 |
|
 |
|
| دل چیر کے دیکھو |
|
تحریر: احمد مبارک
پہلے پہل تو کچھ سمجھ نہیں آیا کرتا تھا کہ اپنی گلی سے گزرتے ہوئے یا اسکول جاتے ہوئے مجھ پر کیوں آوازے کسے جاتے ہیں۔ اور اکثر مجھ سے طاقتور لڑکے میرا راستہ روک لیتے ہیں اور ہاتھا پائی کرنے سے نہیں چوکتے۔ مجھے اسکول آتے جاتے یا کھیل کے میدان پہنچنے کے لیے راستے بدلنے پڑتے۔
جلد ہی مجھے پتا چل گیا کہ میرا تعلق ایک علیحدہ جماعت سے ہے جسے تنگ کرنا بالعموم کار ثواب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ایسا شدید نہیں تھا۔ میں جب بھی نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلتا تو وہیں راستے میں ایک چھوٹی سی مسجد پڑتی تھی جس کے مہتمم ایک مولانا تھے۔ ان کے ایک صاحبزادے میرے ساتھ ہاکی کھیلا کرتے۔ مولانا بہت پیار سے مجھے اپنی دکان میں بلا لیتے اور میرے مسلک پر بحث کرتے۔
ان کے پاس کتابوں کا ایک ذخیرہ تھا۔ میری عمر نو دس برس کی تھی اور یہ سب میرے لیے ایک عجیب تجربہ تھا- اس گفتگو میں زیادہ شدت کبھی نہ آتی بلکہ متانت اور سنجیدگی سے وہ میرے لیے ایسے نکات اٹھاتے کہ جس سے میں حضرت عیسیٰ کے دوبارہ اس دنیا میں آنے کی کوئی دلیل نہ دے سکوں۔
ان دنوں میں نے یہ بھی دیکھا کہ احمدیوں کے ہاں اگر جلسہ سیرت النبی منعقد ہوتا تو شہر بھر سے بہت سے لوگ عقیدے کے اختلاف کے باوجود اس میں خوشی سے شرکت کر کے ایک ساتھ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے اور بہت اپنائیت کا اظہار کرتے۔
ہمارے قصبے میں وہ عہد، وہ وقت بہت خوشگوار تھا۔ شادی بیاہ  |  |  |  | | | | | | | مجھے ایک ایسی پستی میں گرا دیا گیا جہاں سے تذلیل کی زندگی کا ایک تاریک دور شروع ہو گیا | | خوشی و غم ہر آدمی ہر گھر ایک دوسرے کا شریک تھا۔ یہ سن ستر کے اوائل کی بات ہے کہ اچانک ایک ایسی بھونچکا کر دینے والی سیاسی لہر اٹھی جس نے یکلخت میری ساری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور مجھے ایک نامعلوم خوف میں ساری زندگی کے لیے چھوڑ دیا۔ اس بے یقین سیاسی لہر کے سب کے سب پہلو ناقابل یقین تھے اور میں جو ایک عام شہری کی طرح سب لوگوں کے ساتھ برابری سے چل رہا تھا، ایک ایسی پستی میں گرا دیا گیا جہاں سے تذلیل کی زندگی کا ایک تاریک دور شروع ہو گیا۔
ستمبر انیس سو چوہتر کی سیاسی پارلیمان کے ایک فیصلے نے اپنے ملک کے ایک طبقے کو تمام تر انسانی حقوق کی برابری کی مراعتِ لازمی سے محروم کر دیا۔ میں پہلے اسکول و کالج میں قومی ترانہ اور حمد و نعت پڑھ سکتا تھا مگر اس کے بعد وہ میرے لیے شجر ممنوعہ ہو گئے۔ میں مقابلہ قرات میں حصہ نہیں لے سکتا تھا۔
دنیا کی جدید تاریخ میں شائد پہلی مرتبہ کسی آئین میں ایک پوری قوم یا فرقے یا جماعت سے اس کی مذہبی آزادی، اس کی شہری حقوق کی برابری چھین کر اسے بر سر عام دوسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا۔ یہ آئین کی دفعہ دو سو اٹھانوے۔سی تھی۔ یہ بات ہمیشہ بحث طلب رہے گی کہ کیا ایک ملک کی پارلیمان کو سیاسی وجوہ کی بنیاد پر اس قسم کی بے انصافی کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے؟
پھر وہ موسم دوبارہ لوٹ کر کبھی نہیں آئے، جب بات کہنے اور سننے کی رواداری اور کشادگی تو تھی۔ اسمبلی کے فیصلے کے ٹھیک ایک ماہ بعد ایک جلوس نکلا جس میں شائد ہی کوئی تعلیم یافتہ شخص ہو گا۔ اہل شرافت اس روز اپنے گھر میں بیٹھے رہے یا دور سے چھتوں اور چوباروں سے احمدیوں کے گھر اور دوکانیں جلنے کا منظر دیکھتے رہے۔ جلوس کے شرکاء کہہ رہے تھے کہ یہ احمدی لوگ ( نعوذ باللہ ) قرآن کو شہید کرتے ہیں۔ اور جلوس میں ایک ہندو بھی شامل تھا مگر ان کے کسی طور سےاسلام یا خدا یا رسول کی محبت کا اظہار نہیں ہوتا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ یہ لوگ محض لطف اٹھانے کے لیے یہ سب کر رہے ہیں۔
ہمارے پڑوس سے ذرا دور ایک احمدی کو گولی مارنے کے بعد  |  |  |  | | | | | | | ایک بےحد عزیز ساتھی نے سڑک پر سے گزرتے ہوئے سرگوشی کی کہ دیکھو میں چپکے سے کبھی تمہیں مل سکوں گا | | ہمارے پڑوس کے گھر پر زبردست خشت باری ہو رہی تھی کہ اچانک ایک واقعہ ہوا۔ جونہی جلوس ہمارے گھر کے سامنے پہنچا، ایک درد مند شخص لپک کر ہمارے دروازے پر کھڑا ہو گیا اور کہا کہ خدا کے لیے یہ میرے دوست کا گھر ہے اسے چھوڑ دو۔ نہ جانے کس رو میں مجمع آگے کو روانہ ہو گیا۔ وقت بھی آگے کو روانہ ہوا۔ دوست ملنے سے کترانے لگے۔ ایک بےحد عزیز ساتھی نے سڑک پر سے گزرتے ہوئے سرگوشی کی کہ دیکھو میں چپکے سے کبھی تمہیں مل سکوں گا۔ لیکن مجھے اب براہ راست مت ملنا، میرے لیے بہت مشکل ہو جائے گی۔
کھیل کا میدان کم و بیش چھوٹ گیا۔ پھر ایک روز ایک اور عجیب واقعہ ہوا۔ عین جمعہ کے خطبہ کے دوران چند پرانے دوست میری تلاش میں ہماری مسجد جسے اب ہماری عبادت گاہ کہتے ہیں وہاں پہنچے۔ ہم لوگ حیران بھی ہوئے اور گھبرائے بھی لیکن انہوں نے مجھے باغ باغ کر دیا۔ دوسرے شہر سے فٹبال کی ایک سخت ٹیم آئی ہوئی تھی، وہ مجھے اپنے ساتھ کھلانا چاہتے تھے۔ میں فٹبال کے میدان پہنچا تو حیرانی میری منتظر تھی۔ تمام کھلاڑی مجھ سے بغلگیر ہو گئے۔ دوبارہ وصل کی کیفیت نے مجھ میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کر دیا۔ خوب کھیل ہوا اور ہم جیت گئے۔ ظاہر ہے میرا کھیل اس روز قابل دید تھا۔
میرے والد کے انتقال پر سبھی لوگ آئے، جو نہیں آئے انہوں نے بعد میں فون پر تعزیت کی اور بتایا کہ چونکہ مولوی کے پاس ایک طرح سے قسم کھائی تھی نہ ملنے کی، لہذا مجبور سمجھنا۔ ان میں سے دو ایک فون تو گہری افسردگی لیے ہوئے تھے۔
سن چوہتر کے بعد زندگی دھیرے دھیرے اسی ملنے جلنے کی دلنواز سرخوشی کی  |  |  |  | | | | | | | ایک شادی میں احمدی کے برتن چھونے پر تمام برتن توڑ دیے گئے | | طرف چل رہی تھی کہ اچانک اپریل سن انیس سو چوراسی آ گیا۔ ضیا الحق کے آرڈیننس نے ایسی تاریکی بچھا دی اور وہ روشنی جو انسان کے قلب سے نکلتی تھی اسے بجھانے کی ہر ممکن کوشش ہونے لگی۔ ایک ساتھ کھانا پینا تو کجا ہاتھ ملانا بھی جرم ٹھہرا- اور ہم جو اب ایک دوسرے کے ہاں شادیوں پر بڑھ چڑھ کر انتظامات میں حصہ لیتے تھے، سن چوراسی کے اس واقعے کے بعد پھر اجنبی ہو گۓ جب ایک شادی میں جب احمدی کے برتن چھونے پر تمام برتن توڑ دیے گئے -
لیکن میرے ایک دلیر ہم جماعت نے نہ صرف مجھے شادی میں بلایا بلکہ ساتھ بٹھایا اور ایک شخص کے اعتراض پر اسے کہا کہ شادی میری ہو رہی ہے یا تمہاری۔ میں جسے چاہوں گا بلاؤں گا اور پوری تکریم سے پیش آؤں گا۔
ایک شاعر دوست کے لیے مضمون پڑھتے ہوئے ’غار حرا ‘ کو انسانی تنہائی کی معراج کے طور پر بیان کرنے سے ایک صاحب شدید غصے میں آ گئے کہ آپ کو یہ لفظ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
مجھے اس وقت حیرت نہیں ہوتی جب کوئی عام آدمی کوئی اذیت پہنچاتا ہے، حیرت اسی وقت ہوتی ہے جب ایک پڑھا لکھا بظاہر گداز دوست جس کی مذہب پر بھی نگاہ ہوتی ہے وہ اظہار نفرت کرتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ تیس برس ہونے کو آئے مجھے اپنے دفاع میں کچھ کہنے کا حق حاصل نہیں۔ میرا جو عقیدہ ہے میں اسے کسی کو بیان نہیں کر سکتا۔
میرے ملک کا آئین مجھے کلمہ، نماز، روزہ، زکواۃ اور حج سے منع کرتا ہے۔ اذان دینے یا سلام کا جواب دینے پر گرفتار کر سکتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے، ان کا نام لینے سے اس کی دل آزاری ہوتی ہے۔
اور وہ جن کے سینے میرے لیے کشادہ اور جن کی آنکھ میرے  |  |  |  | | | | | | | نگاہ عشق و مستی میں تمام اجزاء وہی ہیں | | انسانی حقوق کی پامالی پر پُرنم، وہ جن کے دلوں میں خدا ہے وہیں ان کے دلوں میں مجھ ایسے ہزاروں لاکھوں کے لیے جذبہ یگانگت ہے۔ ان کے اسی اخلاق نے مجھے مایوس نہیں ہونے دیا۔
وہ وقت بھی ضرور آئے گا جب مجھے کہنے دیا جائے گا کہ ہم بھی مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کی طرح ایک فرقہ ہیں اور میرے تمام بنیادی عقائد بالکل وہی ہیں جو دوسرے مسلمانوں کے ہیں۔ اس میں سَرمُو کوئی فرق نہیں۔
نگاہ عشق و مستی میں تمام اجزاء وہی ہیں۔ دل اسی ممبر و محراب سے لپٹے ہوئے ہیں۔ مجھے اجازت دی جائے کہ میرا دل چیر کے دیکھا جا سکے۔ |
|
 |