 |
|
 |
|
| پاکستانی فلمیں: کب کیا کیسے ہوا |

فلم کے لئے نور جہان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں
|
تحریر: ساجد اقبال، بی بی سی اردو آن لائن
اگرچہ پاکستان کی فلمی صنعت آج کل بحران کا شکار ہے لیکن پانچ دہائیوں پر پھیلی ہوئی اس کی تاریخ میں کئی تاریخیں ایسی بھی آئیں جن پر فلمی صنعت سے وابستہ ہر کوئی بجا طور پر فخر کر سکتا ہے۔
ذیل میں انہیں تاریخوں کا ذکر کیا گیا ہے:-
٭ دو اگست سن انیس سو اڑتالیس: پاکستان کی تاریخ کی پہلی فلم تیری یاد لاہور کے پربھات سینما پر ریلیز ہوئی۔ فلم ساز دیوان سرداری لعل کی اس فلم میں ہدایات دی تھیں داؤد چاند نے اور موسیقار تھے ناتھ جبکہ آشا پوسلے اور ناصر خان مرکزی رول میں نظر آئے۔
٭ انتیس اپریل سن انیس سو پچاس: نور جہان کی پنجابی فلم چن وے ریلیز ہوئی۔ یہ کسی خاتون کی ہدایت میں بننے والی پہلی پاکستانی فلم تھی۔ اس کا سکرپٹ ڈرامہ انارکلی کے خالق سید امتیاز علی تاج نے لکھا تھاجبکہ موسیقی فیروز نظامی نے دی تھی۔ اس فلم کا گانا منڈیا سیالکوٹیا کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔
٭ تین جون سن انیس سو چون کو ریلیز ہونے والی فلم سسی وہ پہلی فلم تھی جس نے باکس آفس پر پچاس ہفتے تک کامیابی سے چلنے پر گولڈن جوبلی مکمل کی۔ اس فلم کے ہدایت کار تھے داؤد چاند جبکہ موسیقی با با جی اے چشتی نے دی تھی۔
٭ پچیس مئی سن انیس سو انچاس کو ریلیز ہونے والی فلم جاگو ہوا سویرا فیض احمد فیض کے سکرپٹ اور گانوں کے باوجود باکس آفس پر بری طرح ناکام ہوئی۔ اس فلم کے ہدایت کار تھے اے جے کاردار۔
٭ پانچ جنوری سن انیس سو باسٹھ کو فلسطین کی جنگ آزادی کی موضوع پر بننے والی فلم شہید ریلیز ہوئی۔ اس فلم کا سکرپٹ لکھا تھا ریاض شاہد نے، ہدایات دی تھیں خلیل قیصر نےجبکہ موسیقی رشید عطرے نے ترتیب دی تھی ۔ منیر نیازی کا لکھا ہوا گانا ’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘ بہت مشہور ہوا۔
٭ اٹھارہ مارچ سن انیس سو چھیاسٹھ کو فلم ارمان کی ریلیز کے ساتھ ہی رومانوی فلموں کا رواج ہوا۔ چاکلیٹ ہیرو وحید مراد کی زیر ہدایت بننے والی اس فلم نے باکس آفس پر پچھتر ہفتے مکمل کر کے پلاٹینم جوبلی مکمل کی۔
٭ تین جنوری سن انیس سو انہتر کو پاکستان کی پہلی ’صرف بالغوں کے لئے‘ فلم نیلا پربت ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز اور ہدایت کار تھے احمد بشیر، جبکہ موسیقی پیا رنگ قادر نے دی تھی۔
٭ سترہ اکتوبر سن انیس سو انہتر کو فلم ساز اور ہدایت کار ریاض شاہد کی فلم زرقا ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے ریلیز ہونے کے چار دن بعد ہی انہوں نے مشرق وسطیٰ میں اس فلم کے حقوق فلسطینی شدت پسند تنظیم الفتح کو دینے کی پیش کش کر دی جس کی کارروائیاں اس فلم کا مرکزی موضوع تھیں۔ حبیب جالب کا لکھا ہوا گانا رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے بہت مقبول ہوا۔
٭دو سمبر سن انیس سو چھہتر کو پاکستان میں بننے والی پہلی انگریزی فلم ’بیونڈ دی لاسٹ مونٹین‘ ریلیز ہوئی۔ اس کے اردو روپ ’مسافر‘ کو باکس آفس پر خاصی پذیرائی نصیب ہوئی۔ اس فلم کے ہدایت کار تھے جاوید جبار جبکہ موسیقی سہیل رانا نے ترتیب دی تھی اور گانے عبید اللہ علیم نے لکھے تھے۔
٭ اٹھارہ مارچ سن انیس سو ستتر کو اپنے دور کی کامیاب ترین فلم آئینہ ریلیز ہوئی۔ کاشف فلمز کی اس فلم کے فلم ساز تھے اے آر شمسی جبکہ ہدایات دی تھیں نذرالاسلام نے۔ ستاروں میں شامل تھے ندیم، شبنم اور قوی خان۔
٭ گیارہ فروری سن انیس سو اناسی کو شہرائے آفاق پنجابی فلم مولا جٹ ریلیز ہوئی اور اس کے ساتھ ہی سلطان راہی کی کامیابی کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہوا جو سن انیس سو چھیانوے میں ان کی موت تک جاری رہا۔
٭ سات جون سن انیس سو نوے کو ڈانس، جنس اور مذہب کے فارمولے کے تحت بننے والی فلم انٹرنیشنل گوریلے ریلیز ہوئی جس میں سلمان رشدی کے کردار کو پیش کیا گیا۔
٭ سترہ ستمبر سن انیس سو پچانوے کو سید نور کی فلم جیوا ریلیز ہوئی جو ان فلم بینوں کو سینما گھروں کی طرف واپس لائی جو وڈیو کے رواج پانے کے بعد سے سنیماؤں سے دور ہو چکے تھے۔ ریشم اور بابر علی نے اس فلم میں مرکزی کردار ادا کئے۔
٭ انیس جولائی سن دو ہزار دو کو جاوید شیخ کی فلم یہ دل آپ کا ہوا ریلیز ہوئی۔ پانچ کروڑ کی لاگت سے بننے والی یہ فلم پاکستان کی تاریخ کی مہنگی ترین فلم سمجھی جا رہی ہے۔ ثناء اور معمر رانا سپین اور سویٹزرلینڈ کی خوبصورت لوکیشنز پر بننے والی اس فلم میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ |
|
 |