BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 04:20 - 30/07/2002
پاکستان: بھارتی ٹی وی پھرشروع
بھارتی فلم چینل پاکستان میں کافی مقبول ہیں
بھارتی فلم چینل پاکستان میں کافی مقبول ہیں

تحریر : علی سلمان

پاکستان میں کیبل آپریٹرز نے حکومت کی اجازت کے بغیر ایک بار پھر بھارتی چینل دکھانے شروع کر دیے ہیں۔ کیبل پر بھارتی چینلز کی بھر مار ہو گئی ہے تاہم کیبل آپریٹروں کی یہ خلاف ورزی صرف تفریحی چینلوں تک محدود ہے جبکہ نیوز چینل بدستور بند ہیں۔

کیبل آپریٹرز پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ماپنے کا پیمانہ بھی بن گئے ہیں۔ جیسے جیسے کشیدگی کم ہو تی جارہی ہے کیبل پر بھارتی چینلز کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے۔

پاکستان میں کیبل پر بھارتی چینلوں کا آغاز سٹار ٹی وی دکھاۓ جانے سے ہوا۔اور پھر ملکوں کے دو طرفہ معاملات جیسے جیسے نسبتاَ بہتری کی طرف جانا شروع ہوۓ کیبل پر بھارتی چینلوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ سٹار ٹی وی کے بعد سٹار گولڈ (پرانی فلموں کا چینل) ، بی فور یو (میوزک )، بی فور یو (مووی)، سٹار پلس، زی سینما و دیگر فلمی چینل اور ساتھ ساتھ سی ڈی پر بھارتی فلمیں دکھائی جانے لگی ہیں۔

زی انڈیا ٹی وی اور دور درشن فی الحال تو شجر ممنوعہ ہیں۔ ان کی باری شائد اس وقت ہی آۓ گی جب نواز شریف دور کی چلی دوستی بس سروس بحال ہوگی، معاملات دشمنی سے نکل کر دوستانہ اقدامات کے طرف جائیں گے اور ان چینلز پر بھی پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ ختم ہو جاۓ گا۔ فی الحال صورتحال یہ ہے کہ کیبل آپریٹر فحش فلمیں چلانے کاخطرہ مول لے لیتے ہیں لیکن بھارتی نیوز چینل نہیں چلاتے۔

دسمبر میں بھارت میں پی ٹی وی کے چینلوں پر پابندی کے بعد حکومت پاکستان نے بھی کیبل آپریٹرز کو سختی سے پابند کیا تھا کہ وہ بھارتی اور سٹار ٹی وی کے کوئی چینل نہ دکھائیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں بڑی حد تک مذکورہ چینل بند ہوگئے لیکن دیگر شہرں میں پابندی کو خاطر میں نہ لایا گیا۔ اسی دوران پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ ہوا، کیبل آپریٹروں کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے ،لاکھوں کے جرمانے ہوۓ ،بڑے شہروں میں بھارتں چینل بند ہو گئے۔چھوٹوں میں عارضی بندش آئی لیکن بھارتی نیوز چینل مکمل بند ہوگئے۔کئی ماہ پابندی پر عملدرآمد جاری رہا ۔اب سےایک ڈیڑھ ماہ قبل عارضی طور پرجنگ کا خطرہ ٹلا توپاکستان کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن نے پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کردیا جس کے بعد کیبل آپریٹروں نے ایک ایک کرکے بھارتی چینل دکھانا شروع کردیے۔

پابندی پر عملدرآمد کی ذمے دار پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی” پمرا” بظاہر اس پابندی کے لیے سختی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہی۔ پولیس نے بھی اس طرف سے آنکھ بند کر رکھی ہے۔ لاہور کے ایک غیر رجسٹرڈ کیبل آپریٹر نے بتایا کہ اس نے پولیس کے مقامی سرکل افسر کو 10 ہزار بطور رشوت پہنچاۓ اور بھارتی چینل شروع کر دیے۔ پابندی زیادہ موثر نہ ہونے کی ایک وجہ غیر رجسٹرڈ کیبل آپریٹروں کی بھرمار ہے۔

تاہم ایک بات یقینی ہے کہ اگر ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس صورت میں کیبل آپریٹروں کی کمبختی ضرور آۓگی اور اگر کمی ہوئی تو کیبل پر بھارتی چینلوں میں اضافہ ہوتا جاۓ گا ۔

دشمن پرستار
پاکستانیوں کی اکثریت ایک طرف تو بھارتی ہندوؤں اور حکومت کے خلاف شدید جذبات رکھتی ہے تو دوسری طرف بھارتی فلموں،گانوں اور تفریحی چینلوں کی دلدادہ بھی ہے ۔ان کی راۓ میں بھارتی برے لیکن ان کی فلمیں اور چینل اچھے ہیں ۔وہ بھارت سے ہر میدان میں دشمنی نبھانے سے نہیں گھبراتے لیکن بھارتی فلمیں اور چینل دیکھنا نہیں چھوڑ سکتے۔

اس کی گواہی پاکستان کیبل آپریٹر ایسوسی ایشن نے بھی دی تھی اور پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ ”بھارتی چینلوں پر پاپندی سے ان کے آمدنی 200 روپے فی صارف سے کم ہو کر 50 روپے فی صارف ہوگئی تھی اور اس پابندی پر طویل عرصہ تک عملدرآمد کی صورت میں اس کاروبار سے وابستہ 3 لاکھ افراد کے بے روزگار ہو جا نے کاخدشہ تھا۔”

یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی نوجوان نسل کو بھارتی چینل باقیوں کے مقابلے میں زیادہ پسند ہیں، خاص طور پر خواتین کیبل پر کچھ اور نہیں دیکھنا چاہتیں۔ ایک کیبل آپریٹر نے بتایا کہ بھارتی چینل شروع کرنے کے لیے ان پر سب سے زیادہ دباؤ خواتین کا تھا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بے شمار گھرانوں نے خواتین کے کہنے پر ان کی سروس بند کروادی تھی۔ ایسے متعدد گاہک چھٹ جانے کے بعد انہوں نے بھی بھارتی چینل شروع کر دیے ہیں اور روٹھےصارف واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔

جھنگ کی ایک نو عمر لڑکی ثنا سید بخاری خدا کا شکر ادا کرتی ہیں کہ بھارتی چینل بحال ہوۓ۔ وہ اس بندش سے بوریت کا شکار ہوگئی تھیں۔ ان کی راۓ ہے کہ پاکستان اور بھارت کشیدگی سے ان چینلز کا کوئی تعلق نہیں ہے، یہ تو محض تفریح کا ایک ذریعہ ہیں۔ انہیں سٹار پلس کے تمام ڈرامے بہت پسند ہیں خاص طور پرڈرامہ سیریل ”کسوٹی زندگی کی ”کی اقساط کا انہں شدت سے انتظار رہتا ہے ۔

بہر حال ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بھارتی چینلوں کے مخالف ہے۔ایک کیبل آپرئٹر کے مطابق ایسے لوگ متعلقہ حکام کو شکائت کر دیتے ہیں اور ان کے لیے پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ جواباٌ ایسےصارف کا علم ہونے پر اس کی سروس عارضی طور پر خم کر دیتے ہیں یا اس کی ٹرانسمشن میں گڑبڑ شروع کر دیتے ہیں۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright