BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  ہماری کھیلوں کی سائٹ
 
 
  احمد قریع، ہمہ جہت شخصیت
 
 
  کین کن میں کرنا کیا ہے؟
 
 
  شیرون کا دورۂ ہند
 
 
  ’غیرت‘ کے سات سو شکار
 
 
  قبائلی علاقوں کے بھوت اسکول
 
 
  مشرق وسطی میں طاقت کا نیا محور
 
 
  گیارہ ستمبر
آخری باتیں
 

جنگ عراق کا سچ جھوٹ
 

کراچی ساحل: زہریلی لہریں
 

موسیقی، فلم، ٹی وی ڈرامہ
 

دنیا ایک کلِک دور
 
 
 
:تازہ خبریں
 
میں غدار نہیں: مشرف
’القاعدہ اب بھی سرگرم ہے‘
اسامہ کی نئی وڈیو ٹیپ
’دراندازی بند کرائیں گے‘
سویڈش وزیر چل بسیں
جنس معلوم کرنےپرپابندی
بیمہ کمپنیاں القاعدہ پر مقدمہ کریں گی
یونان: پاکستانی ڈوب گئے
’نقشِہ راہ پر قائم ہیں‘
کراچی ساحل: پابندی برقرار
سامان میں انسان
بلوچستان: وزیر کے بھائی گرفتار
تعلقات مضبوط کرنےکی ضرورت: شیرون
لڑکا، امریکی فوجی ہلاک
بالی دھماکہ: موت کی سزا
گرینچ 18:10 - 13/06/2002
عبدالکلام: نیوزپیپربوائے، درویش، میزائیل مین
عبدالکلام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے
عبدالکلام کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے

تحریر: طفیل احمد
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ایک درویش صفت، شاعر، نامور سائنس دان اور ملک کے میزائیل اور ایٹمی پروگرام کے معمار سمجھے جاتے ہیں۔

اووُل پکیر زین العابدین عبدالکلام بحر ہند کے ساحل پر جنوبی ریاست تامل ناڈو کے شہر رامیشورم میں 15 اکتوبر 1931 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے شادی نہیں کی، انہیں موسیقی کا شوق ہے اور رُدر وینا ان کا پسندیدہ ساز ہے، اس کے علاوہ شاعری سے بھی شغف رکھتے ہیں، اور ان کی زندگی میں سیاست کا کوئی دخل نہیں ہے۔

کامیابی کے باوجود وہ اپنی تیس سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں شہرت سے دامن بچاتے رہے۔ لیکن 1998 میں پوکھرن میں کیے جانے والے ہندوستانی ایٹمی دھماکوں نے ان پر دنیا کی توجہ مرکوز کردی۔

اپنے خاندان میں وہ پہلے گریجویٹ ہیں، جبکہ ان کے بھائی بہن اسکول کی تعلیم بھی مکمل نہ کرسکے۔ ان کے بھائی نیوزپیپر اجینٹ تھے اور خود عبدالکلام اخبار پہنچانے کا کام بھی کرتے تھے۔ کون جانتا تھا کہ گدڑی کا یہ لعل ایک دن صدر جمہوریہ ہند کے عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گا؟

ملکی دفاع میں ان کا سب سے اہم کردار میزائیل پروگرام کی

پوکھرن ایٹمی تجربات
کامیابی ہے، لیکن فرصت کے اوقات میں وہ شاعری بھی کرتے ہیں۔ اپنی ایک نظم میں وہ رقم طراز ہیں: ’خواب ایک مضطرب ذہن میں پیدا ہوتے ہیں، ایک لہر جو ایک نئے نظام کو جنم دیتی ہے، ایک ایسا نظام جس میں طاقت بھی ہو اور بجلی کی گرج بھی۔‘

کون مانے گا کہ یہ ایک سائنس دان کے الفاظ ہیں؟ انہیں ایک شرمیلے اور خاموش رہنے والے لڑکے کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ عبدالکلام نے ابتدائی تعلیم رامانانتھاپورم کے شوارٹج ہائی اسکول میں حاصل کی، تیروچی کے سینٹ جوسیف کالج سے سائنس میں گریجویشن کیا، اور 1957 میں مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ایروناٹیکل انجنیرِنگ کی تعلیم حاصل کی۔

ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ہندوستان ایروناٹِکس لمیٹڈ سے شروع ہوا جہاں ان کی تربیت طیاروں کے انجن بنانے میں ہوئی۔ لیکن ہندوستان کا میزائیل پروگرام ان کی کامیابی کی وجہ مانا جاتا ہے۔

دفاعی تحقیق سے متعلق ادارے ڈیفِنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن میں انہوں نے 1958میں ملازمت شروع کی۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے 1982میں انہوں نے انٹیگریٹیڈ میزائیل ڈیولپمینٹ پروگرام کا آغاز کیا جس کے تحت پرِتھوی، تریشول، آکاش، ناگ اور اگنی جیسے میزائیلوں کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔

جب پوکھرن میں ایٹمی تجربات کیے گئے تو کہا گیا کہ ان کی تربیت امریکی خلائی ادارے ناسا (نیشنل ایروناٹِکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن) میں ہوئی ہے۔ بیرونی دنیا سے عبدالکلام کا صرف اتنا ہی تعلق ہے کہ انہوں نے ناسا میں چار ماہ تربیت حاصل کی تھی۔ ان کی باقی تعلیم و تربیت ہندوستان میں ہی ہوئی ہے۔

عبدالکلام گوشت نہیں کھاتے، قرآن اور گیتا کی تلاوت کرتے ہیں۔ اور ان کا خیال ہے کہ چین اور پاکستان جیسی دو ایٹمی قوتوں کے درمیان گھر کر کیا ہندوستان نیوکلیر طاقت اپنانے کے بجائے ’تپسیا‘ کرے؟ ہندوستان کی دائیں بازو کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ ان کے تعلقات نمایاں رہے ہیں۔

لیکن سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ عبدالکلام کے پاس کوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے جو صدارت کے عہدے کے لئے ضروری ہے۔ ان سے قبل صدارت کے عہدے پر فائز ہونے والے سبھی افراد سیاست کے میدان سے تعلق رکھتے تھے۔

عبدالکلام تیسرے مسلمان صدر ہونگے۔ اس سے قبل ڈاکٹر ذاکر حسین 1967 اور 1969 کے مابین اور فخرالدین علی احمد 1974 اور 1977 کے مابین صدر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ عبدالکلام ملک کے گیارہویں صدر ہونگے۔

عبدالکلام کو کئی یونیورسیٹیوں نے اعزازی اسناد سے نوازا ہے۔ وہ حکومت ہند کے پرِنسپل سائنٹفِک مشیر رہے ہیں۔ انہیں ملکی خدمات کے صلے میں اندرا گاندھی ایوارڈ برائے قومی یکجہتی، پدما ویبھوشن اور 1997میں ملک کے اعلی شہری اعزاز بھارت رتنا سے نوازا گیا۔

عبدالکلام کو ہندوستان کے خلائی، میزائیلی اور ایٹمی پروگرام میں نمایاں خدمات کے لئے جانا جائے گا۔ عبدالکلام کے تصور میں ٹیکنالوجی انسان کی خودکفالت کا محور ہے۔
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright