پاکستان آج فوجی حکومت کے سائے میں جمہوریت کی امیدوں کے ساتھ اپنا چھپنواں یوم آزادی منارہا ہے۔
پچپن سال پہلے چودہ اگست سن سینتالیس کو پاکستان نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق یوم آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں جنرل پرویز مشرف دارالحکومت اسلام آباد میں ایک جلسے سے خطاب کریں گے- ان تقریبات کے لئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جنرل مشرف جنّاح ایوینیو کے بجائے
جنرل مشرف پاکستانی آئین میں ترامیم کی آخری قسط کا اعلان کرسکتے ہیں
جہاں روایتی طور پر پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا رہا ہے، آج پارلیمان کے سامنے کنوینشن سینٹر میں پرچم کشائی کریں گے۔
حالیہ دنوں میں شدت پسند حملوں کی وجہ سے کنوینشن سینٹر کے آس پاس سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور تقریب کے دوران صرف سیاست دانوں، وزراء اور غیرملکی سفارتکاروں کے موجود ہونے کی امید ہے۔
یوم آزادی کی یہ تقریبات ایک ایسے وقت منائی جارہی ہیں جب پورے ملک میں سیاسی گہما گہمی ہے اور فوجی حکومت کے اقتدار پر کنٹرول کے باجود سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاریاں کررہی ہیں۔
کچھ سیاسی مبصرین کے مطابق جنرل مشرف اپنے خطاب کے دوران
امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد یہ پاکستان کا پہلا یوم آزادی ہے
پاکستانی آئین میں ترامیم کی آخری قسط کا اعلان کرسکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جنرل مشرف نے جن ترامیم کا اعلان کیا ہے ناقدین کے بقول ان کا مقصد اقتدار پر فوج کے کنٹرول کو مضبوط کرنا ہے۔
پچپن سال قبل برطانیہ سے آزادی کے بعد سے پاکستان سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار رہا ہے اور اس کی آزاد زندگی کا بیشتر حصہ فوجی آمروں کے سائے میں گذرا ہے۔
امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد یہ پاکستان کا پہلا یوم آزادی ہے اور ملک میں مذہبی شدت پسندوں اور ترقی پسند قوتوں کے مابین شدید بحث و مباحثے کا ماحول دیکھنے کو ملا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی تجربے سے گزر رہا ہے اور مذہبی انتہاپسندوں کی مخالفت کے درمیان نئی اقدار جنم لے رہی ہیں۔