BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 10:25 - 25/08/2002
اوکاڑہ میں سخت کشیدگی
سرکاری زمین پر تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے
سرکاری زمین پر تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواح میں، جہاں کل نیم فوجی دستوں نےسرکاری اراضی کے مزارعین پر گولی چلا دی تھی اور اس نتیجے میں ایک عورت سمیت تین افراد ہلاک اور بارہ زخمی ہوگئے تھے، ابھی تک سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔

سرکاری اراضی کے مزارعین حکومت پنجاب کے اس حالیہ ضابطے کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں جس کے رو سے ان کی حیثیت مزارعے کی بجائے پٹے دار کی ہو گی۔

اس کے برعکس ان کا مطالبہ ہے کہ پنجاب میں ہزاروں ایکڑ سرکاری اراضی پر کام کرنے والے کاشتکاروں کو مالکانہ حقوق دیے جائیں۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حکومت اس معاہدے پر عمل درآمد کرانے کو یقینی بنانے کا تہیہ کئے ہوئے ہے اور اوکاڑہ کے سرکاری فارمز کے گردو نواح میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری متعیں ہے۔

البتہ اوکاڑہ پولیس کے سربراہ نے آج بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے نواحی علاقوں میں اب صورت حال قابو میں ہے اور حالات تیزی سے معمول کر طرف لوٹ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ہفتہ کے روز یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب اطلاعات کے مطابق پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ایک سرکاری فارم پر کام کرنے والے مزارعین کے احتجاج کو دبانے کے لئے پہلے آنسو گیس استعمال کی اور پھر گولی چلا دی۔

شام گئے تک سرکاری حکام نے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی تھی۔ لیکن اوکاڑہ کے ایک نواحی گاؤں سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انجمن مزارعین پنجاب کے صدر عبد الجبار نے کہا کہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے وہاں ایک خاتون سمیت تین افراد ہلاک اور کم سے کم بارہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ھیڈکوارٹرز ہسپتال اوکاڑہ میں داخل ہونے والے زخمیوں نے صحافیوں کو بتایا کہ سنیچر کی دوپہر فائرنگ اس وقت شروع ہوئی جب سرکاری فارم پر کام کرنے والے نواحی دیہات کے سینکڑوں مزارعین چک چار ایل میں جمع ہو چکے تھے۔

مزارعین کے ایک اور مظاہرے کو منتشر کرنے کے لئے رینالہ خورد کے مقام پر بھی آنسو گیس استعمال کی گئی تھی۔

پولیس نے اتوار کے روز اس واقعے میں صرف ایک شخص کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright