 |
|
 |
|
| کرکٹ کے کروڑپتی |

سچِن تیندولکر نے سوکروڑ روپے کا اشتہاری معاہدہ کیا ہے
|
تحریر: طفیل احمد، بی بی سی اردو آن لائن
بین الاقوامی کرکٹ کونسل یعنی آئی سی سی کے اسپانسرشپ معاہدے کے تحت ہر کرکٹ بورڈ کو تقریبا دس کروڑ اسّی لاکھ ڈالر ملنے والے ہیں، پھر کچھ ملکوں کے کھلاڑیوں نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیوں کردیا ہے؟
اس تنازعے میں ہندوستان، آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کے نام سرفہرست ہیں جنہوں نے کونسل کے اشتہاری معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کرکے آئی سی سی اور ان ممالک کے کرکٹ بورڈوں کے مابین ٹکراؤ پیدا کردیا ہے۔
کرکٹ کے شائقین فکرمند ہیں کہ کیا اب یہ کھلاڑی اگلے ماہ سری لنکا میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی اور اگلے سال عالمی کپ نہیں کھیل سکیں گے؟
کرکٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ آئی سی سی کو گھٹنے ٹیکنے پڑسکتے ہیں کیونکہ ان کے بقول آئی سی سی کے اشتہاری معاہدے کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں۔ یہاں آئی سی سی کے اشتہاری معاہدہ کو سمجھنا ضروری ہوگا۔
آئی سی سی نے سن 2007 تک کے لئے چار بڑے تجارتی اداروں ہیرو ہونڈا، پیپسی، ایل جی الیکٹرانِکس اور ساؤتھ افریقن ایئرلائنز سے اسپانسرشِپ کے معاہدے کیے ہیں جن کے تحت آئی سی سی کو 55 کروڑ پچاس لاکھ ڈالر ملیں گے۔
اگلے سال تک آئی سی سی ان معاہدوں کے تحت سیٹلائٹ حقوق سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ہر کرکٹ بورڈ کو دس کروڑ اسّی لاکھ ڈالر دینے والی ہے۔ اس کے بدلے میں آئی سی سی یہ چاہتی ہے کہ یہ کھلاڑی کسی اور کمپنی کے اشتہار کا ذریعہ نہ بنیں۔
ان معاہدوں کے تحت کوئی بھی کھلاڑی ان مقابلوں سے ایک ماہ پہلے، ان کے دوران اور ان کے ایک ماہ بعد تک ان کمپنیوں کی مصنوعات کو فروغ نہیں دے سکتا جن سے اسپانسر کرنے والی کمپنیوں کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لیکن یہ کھلاڑی چاہتے ہیں کہ وہ ان کمپنیوں کا اشتہاری مواد استعمال کریں جن کے ساتھ ان کا ذاتی معاہدہ ہے۔ اس طرح کے ذاتی معاہدوں سے ان کھلاڑیوں کو کروڑوں روپے کا منافع ہوتا ہے۔
مثال کے طور سچِن تیندولکر نے ورلڈ ٹیل نامی کمپنی کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس کے تحت پانچ برسوں میں انہیں ایک سو کروڑ روپے کی آمدنی ہوگی۔ تیندولکر کے علاوہ دیگر بڑے بڑے کھلاڑیوں جیسے وسیم اکرم، وقار یونس، مارک وا اور شین وارن وغیرہ نے مختلف کمپنیوں سے اشتہاری معاہدے کررکھے ہیں لیکن رقوم کا انکشاف نہیں کیاگیا ہے۔
کھلاڑیوں اور آئی سی سی کے مقابلوں کو اسپانسر کرنے والے تجارتی اداروں کے مابین ٹکراؤ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ صرف آسٹریلیا اور ہندوستان کے کھلاڑیوں نے ہی شدید مخالفت کیوں کی ہے؟ پاکستان کے کرکٹ کھلاڑیوں نے اب تک اس تنازعے میں خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟
کرکٹ کے صحافی قمر احمد کے مطابق آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ نے اصولوں کی بنیاد پر ان اشتہاری معاہدوں پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ ہندوستانی کھلاڑیوں کی مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ انہیں کروڑوں روپے کا نقصان ہونے والا ہے۔
مثال کے طور پر اگلے ماہ سری لنکا میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی کو آئی سی سی کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ہیرو ہونڈا نے اسپانسر کیا ہے جبکہ سچِن تیندولکر کا ذاتی اسپانسر موٹرسائکل بنانے والی کمپنی ٹی وی ایس ہے۔ اگر تیندولکر آئی سی سی کے معاہدے پر دستخط کرتے ہیں تو وہ مقابلے سے ایک ماہ پہلے، اس کے دوران اور اس کے ایک ماہ بعد تک ٹی وی ایس کے اشتہار استعمال نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے انہیں کروڑوں روپے کا نقصان ہوگا۔
پاکستان میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کا اسپانسر پیپسی کمپنی ہے جو آئی سی سی کا بھی اسپانسر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر پاکستانی کھلاڑی آئی سی سی کے اشتہاری معاہدے پر دستخط کردیں تو انہیں کوئی مالی نقصان نہیں ہوگا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینیجر یاور سعید کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو کاغذات دے دیے گئے ہیں اور اگلے چند دنوں میں وہ ان اشتہاری معاہدوں پر دستخط کرنے والے ہیں۔ ابھی پاکستانی کھلاڑی مراکش میں ہیں اور وہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن قمر احمد کے بقول کچھ پاکستانی کھلاڑی بھی آئی سی سی کے اشتہاری معاہدے سے اتفاق نہیں کرتے۔
دہلی میں پریس ٹرسٹ آف انڈیا خبررساں ایجنسی کے اسپورٹس ایڈیٹر جگن ناتھ راؤ کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے معاہدے سے صرف بڑے بڑے کھلاڑیوں کا ہی نقصان نہیں ہوگا۔ ان کے الفاظ میں: ’ نئے کھلاڑیوں پر بھی اس معاہدے کے دوررس اثرات ہونگے۔ ان کھلاڑیوں کے کیریئر کا ابھی آغاز ہی ہے اور آنے والے دنوں میں انہیں کافی مالی نقصان ہوسکتا ہے۔‘
مسٹر راؤ کا خیال ہے کہ بڑے بڑے تجاری ادارے ایمبُش مارکیٹِنگ یعنی قاتلانہ اشتہاری حربوں کا استعمال کررہے ہیں۔ ’فُٹ بال اور دولت مشترکہ کے کھیلوں میں اس طرح کے اشتہاری حربے ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ آئی سی سی کے اس اشتہاری معاہدے کا کوئی جواز نہیں۔‘
سوال یہ ہے کہ کیا کھلاڑیوں اور آئی سی سی کے مابین کوئی سمجھوتہ ممکن ہے؟ کرکٹ کے ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر کوئی کرکٹ بورڈ چاہے تو آئی سی سی کے معاہدے پر دستخط کرکے ایک ایسی ٹیم تشکیل دے سکتا ہے جس میں وہ کھلاڑی شامل نہیں ہوں جنہیں مالی نقصان کا سامنا ہے۔
تو کیا اگر سچِن تیندولکر جیسے بڑے کھلاڑی میدان میں نہیں اتریں تو شائقین کرکٹ کے مقابلے دیکھنے جائیں گے؟ صحافی قمر احمد کہتے ہیں: ’آئی سی سی کا موقف اخلاقی طور پر کمزرو ہے اور اس سے کرکٹ کی ساکھ متاثر ہوگی۔‘ |
|
 |