے ایک اور مظاہرے کو منتشر کرنے کے لئے رینالہ خورد کے مقام پر بھی آنسو گیس استعمال کی گئی تھی۔
پولیس نے اتوار کے روز اس واقعے میں صرف ایک شخص کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ |
|
 |