مائی سیدا کی کہانی: مائی سیدا کا اصلی نام کسی کو نہیں معلوم۔ اس کے متعلق صرف اتنا پتا ہے کہ وہ لاہور میں رہنے والی ایک ہندو عورت تھی جو قیامِ پاکستان کے وقت اپنے خاندان کے ساتھ بھارت نہیں گئی بلکہ یہیں رک گئی اور ایک مسلمان سے شادی کر کے مسلمان ہو گئی۔ لیکن 1974 کو اس پر ایک نیا انکشاف ہوا کہ وہ مسلمان نہیں رہی۔ ایک نئے قانون کے تحت وہ اور اسکا شوہر دونوں غیر مسلم قرار دیے گئے۔ اسنے ایک احمدی سے شادی کی تھی۔
مائی سیدا کے شوہر کے انتقال کو عرصہ گزر چکا ہے۔ چند سال قبل لاہور کے علاقے گوالمنڈی کے ایک اسکول میں ایک لمبے عرصے تک آیا رہنے کے بعد مائی سیدا بھی انتقال کر گئی لیکن اپنے پیچھے اپنے عقیدے کی نامکمل کہانی چھوڑ گئی۔
احمدی فرقے کے متعلق لکھتے ہوئے ہر بات عجیب سی لگتی ہے۔ مثلاً پاکستان میں رہنے والا کوئی احمدی حج کرنے نہیں جا سکتا کیونکہ آئینی طور پر وہ مسلمان نہیں اور یہی اس کے پاسپورٹ پر لکھا ہوتا ہے لیکن اگر یہی احمدی کسی اور ملک جا بسے تو وہ یہ مذہبی فریضہ بڑے اطمینان سے بلا خوف و خطر ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ یا تو پاسپورٹ پر اسے مسلمان لکھا ہو گا یا صرف اس ملک کا شہری۔
پاکستان میں کتنے احمدی رہتے ہیں یہ کہنا مشکل ہے۔ احمدی اپنی تعداد تیس لاکھ سے زائد بتاتے ہیں لیکن سرکاری طور اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تعداد جتنی بھی ہو پاکستان کے احمدی اس لحاظ سے بہت مجبور ہیں کہ معاشرتی اور معاشی طور پر آسودہ حالات کے باوجود ان لوگوں کا عقیدے کے لحاظ سے پاکستان میں سب سے زیادہ استحصال ہوا ہے۔
پاکستان بننے کے اوئل میں ایسا نہ تھا۔ اس وقت احمدی پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے حتٰی کہ قائد اعظم نے باؤنڈری کمیشن میں سر ظفر اللہ کو، جو کہ ایک احمدی تھے، وکیل مقرر کیا۔ بعد میں وہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ بنے، سائنس میں نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام، اقتصادیات میں ایم ایم احمد، فوج میں افتخار جنجوعہ، اختر ملک، عبدالعلی ملک جنرلوں کے عہدوں پر پہنچے اور سول سروس میں احمدی کئی اعلیٰ عہدوں پر فائذ رہے۔ اس سے قبل چند مذہبی حلقوں کی مخالفت کے باوجود احمدی فرقے کو بھی مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ سمجھا جاتا رہا۔
احمدیوں کے خلاف پہلا پرتشدد مظاہرہ 1953 میں لاہور میں ہوا جس میں چند مذہبی جماعتوں نے اکٹھے ہو کر مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو کافر قرار دیا جائے۔ واقعہ کی تحقیقات اعلیٰ سطح پر دو ججوں نے کی اور آخر میں یہ نتیجہ
ربوہ کا لنگر خانہ
نکالا گیا کہ مذہبی لیڈروں نے حالات کا فائدہ اٹھا کر عوام کو مشتعل کیا تھا۔ اس کے بعد 1970 تک کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ 1970 میں احمدیوں کے خلاف تشدد نے پھر سر اٹھایا اور یہ تشدد اتنا بڑھ گیا کہ 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کو ایک آئینی ترمیم کرنی پڑی جس میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ انہیں کانفرنس اور جلسے منعقد کرنے سے منع کر دیا گیا اور اس طرح سرکاری سرپرستی میں احمدیوں کے خلاف مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم کا دور شروع ہو گیا۔ ہزاروں افراد نے اس سے بچنے کے لیئے مغربی ملکوں میں پناہ لے لی۔
راجہ غالب احمد، سیکریٹری جماعت احمدیہ، پنجاب کہتے ہیں کہ 1953 کے بعد استحصال کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیئے مذہب کا استعمال بڑھتا گیا۔
انہوں نے کہا: ’ہمارے ساتھ چونکہ پہلے بھی اچھا برتاؤ نہیں کیا جاتا تھا اسلیئے ہم آسان ٹارگٹ تھے۔‘
1982 میں پاکستان پینل کوڈ میں سیکشن 295 بی کی شق متعارف کرائی گئی اور 1984 میں 298 سی، جس میں احمدیوں کو اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے منع کر دیا گیا اور 1986 میں ایک اور ترمیم 295 سی کے ذریعے توہینِ رسالت کے مجرم کے لیئے سزائے موت مقرر کر دی گئی۔ اس کے بعد پاکستانی معاشرے میں نئی نئی چیزوں نے جم لینا شروع کر دیا۔ ان میں سب سے واضح پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے فارموں کے خانے ہیں جن میں ہر شہری کو اس بات کا حلفیہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ مسلم ہے یا غیر مسلم۔ پاسپورٹ کے فارم پر تو یہ بھی لکھنا پڑتا ہے کہ میں حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک ’جعلی نبی‘ ہیں اور ان کے ماننے والے غیر مسلم ہیں۔
اگر کوئی احمدی پاسپورٹ کے لیئے فارم پر کرتا ہے تو اسے یا تو اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرنا پڑتا ہے یا اپنے عقیدے سے انحراف کے لیئے اسکے بانی کو جعلی یا بہروپیا کہنا پڑتا ہے۔ دونوں ہی صورتیں اس کے لیئے مشکل ہیں۔
غالب کہتے ہیں: ’ہمارا کوئی اور مذہب نہیں ہے۔ اگر آپ مجھے مذہب کے کالم میں کچھ لکھنے کے لیئے دیں گے تو میں وہ ہی لکھوں گا جو میں ہوں۔ اگر آپ آئینی طور پر مجھے مسلمان نہیں سمجھتے تو آپ کی مرضی۔‘
1974 کے بعد سے احمدیوں کو اپنی سب چیزیں الگ کرنا پڑیں۔ وہ اپنی مساجد کو مساجد نہیں کہہ سکتے، مساجد کی طرح نہیں بنا سکتے اور یہاں تک کہ چند سال پہلے جو قبرستان اکٹھے تھے وہ بھی جدا جدا ہو گئے۔ کئی جگہ پر اس بات پر مسئلہ کھڑا ہو گیا کہ جو لوگ پہلے قبرستان میں دفن تھے وہ اب کہاں جائیں۔
ربوہ (موجودہ چناب نگر) میں احمدیہ برادری کے چودھری حمید اللہ کہتے ہیں کہ ہر فرقے کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے صرف احمدیوں کو نہیں۔
’ہم تو احمدی کو مرحوم بھی نہیں کہہ سکتے، اسے آنجہانی
احمدیوں کے خلاف نفرت کا اظہار اکثر ہوتا رہتا ہے
لکھنا پڑتا ہے۔ مسجد کا گنبد نہیں بنا سکتے۔ قربانی کریں تو تب فساد عید پڑھیں تو تب۔ بات یہاں تک ہوئی کہ ہم میں سے کئی لوگوں کے نام محمد صادق کیوں ہیں۔توہینِ مذہب یا بلاسفیمی لاء سے سب سے زیادہ احمدیوں کو نقصان پہنچا ہے۔‘
پاکستان کے آئین کی شق 16 کے مطابق ہر کسی کو آزادی ہے کہ وہ جہاں چاہے کسی اجتماع میں شریک ہو سکتا ہے۔
صدر انجمن احمدیہ پاکستان مرزا خورشید احمد کہتے ہیں کہ ہماری جماعت کو تو یہ حق بھی نہیں کہ اکٹھے ہو کر کوئی جلسہ یا تقریب کر سکیں۔ ’یہ بات تو انسانی حقوق کی بنیادی باتوں میں سے ہے۔‘
احمدی جماعت کا پہلا جلسہ 1891 میں ہوا تھا اور ان کا پاکستان میں آخری جلسہ 1983 میں ہوا۔
خورشید احمد نے کہا کہ ہمارا یہ حق صرف محدود ہی نہیں کیا گیا بلکہ چھین ہی لیا گیا۔
ایک غیر سرکاری رپورٹ کے مطابق 1984 سے 2001 تک مختلف واقعات میں 63 احمدی قتل کیے جا چکے ہیں اور ان پر چھوٹے بڑے کل ملا کر 3266 مقدمے درج ہوئے ہیں جن میں سے چند قابلِ غور ہیں۔
’عنوان ۔ اندیشہ نقص امن۔
... ہمارے علم میں لایا گیا ہے کہ انجمنِ احمدیہ کی جانب سے ربوہ شہر میں کھیلوں کے مقابلے منعقد ہو رہے ہیں جس پر کافی لوگ معترض ہیں۔ اس طرح نقصِ امن کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس طرح شدید خطرۂ نقصِ امن کے پیشِ نظر مقابلہ جات کو بند کرا دیا جائے۔...
1994-2-10 مجسٹریٹ درجہ اول، ربوہ‘
ملاحظہ ہے 89-12-15 کو تھانہ ربوہ میں کاٹی گئی ایک ایف آئی آر یا فرسٹ انفارمیشن رپورٹ۔
’...مرزائیوں نے اس پابندی کے باوجود اپنی قبروں۔ عمارات۔ دفاتر۔ جماعت احمدیہ عبادت گاہوں۔کاروباری مراکز وغیرہ پر کلمہ طیبہ اور دیگر قرآنی آیات تحریر کی ہوئی ہیں۔ مزید یہ کہ وہ آئے دن مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو قادیانیت کی تبلیغ کرتے ہیں جسمیں جان بوجھ کر مسلمانوں کو السلام علیکم کہہ دینا۔ اذانِ فجر کے اوقات میں ٹولیوں کی صورت میں با آواز بلند شہر میں کلمہ طیبہ پڑھنا اور دیگر ... قسم کی اسلامی حرکات کا اعادہ کرتے ہیں۔‘
1989-03-21 کو ایک آرڈر کے تحت احمدیوں کو ان کی جماعت کی صد سالہ تقریبات منعقد کرنے سے اس لیئے روک دیا گیا کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو سکتے۔ اس آرڈر میں جو پابندیاں لگائی گئی تھیں ان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ احمدی مٹھائیاں تقسیم نہیں کر سکتے، چراغاں نہیں کر سکتے، اور جھنڈیاں نہیں لگا سکتے، اور انہیں بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی بھی ایسی بات سے منع کر دیا گیا ہے جس سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات مجروح ہو سکتے ہیں۔ ایسی بہت سی اور مثالیں ہیں۔
ان مثالوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ احمدی عقیدے کا ہر معاشرتی عمل نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر سکتا ہے بلکہ نقصِ امن کا باعث بن سکتا ہے۔