 |
|
 |
|
| ڈاؤجونز: اِسلامی انڈیکس |

اسلامِک ڈاٹ کام اسلامی بینکاری کو فروغ دیتا ہے
|
تحریر: طفیل احمد، بی بی سی اردو آن لائن
مغربی دنیا میں اسلامی بینکاری کی مقبولیت کے ساتھ ہی ڈاؤجونز اینڈ کمپنی نے 1862 حصص پر مشتمل اسلامِک انڈیکس شروع کیا جس کی عالمی بازار میں قیمت تقریبا 110 کھرب ڈالر ہے۔
ڈاؤ جونز اسلامِک انڈیکس سے 34 ممالک میں شرعی اصولوں کی پابند کمپنیوں کے ان 1862 اسٹاکس سے اسلامی بینکاری کو فروغ ملا ہے۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر اب بھی سرمایہ کاری، بینکاری اور کمپنیوں کے مابین بزنس سب سے زیادہ مقبول ڈاؤ جونز انڈیکس پر منحصر ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اسٹاکس کی خرید و فروخت اور ان کی قیمت کا اندازہ سرمایہ کاروں کو مارکیٹ انڈیکس سے پتہ چلتا ہے۔
ڈاؤ جونز اسلامِک انڈیکس میں صرف اسلامی ملکوں کی ہی کمپنیاں شامل نہیں ہیں بلکہ امریکہ اور دیگر غیراسلامی ملکوں کی کمپنیاں جو شرعی قوانین کی پابند ہیں اس میں شریک ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اس انڈیکس میں شامل کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے لوگ اس بات پر متعین ہوسکتے ہیں کہ ان کی رقم کسی ایسے طریق کار میں نہیں صرف ہورہی جس میں شرعی قوانین کی خلاف ورزی کا امکان ہو۔
ڈاؤ جونز اسلامِک انڈیکس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کو شرعی طرز عمل پر کام کرنے والی کمپنیوں اور غیراسلامی طرز کی کمپنیوں کی کارکردگی کا موازنہ کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر اسلامِک انڈیکس میں شامل کمپنیوں کے حصص کامیاب رہتے ہیں تو بینکاری اور بین الاقوامی اقتصادیات میں شرعی اصول مقبول ہونگے۔
ڈاؤ جونز اسلامِک انڈیکس بننے سے پہلے بھی ایسا ہوا ہے کہ مذہبی عقائد یا حقوق انسانی کی قدروں کا لحاظ رکھتے ہوئے سرمایہ کاروں نے کچھ خاص طرح کی کمپنیوں میں اپنا پیسہ نہیں لگایا۔
جیسے کچھ سرمایہ کاروں نے شراب اور سگریٹ بنانے والی کمپنیوں میں اپنا پیسہ لگانا مناسب نہیں سمجھا اسی طرح کئی سرمایہ کاروں نے جنوبی افریقہ میں نسل پرست حکومت کے دور میں کاروبار کرنے والی کمپنیوں کا بائیکاٹ کیا۔
ڈاؤ جونز اسلامِک انڈیکس میں ان کمپنیوں کے اسٹاکس شامل نہیں ہیں جو سگریٹ، شراب، سوّر کا گوشت اور ہتھیاروں کی خرید و فروخت کرتی ہیں۔ لیکن ہندوستان یا پاکستان سے کوئی بھی کمپنی ڈاؤ جونز اسلامِک انڈیکس میں شامل نہیں ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد اسلامِک انڈیکس میں کمی آئی لیکن اس طرح کی کمی دنیا بھر میں مقبول ڈاؤ جونس انڈیکس میں بھی نمایاں تھی۔ ڈاؤ جونز اسلامِک انڈیکس 1999میں شروع کیا گیا تھا۔
ڈاؤ جونز اسلامِک انڈیکس شرعی اصولوں کے ماہرین پر مشتمل ایک بورڈ کی نگرانی میں چلتا ہے۔ اس بورڈ کے ارکان میں پاکستان کے جسٹِس محمد تقی عثمانی، سعودی عرب کے ڈاکٹر محمد علی ایلغاری، امریکہ کے یوسف طلال دی۔لورینزو، بحرین کے شیخ نظام یعقوبی اور ملک شام کے ڈاکٹر عبدالستار ابوغودہ شامل ہیں۔
ڈاؤ جونز اسلامِک انڈیکس کے حامیوں کا خیال ہے کہ آنے والوں دنوں میں بین الاقوامی سطح پر بزنس اور بینکاری کے شرعی اصولوں کو پرکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں اسلامی بینکاری کو مغربی ملکوں میں مقبولیت ملی ہے۔ |
|
 |